خیبر پختونخواعوام کی آواز

خیبرپختونخوا کے سرکاری افسران نے قلم چھوڑ ہڑتال شروع کردی

اٹیچڈ ڈیپارٹمنٹ آفیسرز ایسوسی ایشن نے اسمبلی چوک میں تنخواہوں میں فرق ختم کرنے کے حوالے سے ایک بار پھر قلم چھوڑ ہڑتال شروع کر دی آفیسرز نے لائیو سٹاک ڈائریکٹوریٹ سے اسمبلی تک احتجاجی ریلی نکالی اور اپنے دفاتر کو تالے لگا دیئے۔

خیبرپختونخوا کے اٹیچڈ ڈیپارٹمنٹ آفیسر ایسوسی ایشن کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری عطاء اللہ خان نے ٹی این این کو بتایا کہ تنخواہوں میں تفاوت کے خلاف ڈائریکٹریٹ اور اٹیچڈ ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین گزشتہ کئی ہفتوں سے سراپا احتجاج ہے مگر حکومت اُنکے مطالبات کو توجہ ہی نہیں دیتی۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سترہ سکیل پربھرتی ہونے والےتمام افسران پاکستان سول سروس ایکٹ 1973کےتحت بھرتی ہوئے ہیں جسکے تحت بھرتی کے بعد تمام افسران کی تنخواہیں ایک جیسی رہتی ہیں۔

مظاہرے میں مرد ملازمین کے ساتھ خواتین افسران نے بھی شرکت کی ہے۔ مظاہرین کو صوبائی اسمبلی تک بڑھنے کے خلاف پولیس کی ڈنڈا بردار نفری تعینات کی گئی ہے۔

ڈپٹی جنرل سیکرٹری عطاء اللہ نے سوال اُٹھاتے ہوئے کہا کہ دیگرتمام ملازمین کوپروفیشل، ٹیکنیکل،ایگزیکٹیو اور پلاننگ الاونس اورکئی مراعات مل جاتے ہیں لیکن اٹیچڈ محکموں کے ملازمین کو الاونسز ودیگرمراعات سےمحروم کیوں رکھا گیا ہے؟

عطاء اللہ نے کہا "صوبے میں تقریباً 17 ہزار افیسرز تعینات ہیں، ان میں سے 12 یا 13 ہزار افسران کی بنیادی تنخواہوں میں 150 فیصد اضافہ کیا گیا جبکہ ہمارا صرف 20 فیصد، اگر باقی تین چار ہزار کی تنخواہ بھی اسی طرز پر کی جائے تو کیا مسئلہ ہے”۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ پی ایم ایس، سیکرٹریٹ، انجینئرز، آئی ٹی اور پلاننگ کیڈر کی طرز پر ہمیں بھی تنخواہ دی جائے۔

عطاء اللہ نے کہا کہ "آفیسرز ایسوسی ایشن نے صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم کو مناظرے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ وہ آئیں اور ہمارے ساتھ بیٹھے اگر ہمارا مطالبہ غیرقانونی اور ناجائز ہوتو ہمیں قائل کرے ورنہ ہمارا مطالبہ تسلیم کیا جائے”۔

اٹیچد ڈپیارٹمنٹ ملازمین نے اس سے قبل بھی سات دن تک اپنی تنخواہوں کو 150 فیصد بڑھانے کیلئے احتجاجی مظاہرے کئے تھے جہاں پر پولیس کیجانب سے مرد اور خواتین کے اوپر لاٹھی چارج اور شیلنگ کی گئی تھی۔

محکمہ لائیو سٹاک کے ڈپٹی ڈائریکٹر جعفر خان نے ٹی این این کو بتایا کہ معلوم نہیں کہ صوبائی وزیر خزانہ کو تنخواہوں میں فرق کیوں نظر نہیں آ رہا ہے، انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ، اپوزیشن جماعتوں، صحافیوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز نے ہمارے مطالبات جائز قرار دیئے ہیں۔

جعفرخان نے کہا کہ  وہ اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں اگلی دفعہ بنی گالہ میں احتجاج کیا جائے گا۔

 

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button