”پولیس تھانے نامنظور، قبائلی نظام سے بہتر نظام کوئی نہیں”

ضلع خیبر کی تحصیل لنڈیکوتل میں پولیس سٹیشن کے قیام اور انضمام کے خلاف قبائلی مشران کا جرگہ ہوا اور بعدازاں دھرنا دیا گیا۔

نمائندہ ٹی این این کے مطابق لنڈیکوتل کے دورافتادہ علاقے لوئی شلمان میں پولیس تھانہ قائم کرنے کے خلاف قبائلی مشران و ملکان کے دھرنے کی قیادت خیبر قومی جرگہ کے چیئرمین ملک بسم اللہ خان آفریدی کر رہے تھے۔

لوئے شلمان اور جمرود کے مشران نے پولیس تھانے کے قیام کی شدید مذمت کی اور انضمام کے خلاف تحریک مضبوط کرنے کا عہد کیا۔

اس موقع پر مقررین نے کہا کہ شلمان کو ہسپتال، سکول، کالج، تفریحی پارک، بجلی، گیس، پانی اور دیگر ضروریات و سہولیات کی ضرورت ہے نہ کہ پہلی فرصت میں پولیس تھانے بنائے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ شلمان کی سڑکیں خراب ہیں، بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے لہذا تھانوں کی بجائے انہیں ضروریات زندگی کی چیزیں مہیا کی جائیں۔

اس کے بعد کم شلمان میں بھی خیبر قومی جرگہ کے زیر اہتمام انضمام اور پولیس تھانہ نظام کے خلاف ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں کثیر تعداد میں کم شلمان کے لوگوں نے شرکت کی۔

انہوں نے بھی حکومت کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ شلمان سمیت قبائلی خطے میں پولیس تھانوں کی بجائے انہیں اپنے حقوق دیئے جائیں، انضمام تو قبائلی عوام کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے لہذا شلمان کے لوگ بھی انضمام اور پولیس نظام کے خلاف ہیں ،انہیں ہرگز پولیس نظام قابل قبول نہیں ہے۔

خیبر قومی جرگہ کے چیئرمین ملک بسم اللہ خان، ملک سردار اعظم آفریدی، ملک عبدرزاق زخہ خیل، ملک طہماش خان شلمان، ملک حنیف، شیر اسلام و دیگر نے شلمان میں اپنی تقریروں کے ذریعے شلمان کے لوگوں کو آگاہ کیا کہ پولیس تھانہ نظام فرشودہ نظام ہے، قبائلی نظام سے بہتر نظام کوئی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا مرجر قبائلی عوام کے ساتھ دھوکہ ہے، فاٹا مرجر چند افراد نے مل کر غیروں کے اشاروں پر اپنے مفادات کی خاطر کیا ہے جو کہ کسی صورت قبائلی عوام کو منظور نہیں ہے۔

ملک بسم اللہ خان نے کہا کہ انشاءاللہ قبائلی نظام کو واپس لانے کیلئے ہر حد تک جانے کیلئے تیار ہیں، مل کر جدوجہد جاری رکھیں گے۔

قوم شلمان کے مشران ملک یار باد شاہ، ملک طہماش، ملک میر علی شاہ، ملک جعفر، ملک سردار خان اور شاہ جی و دیگر کثیر تعداد میں علاقہ عمائدین نے خیبر قومی جرگہ کا ساتھ دینے اور انضمام کے خلاف جدوجہد کے اس عمل میں شریک ہونے کا عہد کیا۔

Show More

جواب دیں

Back to top button
Close