تعلیم

خیبر : باڑہ میں بچے سکول چھوڑنے پر مجبور، لیکن کیوں ؟

شاہ نواز آفریدی
‘میں نے کئی بار دل میں فیصلہ کیا کہ اپنے بچوں کو اس سکول سے نکال کر کسی پرائیوٹ سکول میں داخل کراوں لیکن کمزور معاشی حالات کی وجہ سے میرے او دیگر بچے شدید گرمی میں چٹائی پر بیٹھ کر ترپال کے نیچے علم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔’
یہ کہنا ہے ضلع خیبر کے علاقے باڑہ سے تعلق رکھنے والے پہلی جماعت کے طالبعلم صفیان کے والد کا۔ گورنمنٹ پرائمری سکول گلاب خیل کلے سپاہ تحصیل باڑہ میں زیر تعلیم پہلی جماعت کے طالب علم صفیان اپنی ایک بہن اور چار بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہے اور اس کے والد چاہتے ہیں کہ صفیاں ماسٹر تک تعلیم حاصل کرے۔
صفیان کے ساتھ اس کا چچا زاد بھائی آٹھ سالہ حسنین بھی پہلی جماعت میں پڑھتا ہے اور یہ دونوں بھی انہی بچوں میں شامل ہیں جو 180 سے گھٹتے گھٹتے اب 68 تک رہ گئے ہیں۔
اسی طرح گورنمنٹ پرائمری سکول بابو جان کلے منڈی کس سے لیئے گئے اعداد و شمار کے مطابق طلباء کی تعداد 118 سے کم ہوکر 80 تک رہ گئ اور امسال سالانہ امتحانات کے بعد بہت سے طلباء یہ ذکر کر رہے ہیں کہ وہ یہ سکول چھوڑ رہے ہیں۔
سکول اساتذہ نے بتایا کہ رمضان المبارک میں سکول کے خیمے جل کر راکھ بن گئے جس کی وجہ سے اب یہاں پڑھائی بہت حد تک مشکل ہو گئی ہے جبکہ گرمی اور دھوپ کے باعث بچے پڑھنے سکول نہیں آتے، اگر سکول کے خیمے ہی گرمیوں کی چھٹیوں میں لگا دیئے گئے تو کافی طلباء واپس پڑھنے آجائیں گے۔
ضلع خیبر کے تحصیل باڑہ میں دہشت گردی سے متاثرہ مجموعی طور پر لگ بھگ 100 سکول مکمل  جبکہ کچھ سکول جزوی طور پر تباہ ہوئے تھے۔
ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر شاہد خان آفریدی کے مطابق علاقے میں واپسی کے بعد گورنر سپیشل ڈیویلپمنٹ پروگرام (جی ایس ڈی پی ) میں 16 تک سکولز تعمیر کئے گئے، 30 سے زائد ری کنسٹرکشن اینڈ ری ہیبیلیٹیشن یونٹ (آر آر یو ) نے تعمیر و مرمت کئے جبکہ غیر سرکاری تنظیم سرحد رورل سپورٹ پروگرام (ایس آر ایس پی) نے بھی کئ سکولز کی فائبر گلاس سے اس کی تعمیر مکمل کی جس سے طلباء کو بہت آسانی رہی۔
شاہد خان کے بقول باڑہ کے تباہ شدہ سکولوں میں 50 تک ادارے چائنہ ایڈ کے فنڈز سے بنائے جا رہے ہیں مگر فنڈز کی فراہمی میں تاخیر کی وجہ سے ان اداروں پر کام مکمل نہ ہوسکا۔ اس سلسلے میں محکمانہ میٹنگز میں ہم نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اپنے فنڈز جاری کرے تاکہ ان اداروں کی تعمیر ممکن ہو۔
باڑہ کے سیاسی و سماجی کارکن و چیئرمین ویل کونسل مشین ڈھنڈ شلوبر زاہد اللہ آفریدی نے ٹی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ باڑہ کے خیمہ سکولوں کے طلباء گرمی کی شدت اور دیگر سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے سکول چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں اور ان میں کئ طلباء نے سکول کو خیر باد بھی کہہ دیا ان میں زیادہ تر کم عمر طلباء ہیں جن کی معاشی حالت کمزور ہونے کی وجہ سے سرکاری سکولوں میں پڑھنے پر مجبور ہوتے ہیں اور یہی بچے جلد ہی کسی بھی غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سکول کے اوقات میں یہی بچے گاؤں میں پگڈنڈیوں پر دیکھے جاسکتے ہیں جو کسی ایک لڑکے کے سمارٹ فون کیساتھ اس کے گرد جمع ہوئے ہوتے ہیں۔
ممبر صوبائی اسمبلی و ڈیڈک چیئرمین خیبر محمد شفیق آفریدی نے اس سلسلے میں بتایا کہ تباہ شدہ تعلیمی اداروں میں باقی ماندہ زیادہ تر چائنہ ایڈ کی مدد سے بنائے جا رہے ہیں مگر پہلی دفعہ چائنہ کے ساتھ منصوبہ مختلف مراحل میں تاخیر کا شکار ہوا جس کی بناء پر ہم نے یہ مسئلہ گزشتہ سال وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کے نوٹس میں لایا جس پر انہوں نے ہدایات جاری کی اور اب تک اسی اداروں پر صوبائی فنڈز سے 20 کروڑ روپے تک خرچ کئے گئے۔
محمد شفیق آفریدی نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تعلیم پر بہت زور دیتا ہے جس کے باعث انہوں نے اس سلسلے میں پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ میں ایجوکیشن کے چیف سے ملاقات میں فیصلہ ہوا کہ اگر چائنہ ایڈ نہیں ملتا یا مزید تاخیر ہوتا ہے تو صوبائی فنڈز سے تمام منصوبوں کو مکمل کیا جائے گا۔
اس سلسلے میں محکمہ بلڈنگ ورکس کے ایکسیئن نے ٹھیکہ داروں کو باقاعدہ نوٹسز جاری کئے تاکہ تعمیر کا کام جاری کر سکے جس سے باڑہ کے تباہ شدہ ان سکولوں کو مکمل کیا جاسکے گا۔
خیمہ سکولوں میں پڑھنے والے طلباء کو درپیش مسائل کے حل میں عدم دلچسپی کے باعث باڑہ کے ان سکولوں کے طلباء کو والدین وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ہاؤس کے سامنے احتجاج کروائینگے، یہ دھمکی گزشتہ روز علاقائی سماجی تنظیم سپاہ یوتھ آرگنائزیشن کے صدر و چیئرمین ویلج کونسل جاوید آفریدی نے ایک بیان میں دی۔
ان کے مطابق اگر حکومت کے پاس اربوں یا کروڑوں روپے کے فنڈز نہیں تو کم از کم یہاں پر ان کو خیمے دے اور واش رومز کی سہولیات دیں تو بھی بہت حد تک مسئلے پر کچھ عرصہ کے لئے قابو پایا جاسکتا ہے۔ اگر حکومت اس میں بھی تاخیری حربے استعمال کر رہی ہیں تو ہم ان بچوں کے والدین سمیت احتجاجی تحریک چلائینگے۔
Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button