تعلیم

23 فیصد وسائل بھی خیبر پختونخوا کی تعلیم بہتر نہ کرسکے

خیبر پختونخوا کے تعلیمی بورڈز میں افسوس ناک نتائج نے سرکاری سکولوں میں معیار تعلیم سے متعلق دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ صوبے میں ہزاروں سرکاری سکولوں میں پڑھنے والے لاکھوں بچوں پر سالانہ سیکڑوں ارب روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی نتائج میں سرکاری سکول نجی سکولوں سے کوسوں دور ہیں۔

خیبر پختونخوا کے حالیہ نہم و دہم امتحانات میں درجنوں سکولوں کے ناقص نتائج آنے کا بھی انکشاف ہوا ہے، صوبے کے 5 تعلیمی بورڈز کے 845 سکولوں کے نتائج 50 فیصد سے بھی کم آئے، محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی دستاویز کے مطابق مردان، ڈئی آئی خان، آیبٹ آباد، ملاکنڈ اور سیدو شریف (سوات ) بوڈرز کے زیر اہتمام 44 سرکاری سکولوں میں کوئی بھی طالب علم پاس نہیں ہوسکا ہے جو انتہائی افسوسناک ہے 126 سکولوں کے طلبہ کے نتائج 10 فیصد اور 84 سکولوں کے 20 فیصد سے بھی کم نتائج حآصل کئے۔

دستاویز کے مطابق کچھ سکول تو ایسے بھی ہے جہاں کے تمام کے تما طلبہ فیل ہوگئے ہے۔ سیدو شریف بورڈ کے 322 سکولوں کے نتائج 50 فیصد سے کم ہے، مردان کے 207، ملاکنڈ کے 171، ایبٹ آباد کے 134 اور ڈی آئی خان کے 11 سکولوں کے نتائج 50 فیصد سے بھی کم ہیں۔ سیدو شریف کے 29، ایبٹ آباد کے 9، ملاکنڈ کے 3، ڈی آئی خان 2 اور مردان کے ایک سکول کا کوئی طالب علم پاس نہیں ہوا ہے۔

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے سرکاری سکولوں میں افسوسناک نتائج سامنے آنے کے بعد معمول کے مطابق کارروائی بھی شروع کردی ہے سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم معتصم باللہ کے مطابق ناقص نتائج والے سکولوں کا ڈیٹا طلب کیا ہے، تمام سکول سربراہان اور متعلقہ اساتذہ کے خالف کارروائی ہوگئی جس سکول کے نتائج خراب ہے، آنے والے امتحانات میں ایسے بہتر بنانے کے لئے اقدامات کئے جائے گئے تمام بورڈ کے نتائج کا جائزہ لینے کے لئے تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو اس پر کام کر رہی ہیں۔

محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کا رواں برس کے پہلے چار ماہ کا بجٹ 99 ارب روپے سے زائد ہے، یعنی رواں مالی سال کا اگر مکمل بجٹ دیکھا جائے تو یہ تقریبا 297 ارب روپے بنتا ہے جو صوبائی بجٹ کا 23 فیصد سے بھی زائد ہے اس کے باوجود سرکاری تعلیمی ادارے قابل ذکر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی ہزاروں آسامیاں خالی ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا کی دستاویز کے مطابق سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کے مجموعی طور پر 21 ہزار 137 پوسٹس خالی ہیں۔ لڑکوں کے سرکاری اسکولوں میں 11 ہزار 709 اساتذہ کی آسامیاں خالی ہیں، لڑکیوں کے سرکاری اسکولوں میں 9 ہزار 428 اساتذہ کی آسامیاں خالی ہیں۔ صرف اساتذہ ہی نہیں بلکہ سکولوں میں انتظامی عہدے بھی خالی ہیں۔

محکمہ کی دستاویز کے مطابق لڑکوں کے 109، لڑکیوں کے 102 اسکولوں میں پرنسپلز کی پوسٹس خالی ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں پی ایس ٹی کی 3 ہزار 853 آسامیاں خالی ہیں، 320 اسکولوں میں فزکس، 276 میں کیمسٹری، 297 میں بائیولوجی کی پوسٹیں خالی ہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button