مولانا گل داد خان عظمت وشجاعت کا حقیقی پیکر 

مصباح الدین اتمانی 

قوموں کے عروج و زوال میں اگر ایک طرف انکی اجتماعی طاقت کا ہاتھ ہوتا ہے تو دوسری طرف ہر زمانے میں کچھ ایسی باکمال ہستیاں بھی قوم کے عروج وترقی میں اپنا حصہ ڈالتی ہیں جنکو قدرت نے خداداد صلاحیتیں عطاء کی ہوتی ہیں یہ باکمال لوگ قوموں کے ہیروز اور افتخار ہوتے ہیں اور رہتی دنیا تک وہ اس قوم کی عظمت کی علامت تصور کیے جاتے ہیں۔ ماضی میں پختونوں کے اندر بے شمار قومی ہیروز نے جنم لیا ہے جنہوں نے میدان جنگ کے ساتھ ساتھ قومی سیاست میں بھی انمٹ نقوش چھوڑے ہیں اگر زیادہ دور نہ جائے اور حال کی بات کریں تو امریکہ میں نائن الیون کے حملوں کے نتیجے بعد افغانستان سمیت سابقہ فاٹا کا علاقہ ایک اور نئے جنگ کا مرکز بن گیا افغانستان میں طالبان کے ،رژیم ،کے سقوط کے بعد القاعدہ اور طالبان کے گروپوں نے وزیرستان سے لیکر باجوڑ کے علاقے تک کو اپنا مرکز بنالیا اور افغان طالبان کے بعد پاکستانی طالبان کا ایک اتحاد تحریک طالبان پاکستان کے نام سے بھی معرض وجود میں آیا۔
اس گروپ نے 2007 تک پورے سابقہ فاٹا میں اپنی رٹ قائم کی اور حکومتی عملداری کو صرف انکے کالونیوں تک محدود کردیا جبکہ اس دوران حکومتی عدم مزاحمت اور بے بسی کو عام لوگ آج تک شکوک وشبہات کی نظر سے دیکھتے ہیں اور یہ سوالات اٹھائے جاتے ہیں کہ کسطرح ایک اسٹیٹ کے اندر دوسری اسٹیٹ قائم کی گئی جبکہ حکومت یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی اسی طرح قوم پرست کے حامل پختون پاکستان میں بڑھتے مذھبی شدت پسندی اور طالبانائزیشن کو افغانستان میں پاکستان کی بے جا مداخلت اور خارجہ پالیسی کے غلط سمت سے تعبیر کرتے ہیں جنمیں کافی حدتک حقیقت پائی جاتی ہے ۔ اس وقت طالبان کے خلاف جگہ جگہ مقامی قبائلی عمائدین نے مزاحمت کی جنکو جوابا چن چن کر مارا گیا انہی لوگوں میں سے ایک ضلع باجوڑ ناواگئ کے رہنے والے ،غلجی قبیلہ سے تعلق رکھنے والے عالم دین اور قبائلی مشر مولانا گل داد خان بھی شامل ہے جو آج تک طالبان کے خلاف عملی مزاحمت کا ایک زندہ وتابندہ مثال ہے۔ مولانا گل داد خان 1953 کو ناواگئ میں پیدا ہوئے تھے کئی دینی مدارس سے مذہبی علم حاصل کرنے کے بعد اسکول سے بطور ٹیچر ریٹائرڈ ہوئے مولانا گل داد کی سیاسی وابستگی عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ ہے وہ اے این پی کے حوالے سے کہتے ہیں کہ اسے بھادر لوگ پسند ہیں اور اے این پی بھادروں کی پارٹی ہے۔

مولانا گل داد خان علاقے کے ایک معزز قبائلی مشر بھی ہے اور انکے حجرے میں ہر وقت مہمانوں کی بھیڑ ہوتی ہے ۔طالبان کے ظہور سے پہلے مولانا گل داد خان علاقے کے قبائلی تنازعات کو ،شریعت کی رو سے حل کرنے کیلئے بڑی شہرت رکھتے تھے اور ضلع مومند باجوڑ اور کنڑ کے علاقوں تک انکو تنازعات میں قبائلی جرگے بطورِ شرعی قاضی اور حکم کے بلاتے تھے۔ مولانا گل داد خان ایک مستند عالم دین ہونے کیساتھ ساتھ پختون روایات سے بھی بخوبی واقفیت رکھتے ہیں جرگوں کے ذریعے مسائل کے حل کے حامی ہیں جبکہ حکومتی عدالتی نظام کو وقت کا ضیاع کہتے ہیں۔

