اساتذہ امتحان کے حق میں، طلباء مخالف کیوں ؟

سیٹیزن جرنلسٹ سلمیٰ جہانگیر

‘کورونا وبا نے ہمارے  تعلیمی  سال کو بہت طویل کردیا تاہم اس کے باوجود  تعلیمی  کلینڈر وقت پر مکمل نہ ہوسکا  اور تعلیمی سال میں بار بار چھٹیوں کی وجہ سے ہمیں کورس مکمل نہیں پڑھایا گیا  جس کی وجہ سے  ہمیں تعلیم سال ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔ ‘

یہ کہنا ہے پشاور کے سرکاری سکول میں زیر تعلیم صفیہ کا  جو  اپنے  تعلیمی مستقبل کے بار ے میں  اور آنے والے امتحان  کے لئے بہت پریشان ہے  اور کہتی ہیں کہ جب  سکول میں کچھ پڑھایا گیا نہیں  تو امتحان  میں کیسے پاس ہوکر اگلے جماعت پروموٹ ہونگے تاہم دوسری جانب  سرکاری سکول  کی استانی  مس کرن اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہتی ہے  کہ  سکول میں بچوں کو کورس تعلیمی کلینڈر کے مطابق پڑھایا گیا اور اس ضمن میں  تمام اساتذہ نے دہرائی بھی شروع کی تھی  لیکن کورونا  کی وجہ سے  سکولز کا دوبارہ بند ہونے سے  رویژن متاثر ہوگیا۔

مس کرن کے بقول جب پڑھائی عروج پر ہو اور اس میں وقفہ آجائے تو وہ تسلسل ختم ہوجاتا ہے جس سے ناصرف  طلباء کی دلچسپی کم ہوتی بلکہ  اساتذہ کے پڑھانے کا تسلسل بھی ٹوٹ جاتا ہے جس کی وجہ سے طلباء  کا قیمتی  وقت  ضائع ہوجاتا ہے۔

دوسری جانب  طلبہ کا  کہنا ہے کہ کورونا  کی پہلی ، دوسری  اور تیسری لہر سے  تعلیم کا شعبہ بہت زیادہ ہوا ہے   جس میں 6 مہینوں کا کورس 14 مہینے  گزرنے  کے بعد بھی مکمل نہ ہوسکا ۔

یاد رہے کہ حکومتی فیصلے کے مطابق میٹرک  اور انٹرمیڈیٹ  کے امتحانات جولائی میں ہونگے تاہم  اس بارے میں اساتذہ اور طلباء  کی رائے مختلف ہیں کیونکہ اساتذہ  امتحان کے حق میں جبکہ طلباء کہتے ہیں کہ امتحانات  نہیں ہونے چاہیے کیونکہ انکی پڑھائی  مکمل نہیں ہوئی  اور ان کا وقت ضائع ہوچکا ہے۔

حکومتی فیصلہ میں کہا گیا کہ مذکورہ امتحانات  میں  طلبہ سے صرف  اختیاری مضامین  کا امتحان لیا جائے گا  تاہم   مس تہمینہ کے مطابق   طلباء سے  تمام  مضامین میں  امتحان  لیاجائے کیونکہ  اختیاری  مضامین  کی نسبت  طلباء    لازمی مضامین  میں زیادہ  نمبر  لے سکتے ہیں ۔

اس کے برعکس  جماعت نہم  کی طلبہ  ہاجرہ حکومت کے فیصلےسے  خوش ہے  اور امید رکھتی  ہے کہ  اس بار اچھی طرح تیاری کرکے  اچھے نمبرز حاصل کریگی لیکن دوسری جانب  فرسٹ  ائیر کی طلباء  صفیہ  امتحانات  دینے سے بلکل خوش نہیں  اور کہتی ہے کہ ہمیں اس سال  بھی بغیر امتحان کے پروموٹ  کردیا جائے۔

اس حوالے سے شعبہ  تعلیم سے تعلق رکھنے والی سعدیہ  نے ٹی این این کو بتایا کہ بہتر ہوگا کہ  طلباء سے تمام  مضامین میں  امتحانات  لیے جائے  کیونکہ اگر  ایسا نہ ہوا تو  طلباء  آنے والے امتحانات کو سنجیدہ  نہیں لیں گئے تاہم اگر  اس سال 50 فیصد مضامین  میں بھی امتحان  لیے جارہے ہیں  تو یہ آئندہ سال کے لئے خوش آئندہ  بات ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button