‘پشاور شہر کا زیر زمین پانی صاف ہے لیکن پائب لیکج اسکو آلودہ بنا دیتی ہے’

 

سٹیزن جرنلسٹ سلمیٰ جہانگیر

پشاور شہر میں زیادہ تر پانی کیمیائی اعتبار سے ٹھیک ہے۔ (ای پی اےکی سالانہ رپورٹ بھی اس بات کی تائید کرتی ہے)۔ تاہم جراثیم کے لحاظ سے آلودگی پشاور کا ایک بڑا مسئلہ ہے جسکی بنیادی وجہ سپلائی لائن لیک ہونا ہے۔
پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے سینیئر ریسرچ افیسر صاحبزادہ محمد عدیل کا کہنا ہے کہ پانی کے نمونے کے تین بنیادی اقسام، فزیکل، کیمیکل اور مائیکروبائیولوجیکل میں سے تقریباً 20 ٹسٹس کئے جاتے ہیں۔یہ جانچا جاتا ہے کہ آیا ان تین پیرامییٹرز کے) 20 ٹیسٹ کے نتائج ڈبلیو ایچ او یا پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے متعین کردہ حدود کے اندر ہیں یا نہیں اگر ہو تو پانی ٹھیک ہوگا وگرنہ نہیں۔
پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے ریسرچ کے مطابق عموماً زیر زمین پانی میں جراثیم نہیں ہوتے۔ سوائے تب جب پانی کی سطح بہت بلند ہو۔ انہوں نے کہا کہ پشاور کے پانی کا بنیادی مسئلہ جراثیمی آلودگی ہے باقاعدگی سے پانی کے نمونے لئےجاتے ہیں اور جراثیموں کا تجزیہ کیا جاتاہے۔
کوئی مسئلہ سامنے آئے تو اسکے سدباب کے ضروری تجاویز، (جیسے لائن میں لیک کا خاتمہ اور پانی کا جراثیم سے پاک کرنا) کیساتھ متعلقہ ایکسین (ایگزیکٹیو انجینئر) کو رپورٹ کیا جاتا ہے۔
ضروری تجاویز پر عمل درآمد ہوجانے کے بعد پانی کا نمونہ لیکر دوبارہ تجزیہ کیا جاتا ہے۔ یہ عمل اس وقت تک دہرایا جاتا ہے جب پانی پینے کے قابل نہیں ہوجاتا لیکن جب پانی پھر بھی قابل استعمال نہ ہوتا ہو تو اس سکیم (ٹیوب ویل وغیرہ) کو بند کیا جاتا ہے۔پشاور میں پانی کی آلودگی کی اہم وجہ پائپ لائنز میں خرابی ہے. پشاور میں زیر زمین پانی کہیں بھی آلودہ نہیں، کل 8 لیبارٹریاں ہیں ہر ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں ایک (ملاکنڈ میں2 تمام لیبارٹریوں کا بجٹ مرکزی لیبارٹری پشاور میں ہے، جس سے سب کے بجٹ کی ضروریات پوری ہوتیں ہیں، اسکے علاؤہ 8 موبائل لیبارٹریاں بھی آخری مراحل میں ہیں۔
سابقہ فاٹا میں بھی تین (نئی) لیبارٹریاں قائم کی جارہی ہیں جن میں باجوڑ خیبر اور ساؤتھ وزیرستان شامل ہیں۔
پانی زندگی کا اہم جزو ہے، صاف پانی صحت مند زندگی کی ضمانت ہے اور ہر انسان کا بنیادی حق ہے لیکن اعدادو و شمار کے مطابق صاف پانی کا فقدان خطرناک صورت اختیار کرچکا ہے، پینے کے صاف پانی کی کمی کے باعث لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں. ماہرین کے مطابق ملک میں زیادہ تر بیماریاں مضرِ صحت پانی سے پیدا ہو رہی ہیں اور ان میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ملک میں زیادہ تر بیماریاں مضرِ صحت پانی سے پیدا ہو رہی ہیں اور ان میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے لوگ اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیے ندی نالوں، دریاوں، نہروں، کنووں اور جوہڑوں کا پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔
پشاور شہر کی رشید گڑھی علاقے سے تعلق رکھنے والی حسن زری کا کہنا ہے کہ ہمیں بظاہر تو اپنے علاقے کے پانی میں کوئی خرابی نظر نہیں آتی لیکن جب بارش ہوتی ہے تو علاقے میں اکثر لوگوں کو پیٹ کی بیماریوں کی شکایت شروع ہو جاتی ہے کیونکہ پانی کے پائپ لائن جگہ جگہ سے لیک ہو گئے ہیں اور ان پائپوں کے ساتھ نالے بھی ہیں جسکی وجہ سے نالوں کا گندہ پانی پائپ کے اندر چلا جاتا ہےجس سے پینے کا پانی زہر آلود بن جاتا ہے۔ حسن زری کا کہنا ہے کہ پانی کی یہ پائپ لائنز تقریباً 15 یا 20 سال پرانے ہیں. علاقے کے مکینوں نے حکومتی نمائندوں سے بات بھی کی لیکن ابھی تک کسی نے کچھ نہیں کیا۔

