صحت

صحت سہولت کارڈ بجا لیکن ایکسرے مشین کیوں خراب ہے؟

جوھر شاہ

خیبر پختونخوا میں صحت انصاف کارڈ سے غریب اور امیر سب کو مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے مگر بعض ہسپتالوں میں اس سہولت کے باوجود غریب عوام کو مختلف بہانوں کے ذریعے لوٹا جاتا ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت صحت انصاف کارڈ کے ذریعے لوگوں کو مفت علاج فراہم کر رہی ہے اور صوبائی حکومت کی تقریباً دس سالہ کارکردگی میں سرفہرست کارنامہ بھی یہی مفت علاج بتایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی غریب عوام ان سہولیات سے محروم اور ناآشنا ہے۔ کیونکہ ان سرکاری ہسپتالوں میں تعنیات مسیحا کی شکل میں ڈاکٹر حضرات غریب عوام کے دکھ درد میں مخلص نہیں۔ ہسپتال میں ایک معمولی ایکسرے کی خرابی سے ہسپتال ہذا میں مریضوں کو کتنی دقت ہوتی ہے یہ کوئی ان مریضوں سے پوچھے جو اس تکلیف سے گزر رہے ہیں۔

اب حکومت ایک مریض کے علاج پر 7 سے 10 لاکھ روپے تو خرچ کرتی ہے لیکن گورنمنٹ نصیر اللہ بابر میموریل ہسپتال کوہاٹ روڈ میں پچھلے تین مہینوں سے خراب ایکسرے مشین لگانے یا ٹھیک کرنے میں کوتاہی کر رہی ہے۔ اس مشین کی زیادہ سے زیادہ 1 سے 2 کروڑ روپے قیمت ہو گی جو کہ 20 مریضوں کے علاج سے زیادہ رقم بنتی ہے لیکن پھر بھی مذکورہ ہسپتال میں ایکسرے مشین خراب ہے اور پرائیویٹ سیکٹر کی جانب سے لگائی گئی ڈیجیٹل ایکسرے مشین کے ذریعہ لوگوں سے روزانہ ہزاروں روپے کمائے جا رہے ہیں۔

مذکورہ ہسپتال میں پہلے سے موجود ایکسرے مشین پر کام کرنے والے ٹیکنیشنز صبح و شام اس پر کام کرتے ہیں، مگر مشین خراب ہونے کی وجہ سے یہ لوگ فارغ ہیں۔ جب ان ٹیکنیشنز سے پوچھا گیا کہ اس مشین اور اْس ڈیجیٹل مشین میں کیا فرق ہے تو اْنہوں نے کہا کہ جدید مشین ہے، فرق تو ہے مگر اتنا بھی نہیں کہ یہ مشین اس کے مقابلے مِیں بالکل ہی بے کار اور فضول ہے البتہ ڈاکٹروں نے اپنی آسانی کے لئے ڈیجیٹل مشین کو اپنی ترجیحات میں شامل کر رکھا ہے۔

ہسپتال کے اور ذمہ دار اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکومت ہسپتال کے لئے اتنے قیمتی ایکوپمنٹ خریدتی سکتی ہے تو ایک ڈیجیٹل ایکسرے خریدنا کون سا مشکل اور ناممکن کام ہے؟ ایک پرائیویٹ فرم یا شخص اس پر پیسے لگا کر لاکھوں کما رہا ہے تو حکومت کے لئے کیسے ناممکن ہے کہ وہ اس معمولی سی مشین کو خرید نہیں سکتی؟

ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر فخرالدین سے جب رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو بتایا گیا کہ وہ تین دن سے رخصت پر ہیں۔ پھر ہسپتال کے ہیڈ کلرک علی نواز سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ایم ایس صاحب نے ہیلتھ ڈائریکٹریٹ سے بات کی ہے مگر فنڈز کی عدم دستیابی سے فی الحال کچھ نہیں کر سکتے۔

اب سوال یہ ہے کہ اس مشین کی مرمت کو جان بوجھ کر ٹالا جا رہا ہے یا درمیان میں پبلک پرائیویٹ سیکٹر کو ریلیف دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جبکہ ہسپتال کے جس کمرے میں پرائیویٹ ایکسرے مشین لگائی گئی ہے وہاں رش کی وجہ سے لوگ اور خِاص کر مریضوں کو بہت دقت ہوتی ہے۔

ان مریضوں میں سے ایک عمر رسیدہ خاتون سے جب پوچھا گیا کہ اْدھر ہسپتال میں دوسری ایکسرے مشین بھی ہے تو کہنے لگی وہ تو ہسپتال والوں نے خود خراب کی ہے تاکہ اس مشین کے ذریعے زیادہ پیسے کما کر اپنی جیبوں کو بھر دیں۔

قطار میں کھڑے ایک اور معمر شخص سے جب پوچھا گیا کہ کس لئے ایکسرے بنا رہے ہو تو کہنے لگا کہ بچَے کے ہاتھ میں فریکچر آیا ہے اْدھر سرکاری مشین خراب ہے تو یہاں اس مشین سے کروانے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا سرکار نے لاکھوں روپے کی مشین لگائی ہے پرائیویٹ سے لاکھ درجے اچھی تو سرکاری مشین ہے برسوں سے اسی سرکاری مشین سے کروا رہے ہیں، اب یہ مشین غیرمعیاری قرار دی گئی ہے تو مجبوراً اس مشین سے ایکسرے کروانے آئے ہیں۔

ان مریضوں نے مطالبہ کیا کہ پرائیویٹ کلینکس اور ہسپتالوں میں غریب عوام علاج سے قاصر ہیں، سرکاری اور فلاحی اداروں کے نام پر قائم ہسپتالوں میں عوام کے ساتھ ناروا سلوک بند کیا جائے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button