پختو ادب کے ہزاروں اشعار انکو زبانی یاد ہیں جبکہ وسیع مطالعہ کا شغف بھی رکھتے ہیں کسی جرگہ میں انکی موجودگی کو تنازعہ کے حل کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ جب طالبان کا عروج ہوا تو مولانا گل داد خان ببانگ دہل ان پر تنقید کرنے لگے جبکہ ان حالات میں طالبان پر تنقید موت کے مترادف سمجھا جاتا تھا نومبر 2007 میں ناواگئ بازار کے جامع مسجد کے ایک مقامی جرگے اور جون 2008 میں سول کالونی خار کے جرگہ ھال میں مولانا گل داد خان نے طالبان کے خلاف کھل کر باتیں کی اور لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو تحریک سے دور رکھیں جبکہ دسمبر 2008 میں سیکیورٹی فورسز جب خار کی سائیڈ سے جنگ کے زور پر ناواگئ میں آپریشن شیر دل کے وقت داخل ہوئے تو مولانا گل داد نے باجوڑ کے آخری سر مامد گٹ چوک تک پر امن طور پر انکے ساتھ پیدل گشت کیا اور کہا کہ علاقے پر توپوں سے گولہ باری اور جیٹ طیاروں سے بمباری کی کوئی ضرورت نہیں ان حالات میں سیکیورٹی فورسز کی کھل کر حمایت کرنے پر طالبان نے انکو کھل کر نشانہ بنانے کی کوششیں شروع کی اور مولانا گل داد خان نے بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ مسلح ہوکر گشت شروع کیا۔

12 دسمبر 2008 کو انکا ایک بھائی غازی شیر محمد ضلع مومند سے واپس آرہا تھا کہ بانگی بابا ناواگئ کے مقام پر طالبان نے گھات لگا کر ان پر حملہ کیا شیر محمد بھی مسلح تھا طالبان نے انکو سرنڈر کرنے کا کہا مگر اس نے انکار کیا فائرنگ کے تبادلے میں غازی شیر محمد موقعہ پر مارا گیا جبکہ اس نے کمال شجاعت دکھاتے ہوئے اپنے ساتھ ناواگئ کے ایک اہم طالبان کمانڈر ،اسماعیل خان ، کو بھی ماردیا اور اپنے قتل کا بدلہ خود اپنے ہاتھ سے لیا اپنے بھائی کے جنازے میں مولانا گل داد خان نے طالبان کے خلاف کھل کر تقریر کی اور انکے کمانڈروں کے نام لیکر ان سے بدلہ لینے کا اعلان کیا اور یوں مولانا گل داد خان اکیلا ایک لشکر بن کر طالبان کے آگے ڈٹ کر پورے پختون بیلٹ میں شجاعت وبھادری کا ایک عملی نمونہ بن گئے۔

طالبان نے وقتاً فوقتاً انکو مارنے کی ہر ممکن کی کوشش کی انکے گھر پر بڑے حملوں سمیت بارودی سرنگوں کے ذریعے مارنے کی کوششیں کی مگر جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ! مولانا گل داد خان پر اس دوران 2008 سے لیکر 2019 تک چودہ چھوٹے بڑے حملے کئے گئے جن میں انکے ایک بیٹے ایک بھائی اور سسر کا بھائی سمیت سات بندے مارے گئے جبکہ وہ خود اور ایک درجن سے زائد انکے ساتھی مخلتف حملوں میں زخمی ہوئے۔ مولانا گل داد خان طالبان کے حملوں کے وقت طالبان جنگجووں سے دست بدست خود بھی لڑتے رہے حملے کے وقت وہ راکٹ لانچر اور بڑے اسلحے کا خود انتھائی مہارت سے نشانہ لگاتے تھے جبکہ ان نامساعد حالات میں بھی وہ اپنے علاقے میں ڈٹے رہے اور نقل مکانی نہیں کی گھر کے آس پاس جگہ جگہ پہاڑ میں جنگی مورچے بنائے اور انکا گھر مکمل طور پر ایک جنگی قلعہ میں بدل گیا جس پر وقتاً فوقتاً نزدیکی پہاڑیوں سے میزائل داغے جاتے تھے اور براہ راست حملے بھی ہوتے تھے انکے گاؤں میں ایک بزرگ نے بتایا کہ ایک رات کو کچھ پانچ سو کے قریب طالبان جنگجووں نے تین اطراف سے مولانا گل داد خان کے گھر پر ایک بڑا حملہ کیا مولانا اور انکے ساتھی صبح تک بغیر کسی حکومتی تعاون کے لڑتے رہے اور معجزانہ طور پر اتنے بڑے حملے میں مولانا گل داد خان محفوظ رہے ۔ مولانا گل داد خان اس وقت کو یاد کرکے کہتے ہیں کہ تمام علاقے سے لوگ نکل گئے تھے صرف انکا گھرانہ اور اے این پی کے سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے رکن شیخ جھانزادہ کا گھرانہ علاقے میں موجود تھے اگر ہم بھی علاقہ چھوڑ جاتے تو یہ علاقہ بھی مکمل طور پر جنگ کی تباہی کا شکار ہو جاتا۔
پہلا حملہ مولانا گل داد خان کے بھائی پر 12 دسمبر 2008 کو ہوا جسمیں انکا بھائی شہید جبکہ ایک ساتھی محمد یار خان شدید زخمی ہوا ۔
دوسرا حملہ 29 مارچ 2009 کو انکے گھر پر میزائل سے کیا گیا جس میں مولانا گل داد خان خود معمولی زخمی ہوئے۔
تیسرا حملہ 12 دسمبر 2009 کو انکے قریبی ساتھی ملک صالح محمد عرف طوطی پر بارودی سرنگ کے ذریعے کیا گیا۔
چوتھا حملہ بھی ملک صالح محمد پر 27 جنوری 2010 کو کیا گیا جسمیں وہ معمولی زخمی ہوئے۔
پانچواں حملہ انکے بھائی ملک محمد رحمان پر اسی روز ہوا جب وہ لشکر کیساتھ طالبان کے گھر جلانے کیلئے جارہا تھا جسمیں وہ زخمی ہوئے۔
چھٹا حملہ 27 فروری 2010 کو انکے گھر پر علینگار کنڈؤ سے ہوا جو پانچ گھنٹے تک جاری تھا۔ ساتواں حملہ 5 مئی 2010 کو انکے کھیتوں میں گندم کی کٹائی کے دوران ہوا۔ آٹھواں حملہ بھی گندم کی کٹائی کے دوران 10 مئی 2010 کو ان پر ہوا جب علاقے کے لوگ انکے گندم کی فصل سنھبالنے میں مصروف تھے۔
نواں حملہ 6 اگست 2010 کو انکے گھر پر ہوا جسمیں کئے میزائل انکے گھر پر داغے جس سے دو بندے زخمی ہوئے یہ حملہ بھی ساری رات جاری رہا تھا جسمیں سینکڑوں کی تعداد میں جنگجووں نے تین اطراف سے انکے گھر پر بڑا حملہ کیا تھا۔
دسواں حملہ 9 فروری 2011 کو انکے ساتھی ملک صالح محمد عرف طوطی کے بھتیجے ارشاد پر لاہور میں کیا گیا جس میں انکو مارا گیا۔ گیارہواں حملہ اٹھارہ مئی 2014 کو انکو کھیتوں میں ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی مگر وہ محفوظ رہے۔
