بلاگزخیبر پختونخوا

ساس اور بہو کی لڑائی آخر کب ختم ہوگی

عربہ

ہمارے معاشرے میں بہت کم ایسے گھرانے ہونگے جہاں ساس اور بہو کے تعلقات اچھے ہو، عموما ایسا ہوتا ہے کہ ساس اور بہو کے تعلقات آپس میں کچھ زیادہ اچھے نہیں ہوتے کہیں پہ بہو شکایت کرتی نظر آتی ہے کہ ساس زیادتی کرتی ہے تو کہیں پہ ساس شکایت کرتی ہے کہ بہو آتے ساتھ ہی گھر کی مالکن بن گئی ہے۔

ایسے حالات میں گھر کے مردوں کا برا حال ہوتا ہے نہ تو وہ ایک کی سائیڈ لے سکتے ہیں اور نہ ہی دوسری کی بس گھر کے لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے اکثر ماحول خراب رہتا ہے۔

ساس اور بہو ایک دوسرے کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو بڑھا کر بڑے بڑے مسائل پیدا کرتی ہیں اور اپنے ساتھ گھر والوں کی زندگی بھی عذاب بنادیتی ہے۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے لڑائی جھگڑے بہت سارے لوگوں کی زندگی برباد ہوسکتی ہے۔ لڑاٹی جھگڑوں میں مردوں کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے پورا دن مزدوری کرکے آتے ہیں تو ایک طرف سے ماں باتیں شروع کرتی ہے اور دوسری طرف بیوی باتیں شروع کرتی ہے ایسے حال میں عورتیں تو کیا مرد بھی کہیں کا نہیں رہتا باہر کام کاج کرتے وقت مرد کا دل بھی نہیں لگتا ان کو گھر کی فکر ہوتی ہے کہ گھر کا حال کیسا ہو گا اور دن کیسے گزرا ہو گا انکو یہی فکر کھائی جاتی ہے کہ گھر کے حالات کیسے ہونگے، کہیں پھر سے تو گھر میں لڑائی نہیں ہوئی ہوگی۔

میں نے دیکھا ہے کہ گھریلو جھگڑوں کی وجہ سے کئی لوگوں نے خودکشیاں کی ہے, اس طرح کے لڑائی جھگڑوں سے  اپنوں میں دوری بڑھتی ہے اور اپس میں اتفاق نہیں رہتا اگر ساس اور بہو اپس میں اچھے تعلق رکھے اور ایک دوسرے سے اچھا سلوک کرے تو یہ مسلے کم ہوجائیں گے۔

یہ مسائل تو ہرجگہ موجود ہے لیکن یہاں شیوا صوابی میں ساس اور بہو کا مسئلہ بہت زیادہ ہے جہاں تک میری نظر ہے تودور کے رشتہ داروں میں بھی یہ باتیں بہت زیادہ ہوتی ہے کہ ساس اور بہو کا وقت نہیں گزرتا ہے اور ایک دوسرے کے خلاف ہوتی ہے یعنی رشتہ دار بھی اس میں دلچسپی لیتے ہیں کہ ساس او بہو کا وقت کیسا گزر رہا ہے۔

جب گھر میں کوئی مہمان آئے تو بھی ساسں اپنی تعریفیں کرتی ہے اور بہو کی برائی کرتی ہے اور جب بہو ساتھ بیٹھتی ہے تو اپنے لوگوں کی اچھائی کرتی ہے بہو کے گھر کے والوں کے بارے برائی کرتی ہے اور ساتھ میں یہ بھی کہتی ہے کہ ہمارے زمانے میں ہم ایسا کام کرتےتھے ویسا کام کرتےتھے اور یہ آج کل کی لڑکیاں ایسی ہے ویسی ہے الٹی سیدھی  باتیں کرتی ہے اور بہو یہ باتیں سن کر خفہ ہوجاتی ہے لیکن پھر بھی وہ ساس کی خدمت کرتی ہے۔

اگر ایک ساس سوچے کہ بہو بھی کسی کی بیٹی ہے اور اپنا سب کچھ چھوڑ کے یہاں آئی ہے سب کی خدمت کرتی ہئ تو زیادہ مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ اگر ساس بہو کو اپنی بیٹی جیسا پیار دے اور اسکی ہر چیز کا خیال رکھے اور بہو بھی ساس کو اپنی ماں سمجھ کر اسکی خدمت کرے تو یہ رشتہ دنیا کا خوبصورت رشتہ بن سکتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ بات نہ تو ساس مان سکتی ہے اور نہ ہی بہو۔

میں نے ان چھوٹے چھوٹے جھگڑوں کی وجہ سے گھروں کو ٹوٹتے دیکھا ہے، بچوں کو ماں باپ سے الگ ہوتے دیکھا ہے تو خدارا آپس کی یہ رنجشیں ختم کریں اور خوشی سے رہے۔

 

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button