صحت

وقت کی قلت صحافی کو ذہنی تناؤ کا شکار بنا دیتی ہے!

شاہد خان

صحافی کی دنیا ہمیشہ خبر کے گرد گھومتی ہے لیکن خبر ہمیشہ وقت کی قید میں رہتی ہے، عام لوگوں کے لئے خبر معمول کا عمل ہے، لیکن ایک صحافی اس خبر کو سامنے لانے اور اس سے پہلے تصدیق کرنے کے لئے جن عوامل سے گزرتا ہے ان میں وہ بسااوقات شدید ذہنی تناؤ کا بھی شکار ہو جاتا ہے۔

صحافیوں کے ذہنی تناؤ اور دور جدید میں سوشل میڈیا کی جعلی خبروں کی روک تھام کے لئے ان کے کردار کو الفاظ میں بیان کرنا اتنا آسان نہیں۔ ماضی میں خبر کے لئے اخبار کی اگلی اشاعت تک انتظار کیا جاتا تھا لیکن اب الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کی آمد کے بعد خبر، اس کی فالو اپ، معاشرے پر اس کے اثرات اور اس پر اٹھنے والے سوالات کے لئے صحافی ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔

سیاسی لیڈر ہو یا کوئی اور اعلیٰ شخصیت، کسی کی بھی کہی ہوئی بات کو صحافی صرف جوں کے توں پیش نہیں کرتا بلکہ اس کی تصدیق بھی کرتا ہے لیکن اس عمل میں وقت کی قلت صحافی کو ذہنی تناؤ کا شکار بنا دیتی ہے۔

الیکٹرونک میڈیا سے وابستہ صحافیوں کے پاس خبر کی تصدیق کے لئے انتہائی کم وقت ہوتا ہے، اسے چند منٹوں میں تصدیق کر کے خبر فائل کرنا ہوتی ہے، جائے وقوعہ تک پہنچنا ہو، کسی اعلیٰ شخصیت سے متعلق خبر کی متعدد ذرائع سے تصدیق کرنی ہو اور اس کے لئے متعلقہ حکام سے رابطہ کرنا ہو تو صحافی کے پاس محض چند منٹ کا وقت ہوتا ہے۔ اس دوران اپنے ایڈیٹر کی جانب سے بار بار خبر کی اپ ڈیٹس لینا اور ہیڈ آفس کی طرف سے بھی بار بار فون کر کے خبر کی جلد سے جلد تصدیق کرنے کے لئے دباؤ ڈالنے سے بھی صحافی کو سخت آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے۔ اور یہ آزمائش صحافی کی زندگی کا معمول ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ماہر نفسیات پروفیسر ڈاکٹر خالد مفتی کہتے ہیں کہ پشاور کے 60 فیصد سے زائد صحافی شدید قسم کے ذہنی دباؤ کا شکار ہو چکے ہیں جو ان کے کھانے پینے اور نیند سمیت روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے، ذہنی دباؤ کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ بیشتر صحافیوں میں یہ احساس کمتری پائی جاتی ہے کہ ان کی ملازمت مستقل نہیں بلکہ کسی بھی وقت انہیں کہا جا سکتا ہے ادارے کو آپ کی خدمات کی ضرورت نہیں۔

ڈاکٹر خالد مفتی کے مطابق پشاور کے صحافیوں میں مختلف قسم کا خوف اور ڈر پایا جاتا ہے، مثلاً کوریج کرتے وقت کسی حادثے کا شکار ہو گئے تو اس کی فیملی کا کیا بنے گا؟ کسی مافیا یا بااثر افراد کےخلاف کوئی خبر شائع کی یا آن ائیر کر دی تو کہیں وہ اس کو یا فیملی کو نقصان نہ پہنچائے۔ اس کے علاوہ آج حکومت کی جانب سے لاگو کئے گئے مختلف قوانین ہیں جس کے متعلق خیال کیا جار ہا ہے کہ ان قوانین کے باعث صحافیوں کے کام کو مزید مشکل بنایا گیا ہے۔

ماہر نفسیات ڈاکٹر خالد مفتی مزید کہتے ہیں کہ جدید دور میں سوشل میڈیا کے ذریعے خبروں کی بھرمار میں تصدیق کا عمل صحافی کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور ڈیجیٹل آلات کا زیادہ استعمال بھی صحافی کیلئے ذہنی دباؤ کا باعت بنتا ہے،صحافی کا زیادہ وقت فون کے استعمال میں گزرتا ہے، سوشل میڈیا کا استعمال ہو یا پھر دھماکوں، حادثات، ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال کی کوریج یا پھر دوسری قسم کی خبر، صحافی نے زیادہ تر کام فون پر ہی کرنا ہوتا ہے جو کہ ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کا سبب بنتا ہے، صحافی مختلف قسم کے الیکٹرانک الات استعمال کرتے ہیں، ہر قسم کے الیکٹرانک الات کا استعمال ذہنی کمزوری پیدا کرتا ہے یعنی یاداشت کمزور ہوتی ہے، جسمانی کمزوری بھی پیدا ہو سکتی ہے، موبائل کے زیادہ استعمال کی وجہ سے مثبت سوچ کا مادہ ختم ہونے کا خدشہ ہوتا ہے یعنی بندہ ہر وقت منفی سوچتا ہے اور اپنی زندگی میں ترتیب نہیں لا سکتا۔

ماہر نفسیات کے مطابق صحافت سے وابستہ افراد غیرمحسوس انداز میں ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں، اس کی اہم وجہ کام کا بوجھ اور گھبراہٹ ہے، صحافت ایک حساس شعبہ ہے جس سے وابستہ خواتین و حضرات کو شدید ذہنی و نفسیاتی دباﺅ میں کام کرنا پڑتا ہے، اس کے ساتھ انہیں مختلف ڈیڈلائنز کا بھی سامنا ہوتا ہے، اور صحافیوں میں ذہنبی تناؤ کی یہی بنیادی وجہ ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button