خیبر پختونخوا

بابائے قطعہ کا دنيا والوں سے قطع تعلق

عثمان خان
سوات سے تعلق رکھنے والے منفرد لب و لہجے کے مالک مشہور شاعر، نقاد، محقق اور بابائے قطعہ عبدالرحیم روغانی 71 سال کی عمر میں اس جہانی فانی سے کوچ کرگئے۔
گزشتہ رات عبدالرحیم روغانی کے وفات کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر پر مرحوم کے حوالے سے زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں ان کی رحلت کو پشتونوں کیلئے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا جارہا ہے اور ان کی خلا رہتی دنیا تک پوری نہیں ہوگی۔
قدرت کا ایک نظام ہے ہر چیز کو بہت کثرت سے پیدا کیا ہے لیکن شخصیات کی تخلیق میں قدرت نے ایک حد تک کنجوسی کی ہے کیونکہ شخصیات ہر وقت پیدا نہیں ہوتی۔
موت برحق ہے اور ہم سب کو اس راہ سے گزرنا ہوگا ، عبدالرحیم روغانی کی جدائی ایک طرف سے قوم اور زبان کیلئے نقصان ہے تو دوسری جانب موت ان کو مروا بھی نہیں سکتا، جیسا کے پشتو کے مشہور شاعر خوشحال بابا فرماتے ہیں
مڑ ہغہ چی نہ ی نوم نہ ی نشان وی
تر تر تلہ پہ خہ نام پائی خاغلی
پشتو ادب کے مشہور شاعر اور ادیب نور آمین یوسفزئی کے بقول عبدالرحیم روغانی جدید دور کے شعرا میں انتہائی منفرد لب و لہجے کے شاعر تھے اور ان کی ذاتی زندگی بھی باقی ماندہ لوگوں سے جداگانہ اور منفرد تھیں، وہ اپنے دل کی مانتے تھے اور وہی کرتے تھے جو دل کی پکار ہوتی تھی۔
ان کی شاعری میں انٹلکچول ڈیپٹ یعنی کہ فکری گہرائی تھی، ان کی شاعری مشکل بھی ہے اور آسان بھی ان کا انداز بیان اور اسلوب سادہ ہے لیکن اس کی معنی میں بہت گہرائی ہے۔
نور آمین یوسفزئی بتاتے ہے کہ اگر موجودہ وقت میں نظم اور قطعہ کے حوالے سے شعرا کو شمار کیا جائے تو ان میں عبدالرحیم روغانی کا الگ تلگ کردار ہے اور خصوصی طور پر قطعہ میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہیں۔
مرحوم عبدالرحیم روغانی نے اپنی ابتدائی تعلیم سوات کے تحصیل مٹہ میں حاصل کی تھی اور اس کے بعد پشتو زبان میں ماسٹر ڈگری ہولڈر تھے گریجویشن کے بعد انھوں نے سرکاری استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کا کام شروع کیا تھا لیکن انہوں نے سرکاری استاد کی پوسٹ سے استعفیٰ دیا تھا کیونکہ وہ بتاتے تھے کے میں وہ حق ادا نہیں کرسکتا تھا جو چاہیے تھا ۔آپ من کے سچے اور ایک خود دار انسان تھے اس لئے وقت سے پہلے سرکاری نوکری سے راہیں جدا کی۔
سوات سے تعلق رکھنے والے شاعر فیض علی خان فیض کے مطابق پشتو ادب میں سب سے زیادہ قطعہ جات عبدالرحیم روغانی نے لکھے ہیں اور اس کیلئے ان کو ”بابائے قطعہ” کا خطاب بھی ملا تھا۔
عبدالرحیم روغانی نے خیال اور مضمون دونوں کیساتھ انصاف کیا ہے انہوں نے ہر وقت شعوری طور پر کوشش کی ہے کہ نئے مضامین کو سامنے لائے۔
ان کی شاعری میں ”ولسی رنگ” یعنی عام لوگوں کی آواز زیادہ تھی اور اسلئے بہت مشہور گلوکاروں ہارون باچا، سردارعلی ٹکر اور بہت ساروں نے ان کے کلام موسیقی کیساتھ گایا تھا۔
عبدالرحیم روغانی کی شاعری میں پشتون وطن اور مٹی کیساتھ محبت نمایاں تھیں لیکن اس ساتھ ساتھ مولویوں اور خوانین پر تنقید او طنز بھی نمایاں طورپر موجود ہیں۔
فیض علی خان فیض بتاتے ہے کہ روغانی صاحب کا مثال قوس قزح (بڈی ٹال) کا تھا جسمیں ہر رنگ نمایاں تھا۔
عبدالرحیم روغانی کے تصنیفات
عبدالرحیم روغانی کے شعری کتابوں میں نوی نغمہ ، زوریدلی احساسات، سندیز احساس، د رنڑا ساسکی جبکہ نثری کتابوں میں ( خود غرض) اور کوربانہ خیالونہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے خود غرض نامی پشتو کتاب کا ترجمعہ انگریزی میں کیا ہے جو 2019 میں لندن میں شائع ہوا ہے۔
بنيادي طور پر عبدالرحیم روغانی ايک غريب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ان کا تعلق روغانی محمود خیل قبیلے سے تھا اور 1950 میں جنوری کے پندرہ تاریخ کو سوات کے علاقے مٹہ میں پیدا ہوئے تھے۔
عبدالرحیم روغانی کے پسماندگان
ان کی پسماندگان میں ایک بیوہ، تین بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔ مرحوم عبدالرحیم روغانی کی نماز جنازہ آج دو بجے مینگورہ گلدہ نمبر دو میں ادا کردی گئی ہے جسمیں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے شخصیات نے شرکت کی اور نماز جنازہ میں ادب سے تعلق رکھنے والے لوگ کثیر تعداد میں موجود تھے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button