تعلیم

خیبر پختونخوا، میٹرک امتحانات میں ناقص کارکردگی دکھانے والے اساتذہ کے خلاف کاروائی شروع

آفتاب مہمند

محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا نے میٹرک کے امتحانات میں ناقص کارکردگی دکھانے والے سکولوں اور اساتذہ کے خلاف کاروائی کا آغاز کر دیا۔ اس سلسلے میں محکمہ تعلیم نے کئی سکولوں کے سربراہان اور اساتذہ کو نوٹسز جاری کر دیئے۔ محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع کے 150 سے زائد سکولز پرنسپلز، وائس پرنسپلز اوراساتذہ کو شوکاز نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔

مراسلے کے مطابق پشاور کے اسکولوں کے مختلف کیڈرز کے 13 اساتذہ سے بھی وضاحت طلب کی گئی ہے جن میں صالح الدین، محمد ساجد، محمد ذکریا، طارق شاہ، شاہد شہزاد، خالد الرحمان، نوید الرحمان، فواد سعید، عبدالوہاب، محمد فہیم، محمد اقبال، سفیان علیںشاہ اور غلام سرور خان شامل ہیں۔ تمام اساتذہ کو سات دن کے اندر وضاحت پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اعلامیہ کے مطابق تمام اساتذہ سے ایک مضمون میں فیل ہو جانے، ایک سے زائد مضمون میں یا مکمل فیل ہو جانے کی وجوہات جیسے سوالات پوچھ کر اساتذہ سے سات دن کے اندر اندر وضاحت پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اس حوالے سے رابطہ کرنے پر سکولز آفیسرز ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر سمیع اللہ خلیل نے ٹی این این کو بتایا کہ محکمہ تعلیم کے مذکورہ فیصلے و اقدام کیساتھ صوبہ بھر کے اساتذہ اتفاق نہیں کرتے۔ محکمہ تعلیم نے پچھلے سال میٹرک امتحانات سے تھوڑا عرصہ قبل کاروائی جیسا فیصلہ کیا تھا تو ہونا چاہئیے تھا کہ اس ضمن میں تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جاتا۔ کورسز میں اچانک تبدیلیاں لائی جاتی ہیں، امتحانی پرچوں کا پیٹرن تبدیل کیا جاتا ہے اور اساتذہ کو علم بھی نہیں ہوتا لہذا مزکورہ اقدام کے منفی اثرات مرتب ہونگے۔

سمیع اللہ خلیل نے مزید کہا کہ آج تک اساتذہ کیلئے ٹریننگز کا کوئی اہتمام نہیں کیا گیا، اگر اساتذہ کو باقاعدہ ٹریننگ دی جاتی تو نہ صرف خود وہ ہر وقت اسی طرح کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے تیار رہتے بلکہ طلبا و طالبات کو بھی تیار کیا جاتا۔ دیکھا جائے تو دنیا بھر میں ایک استاد معاشرے کا سب سے قابل عزت انسان سمجھا جاتا ہے، اسی طرح ٹیچنگ کا شعبہ بھی انتہائی قابل قدر شعبہ ہے۔ اگر اسی طرح کھلے عام کاروائیاں کی جاتی ہیں تو اساتذہ اور پیشہ دونوں کی بدنامی ہو جائے گی جسکا معاشرے پر کوئی اچھا اثر نہیں پڑے گا۔

اب اساتذہ خود کو اسی طرح کی کاروائی سے بچانے کیلئے امتحانات کے دوران طلبا کو نقل کیلئے فری ہینڈز دیں گے تاکہ وہ پرچہ اچھے طریقے سے حل کرسکیں اور اس کا رزلٹ اچھا ہو۔ نقل کا رجحان بڑھ کر یہ تو الٹا نظام تعلیم کا نقصان ہوگا لہذا اس جیسے فیصلے کرنے سے قبل تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کرنی چاہئے تاکہ محکمہ تعلیم اور اساتذہ ایک جامع حکمت عملی بنا سکیں جس کا تعلیمی نظام اور طلبا کو فائدہ مل سکیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال میٹرک کے نتائج کے بعد محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا نے اعلان کیا تھا کہ 20 فیصد یا اس سے کم نتائج کے سکولوں سٹاف کو سزائیں دی جائیں گی۔ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے فیصلہ کیا گیا تھا کہ متعلقہ سٹاف کو شوکاز نوٹس جاری کئے جائیں گے۔خراب کارکردگی کے حامل اساتذہ کا ٹیچنگ الائونس روکا جائے گا۔

ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے ضلعی تعلیمی افسران کو ہدایات جاری کی گئی تھی کہ سزائوں کے لئے ضلعی افسروں کو خصوصی طور پروفارما ارسال کیا جائے۔ پورے صوبے میں خراب کارکردگی کے حامل سکولوں کی تعداد 707 رہی تھی جن میں ایسے سکول بھی شامل ہیں جن کے نتائج صفر فیصد رہے تھے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button