بارواں حملہ 6 دسمبر 2014 کو انکے بیٹے انیس اللہ عامر پر کیا گیا اس ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ میں انکا بیٹا محفوظ رہا۔
تیرواں حملہ یکم مئی 2015 کو انکے بیٹے حاجی خالد پر ہوا جسمیں وہ موقعہ پر شہید ہوئے حاجی خالد نے ائی ٹی میں ماسٹر کیا تھا اور ایک مقامی اسکول میں گریڈ سترہ میں بھرتی تھے۔
14 واں حملہ 19 جون 2019 کو مولانا گل داد خان پر خود ہوا جب وہ اپنے کھیتوں میں گاڑی میں جارہے تھے کہ راستے میں انکی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا اس حملے میں انکا ایک محافظ شہید جبکہ خود مولانا اور انکے پانچ ساتھی شدید زخمی ہوئے دھماکہ کی جگہ سے تھوڑے دور دو اور بم بھی نصب کئے گئے تھے مگر انکے ساتھی ملک صالح محمد نے زخمی ہونے کے باوجود کمال بھادری سے گاڑی کو پنکچر ٹائروں کیساتھ وہاں سے بھگا کر ہسپتال تک پہنچایا تھا بعد میں مولانا گل داد خان کو ایمرجنسی ھیلی کاپٹر کے ذریعے سی ایم ایچ پشاور پہنچایا گیا اب وہ روبہ صحت ہے مگر ایک سال بھی انکے بدن میں زخموں کے نشانات تازہ ہیں۔
مولانا گل داد خان پر جو کچھ گزرا ہے وہ تفصیلات ایک کتاب کی متقاضی ہے مگر ان تمام تر حالات سے گزرنے کے باوجود مولانا گل داد خان آج بھی صبر واستقامت کا ایک پیکر ہے انکا عزم جوان ہے جبکہ تئیس مارچ 2021 کو انکی اس لازوال قربانیوں کا اعتراف کرکے ملکی سطح پر انکو ،تمغہ شجاعت سے نوازا گیا مولانا گل داد خان کہتے ہیں کہ میں حکومت اور سیکیورٹی فورسز کا مشکور ہوں جنھوں نے مجھے اس اعزاز کا حقدار سمجھا وہ کہتے ہیں کہ یہ اعزاز درحقیقت پورے باجوڑ کی عزت ہے میں اسی جذبے سے اپنے علاقے کی خاطر ہر ظلم کیخلاف کھڑا رہوں گا 2015 کو نواگئ سکاؤٹس میں ایک قومی امن جرگہ کے دوران علاقے کے ایک اور قومی شخصیت اور اے این پی کے سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے رکن شیخ جھانزادہ نے سیکیورٹی فورسز کے مشران سے مولانا گل داد خان کو شجاعت کا تمغہ دینے کی اپیل کی تھی جسکو چند سال بعد عملی شکل دی گئ۔
علاقے کے ایک اور مشر مولانا خانزیب نے مولانا گل داد خان کو بھادری کا تمغہ دینے پر حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مولانا صاحب نے علاقے کے امن کی خاطر بڑی قربانیاں دی ہیں مگر بدقسمتی سے بدامنی اور خوف وہراس کی فضا اب بھی برقرار ہے طرح طرح لوگوں کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے امن کا قیام ریاست کی ذمہ داری ہے حقیقی خوشی تب ہوگی جب علاقے میں امن ائیگا انھوں نے بتایا کہ مولانا صاحب بجا طور پر اس اعزاز کے حقدار تھے اور ہمارے وقت کا ایک زندہ ہیرو ہے۔
مولانا گل داد خان کی حمایت کرنے پر 2009 کے دوران نواگئ میں تین اور مشران حاجی جالندھر ، مکئ خان ، اور ،ملک گل باچا ،کو بھی طالبان نے بڑی بیدردی کیساتھ ذبح کیا تھا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button