پشاور کے نواحی علاقے کے مکین ایوب جان کا کہنا ہے کہ کبھی کبھی پانی کا ذائقہ اور رنگ بدل جاتا ہے پانی میں زنگ آلود ذائقہ آ جاتا ہے. ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ زیر زمین پانی کی مقدار کم ہو گئی ہے جسکی وجہ سے علاقے کے لوگ بہت سی پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں لیکن ہم پھر بھی وہی پانی پینے پر مجبور ہیں.
لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ڈاکٹر ظفر اقبال کا کہنا ہے کہ آلودہ یا گندے پانی سے مختلف بیماریاں لگتی ہیں جن میں ہیضہ,پیچش, معیادی بخار اور پولیو شامل ہیں، کسی بھی متاثرہ شخص کے فضلے کے جراثیم سے یہ بیماریاں آسانی سے لگتی ہیں. اسکے علاوہ آلودہ پانی سے آنکھوں کی بیماری(ٹرائی کوما) بھی پھیلتی ہے جہاں پانی جمع ہوتا ہے وہاں مکھیوں اور مچھروں کی افزائش نسل بہت تیزی سے ہوتی ہے جو ملیریا کا سبب بنتا ہے. آجکل آبی آلودگی کی بڑی وجہ بہت سے علاقوں میں پرانے پانی کے پائپ ہیں جو جگہ جگہ سے لیک ہو گئے ہیں جس سے پینے کا پانی زہر آلود بن رہا ہے. انڈسٹریز سے نکلنے والے کیمائی ذرات بھی جب پانی میں شامل ہوتے ہیں تو آلودگی کا سبب بنتے ہیں۔

دوسری جانب ڈبلیو ایس ایس پی کے ترجمان حسن علی نے کہا کہ مردم شماری کے مطابق پشاور کی آبادی تقریباً چار ملین سے زیادہ ہے ڈسٹرکٹ پشاور بانوے یونین کونسل پر مشتمل ہے جس میں شہری علاقوں میں تینتالیس یونین کونسل ہیں. ڈبلیو ایس ایس پی ان تینتالیس یونین کونسلوں میں صاف پانی کی ترسیل کے لئے ذمہ دار ادارہ ہے جس سے تقریباً دو ملین لوگ استفادہ کر رہے ہیں۔
اس وقت پانچ سو سولہ ٹیوب ویلز ہیں جس سے گھریلو اور کمرشل ایریاز کوصاف پانی مہیا کیا جاتا ہے ۔ ہر مہینے دس سے پندرہ دنوں میں واٹر کوالٹی ٹیسٹ کیا جاتا ہے جس میں فزیکل, بائیولاجیکل اور کیمیکل ٹیسٹ شامل ہیں۔
حسن علی نے یہ دعوی کیا ہے کہ ان ٹیسٹ سے ابھی تک کوئی نیگیٹو رزلٹ نہیں آیاجس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ زیر زمین پانی خراب ہے، پشاور شہر کا زیر زمین پانی بلکل صاف اور پینے کے قابل ہے ہاں البتہ جو سپلائی لائنز ہیں جو ان پانچ سو سولہ ٹیوب ویلز سے لئے گئے ہیں چونکہ یہ زمین کے اوپر ہوتے ہیں تو ان سے آسانی سے غیرقانونی کنکشن لئے جاتے ہیں جس سے ان پائپس میں لیکیج پیدا ہو جاتی ہے تو جب بارش ہوتی ہے یا سیریج لائن بھر جاتے ہیں اور واٹر سپلائی پائپ کے ساتھ مل جاتا ہےتو اس میں گندا پانی چلا جاتا ہے تو یہی پانی جب گھروں میں جاتا ہے تو یا تو اس میں گندی بو ہوتی ہے یا ذائقہ خراب ہوتا ہے لیکن یہ بہت کم کیسز ہوتے ہیں اوور آل پشاورمیں پانی کی ترسیل بلکل صاف اور خالص ہے۔
انہوں نے کہا کہ2014 میں ڈبلیو ایس ایس پی کے قیام کے بعد پرانے پائپ(سیمنٹ اور ریت سے بننے والی پائپ) مکمل تبدیل کروائے گئے ہیں اور اب واٹر سپلائی کے لئے پلاسٹک کے پائپ استعمال کئے جارہے ہیں جوانٹرنیشنل اداروں اور حکومت سے منظور شدہ ہے، اگر کسی علاقے سے پائپ لائن کے حوالے سے شکایت موصول ہو جائے تو ادارے کی ٹیمیں وہاں جا کر سروے کرتی ہیں اور رپورٹ تیار کرتی ہیں اور اپنی پلاننگ کے مطابق اقدامات کئے جاتے ہیں. وقتاً فوقتاً پائپ بھی تبدیل ہورہے ہیں، ابھی تک تقریباً 290 کلو میٹر سے زیادہ کا پائپ چینج کیا جاچکا ہے، زنگ شدہ پائپ روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہورہے ہیں، واٹر سپروائزر فیلڈ وزٹس کرتے ہیں اور جہاں لیکیج ہو رپورٹ تیار کی جاتی ہے اوراسکو کنٹرول کیا جاتا ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button