تعلیم

لڑکیوں کی تعلیم: کیا افغان طالبان پاکستانی علماء کی بات مان جائیں گے؟

شاہین آفریدی

افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم جلد شروع ہو جائے گی۔ پاکستانی علمائے کرام کے آٹھ رکنی وفد نے 25 جولائی کو افغانستان میں افغان اور پاکستانی طالبان کے سینئر رہنماؤں سے ملاقاتیں کی۔ یہ وفد جمعہ کو وطن واپس پہنچا ہے۔

افغان طالبان نے وفاق المدارس کے سربراہ مفتی محمد تقی عثمانی کی قیادت میں سینئر علماء کو کابل مدعو کیا تھا۔ کابل میں رہنماؤں کے درمیان اقتصادی مسائل، تجارت، دونوں ممالک کے درمیان نچلی سطح پر اچھے تعلقات اور خواتین کی تعلیم پر بات چیت ہوئی۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں پاکستانی وفد کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دونوں ممالک کے علماء کے درمیان خصوصی گفتگو ہوئی جبکہ انہوں نے زیادہ معلومات شریک کرنے سے معذرت کر لی۔

انہوں نے بتایا “مفتی تقی عثمانی سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج رہ چکے ہیں، وہ اسلامی نظام کے تحت معیشت، قانون، امن اور تعلیم کے بارے میں گہری فہم اور علم رکھتے ہیں، اس دورے میں ان موضوعات پر بات کی گئی ہے، امارات اسلامی کے رہنماؤں کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی کہ بہت جلد لڑکیوں کے سکول اور کالج کھول دیے جائیں گے جہاں وہ شرعی قانون کے تحت تعلیم حاصل کر سکیں گی۔”

پاکستانی علماء کے وفد کے ایک اور رکن نے بتایا کہ انہوں نے لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے پاکستان کی مثالیں دیں، یہاں لڑکیاں تعلیم کے ساتھ صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں عوام کی خدمت کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ “ہم نے افغانستان کے حکمرانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ تمام لڑکیوں کو اپنے اسکولوں اور کالجوں میں جانے کی اجازت دیں، طالبان کی حکومت لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے مختلف انتظامات کر سکتی ہے اور اچھے ماحول میں تعلیم حاصل کی جا سکتی ہے۔”

UN کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق افغانستان میں گزشتہ 2 دہائیوں میں خواتین کی ترقی خاص طور پر تعلیم میں دیکھی گئی، افغانستان کے پچھلے بیس سالوں میں پہلے سے کہیں زیادہ خواتین سکول جانے کے قابل ہوئیں، بشمول چھٹی جماعت سے آگے کی تعلیم، اور بہت سی خواتین کالج کی ڈگری حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں، خواتین کی خواندگی، جو ابھی بھی 50 فیصد سے کم ہے، ڈرامائی طور پر بڑھی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2018 تک 3.6 ملین سے زیادہ لڑکیاں تعلیمی اداروں میں داخل ہوئیں، 2.5 ملین سے زیادہ پرائمری اسکول اور 1 ملین سے زیادہ سیکنڈری سکولوں میں داخل ہوئیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق، ثانوی تعلیم میں لڑکیوں کی تعداد میں اضافہ خاص طور پر نمایاں تھا، 2018 میں تقریباً 40 فیصد خواتین نے داخلہ لیا جبکہ 2003 میں یہ شرح 6 فیصد تھی، افغانستان میں 49 سے زیادہ کالج اور یونیورسٹیاں ہیں، زیادہ تر نے طالبان کی آمد سے قبل خواتین طالبات کا استقبال کیا۔ ان کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کابل یونیورسٹی بھی شامل ہے جسے 1996 اور 2001 کے درمیان طالبان کی سابقہ حکومت نے بند کر دیا تھا اور 2002 میں دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔ 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے، کابل یونیورسٹی میں 24,000 طلباء تھے، جن میں بہت سی خواتین طالبات شامل تھیں۔

پشاور میں افغان پناہ گزین وصا خلیلی کا کہنا ہے کہ تعلیم سے نہ صرف انسان کی زندگی بہتر ہوتی ہے بلکہ اس سے جڑے لوگوں کی زندگیاں بھی بدل جاتی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ کوئی بھی تعلیم سے دور نہیں رہنا چاہتا۔

وہ کہتی ہیں “لڑکیوں کو تعلیم سے محروم ہوئے تقریباً ایک سال ہو گیا ہے، طالبان کے ماضی کے دور میں زیادہ تر لوگ خصوصاً خواتین تعلیم سے محروم تھیں، جس کی وجہ سے افغانستان میں پوری نسل تعلیم سے محروم ہو چکی ہے لیکن کوئی بھی اس نقصان کو قبول نہیں کرتا ہے۔”

گزشتہ 20 سالوں میں سرکاری سکولوں کی ابتر حالت کے پیش نظر پرائیویٹ سکولوں میں اضافہ ہوا ہے جن میں لڑکیوں کے سکول بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 2020 تک افغانستان میں 803 پرائیویٹ اسکول تھے، جن میں 170,000 سے زیادہ طلباء پڑھتے تھے جن میں سے 44 فیصد خواتین تھیں۔ ان نجی اسکولوں میں سے نصف سے زیادہ 420 کابل میں اور 124 ہرات میں تھے۔ ان اسکولوں میں مختلف موضوعات پڑھائے جاتے تھے اور بہت سے اسپیشلائزڈ تھے۔ ان سکولوں کو بھی طالبان نے بند کر دیا تھا۔

اگرچہ ایسا لگتا ہے کہ افغان خواتین نے تعلیم میں بڑی پیش رفت کی ہے، لیکن گزشتہ 20 سالوں کے دوران خواتین کی تعلیم میں یہ واضح پیش رفت گمراہ کن ہو سکتی ہے۔ کابل اور چند دوسرے شہروں جیسے کہ جلال آباد اور ہرات میں اعلیٰ طبقے نے فائدہ اٹھایا، لیکن ملک کے بیشتر حصوں میں، خاص طور پر دیہی علاقوں اور نچلے طبقوں میں، خواتین نے کامیابی حاصل نہیں کی۔ درحقیقت، 20 سال کی حکومتی مدد اور لاکھوں ڈالر کی بین الاقوامی امداد کے بعد بھی خواتین کا مستقبل تاریکیوں میں نظر آ رہا ہے۔

شعور اتل، جو کابل کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر کی تعلیم بھی حاصل کر رہے تھے، کہتے ہیں، “افغان خواتین معاشرے کا نصف حصہ ہیں، اگر انہیں تعلیم نہیں ملی تو مجھے نہیں لگتا کہ وہ ملک کی ترقی اور خوشحالی میں زیادہ حصہ ڈال سکیں گی۔”

وصا خلیلی اور شعور اتل کی طرح ہر باشعور افغان شہری کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم کا دروازہ کھل جاتا ہے تو یہ بات یقینی ہے کہ پاکستان ہجرت کرنے والے زیادہ تر لوگ افغانستان واپس چلے جائیں گے اور تعلیم کا ادھورا سلسلہ دوبارہ سے شروع کر دیں گے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button