پاکستان اور بھارت کو براہ راست مذاکرات کرنے چاہئیں۔ امریکہ

امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان کے بھارت سے چینی اور کپاس درآمد کرنے کے فیصلے پر تبصرے سے انکار کیا، تاہم اس کا کہنا تھا کہ دونوں پڑوسی ممالک کو تعلقات معمول پر لانے کے لیے براہ راست مذاکرات کرنے چاہئیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے اس پیشرفت سے متعلق سوال پر کہا کہ میں خاص طور پر اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہوں گا، میں یہ کہوں گا کہ ہم پاکستان اور بھارت کے درمیان تشویش کے امور پر براہ راست مذاکرات کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ 31 مارچ کو اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے اسلام آباد میں اعلان کیا تھا کہ وہ نجی شعبے کو بھارت سے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کی اجازت دے رہی ہے، کمیٹی نے جون سے بھارت سے کپاس درآمد کرنے کی تجویز بھی منظور کر لی تھی۔

تاہم یکم اپریل کو وفاقی کابینہ نے اس وقت تک بھارت سے تجارت کرنے کے ای سی سی کے فیصلے کو مؤخر کر دیا تھا جب تک نئی دہلی اپنے آئین کا آرٹیکل 370 بحال نہیں کرتا، جو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی ضمانت دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

پانی۔۔پاک بھارت کشیدگی کا بڑا سبب

بھارت سے تجارتی تعلقات کا انقطاع، ماہرین کیا کہتے ہیں؟

بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارت معطل، سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ

پاکستان نے نئی دہلی کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد اگست 2019 میں بھارت سے دو طرفہ تجارت معطل کر دی تھی۔

بھارت سے تجارت بحال کرنے کا حالیہ فیصلہ اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان کئی ماہ کی کشیدگی کے بعد لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر سیز فائر پر اتفاق کے بعد سامنے آیا تھا۔

اس اقدام نے ان امیدوں کو دوبارہ زندہ کر دیا تھا کہ جوہری طاقت رکھنے والے دونوں پڑوسی ممالک تعلقات معمول پر لانے کے لیے چھوٹے چھوٹے اقدامات لینا شروع کریں گے۔

سال 19ـ2018 میں پاکستان اور بھارت نے صرف 49 کروڑ 48 لاکھ ڈالر سے زائد کی باہمی تجارت کی تھی جس کا زیادہ تر حصہ بھارت کے فائدے میں رہا تھا۔

محکمہ خارجہ کی بریفنگ میں نیڈ پرائس نے بائیڈن انتظامیہ کی اس خواہش پر بھی زور دیا کہ امریکا، افغانستان سے فوجی انخلا چاہتا ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ کیا واشنگٹن اس کے لیے یکم مئی کی ڈیڈ لائن پر عمل کرے گا یا نہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کے گزشتہ سال فروری میں طالبان کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے کے مطابق واشنگٹن کو یکم مئی تک افغانستان سے فوجی انخلا مکمل کرنا ہے، بائیڈن انتظامیہ نے بھی اس معاہدے کو قبول کیا تھا لیکن وہ ڈیڈ لائن پر عملدرآمد میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

نیڈ پرائس نے کہا کہ ہم تنازع کے ذمہ دارانہ خاتمے کے لیے پرعزم ہیں جس میں ہماری فوج کا انخلا بھی شامل ہے لیکن یہ اس یقین دہانی کے بغیر نہیں ہو گا کہ افغانستان دوبارہ کبھی امریکا یا اس کے اتحادیوں کے خلاف دہشت گردوں کے حملوں کے لیے لانچ پیڈ نہیں بنے گا۔

یاد رہے کہ 30 مارچ کو وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے دوشنبے میں منعقدہ، نویں ”ہارٹ آف ایشیاءـاستنبول پراسس” کانفرنس کے موقع پر افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی تھی جس میں پاک افغان دو طرفہ تعلقات اور افغان امن عمل سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ پاکستان خطے کے امن و استحکام کیلئے افغانستان میں قیام امن کو ناگزیر سمجھتا ہے، ہمیں افغانستان میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش ہے، پاکستان کا موقف ہمیشہ سے یہی رہا کہ افغان مسئلے کو طاقت کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button