جرائم

"رشتہ داروں نے میری بیٹی کو شک کی بنا پر قتل کیا”

شیرین کریم

"سکول سے گھر پہنچنے پر رشتہ داروں نے میری بیٹی کو بے گناہ شک کی بنیاد پر قتل کردیا” یہ کہنا ہے گلگلت بلتستان سے تعلق رکھنے والی رخسانہ کا۔ رخسانہ کا کہنا ہے کہ ” اس واقعہ کے بعد اپنا گھر بار چھوڑ دیا اور کسی اور علاقے میں گھر بسا لیا کیونکہ اس گھر میں میری بیٹی کی نشانیاں تھی جو مجھے جینے نہیں دے رہی تھی۔”

پولیس کرائم ڈپپارٹمنٹ کے مطابق ایک واقعے میں دن چار بجے کے قریب نادیہ (فرضی نام )کو ایک ٹیکسی ڈرائیور نے گلگت کے مضافاتی علاقے بسین سے پک کیا۔ شام آذان کے بعد کسی ٹیکسی میں گھر پہچنے پر نادیہ اور ٹیکسی ڈرائیور کو بھی رشتہ داروں نے قتل کردیا۔

پولیس رپورٹ کے مطابق خاتون اور ڈرائیور کو شک کی بنا پر قتل کردیا گیا کیونکہ خاتون کافی ٹائم غائب تھی۔ گھر انے میں دیر کردی تو گھر والے پریشان ہوگئے کہ بیٹی کہاں چلی گئی اور گھر والوں کو شک ہوگیا کہ ہماری بیٹی کی کسی کے ساتھ شاید غلط تعلقات ہیں۔ وہ انتظار میں بیٹھے تھے کہ کس کے ساتھ واپس گھر اتی ہے۔ انہوں نے رشتہ داروں اور ہمسایوں کے گھروں میں بھی تلاش کیا مگر لڑکی نہیں ملی۔

شام آذان کے بعد گلگت ہسپتال سے لڑکی ایک ٹیکسی میں بیٹھ کر گھر کے قریب پہنچی اور ٹیکسی ڈرائیور کو پیسے دینے لگی تھی کہ گگات لگائے بیٹھے رشتہ داروں نے ٹیکسی ڈرائیور کو پکڑ لیا۔ گھر لے گئے مارا پیٹا اور رات گئے لڑکی اور ٹیکسی ڈرائیور کو قتل کر دیا حالانکہ ٹیکسی ڈرائیور وہ نہیں تھا جس کے ساتھ لڑکی صبح گاڑی میں بیٹھ کر گئی تھی۔ پولیس نے مجرموں کو گرفتار کرلیا لیکن کیس ایک سال گزرنے کے بعد بھی ملزمان کو سزا نہیں ملی۔

یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ گلگت میں غیرت کے نام پر پانچ سالوں میں 84 قتل ہوئے جن میں سے 60 خواتین غیرت کے نام پہ قتل ہوئیں۔

دوسرے واقعے میں سکارکوئی سے تعلق رکھنے والی خاتون (آمنہ)فرضی نام کو جو شادی کرکے پڑی میں رہتی تھی کو قتل کردیا گیا۔ گھر والوں کو شک تھا کہ اسکے دوکاندار کے ساتھ تعلقات ہے جس کی وجہ سے دوکاندار اور خاتون دونوں کو قتل کردیا گیا۔ اس کیس کے ملزمان کو بھی اب تک سزا نہیں ہوئی۔

کرائم ڈیپارٹمنٹ گلگت کے اعدادوشمار کے مطابق گلگت بلتستان میں 60 خواتین غیرت کے نام پہ قتل ہوئی ہیں جن میں سے 2019 میں 12 ، 2020 میں 9 ، 2021 میں 11 ، 2022 میں 13 اور 2023 میں 15 خواتین غیرت کی بھینت چڑ گئی۔پولیس کے مطابق کچھ اضلاع میں غیرت کے نام پہ قتل ہوتے ہیں مگر رپورٹ نہیں ہوتے اور یہ کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔

ایڈوکیٹ امتیاز حسین کے مطابق گلگت بلتستان میں غیرت کے نام پہ قتل کی سب سے اہم وجہ جہالت ہے کیونکہ قانون اور اسلام میں بھی کہیں نہیں ہے کہ اگر کسی عورت اور مرد کے غلط تعلقات ہیں تو قانون ہاتھ میں لے کر انکو قتل کردیا جائے۔ اسلام اور قانون میں بھی ہر جرم کی سزا ہے اگر کوئی خاتون کے کسی مرد کے ساتھ تعلقات ہیں تو قانونا اس خاتون کو خلع لینے کا ہے نہ کہ رشتہ درا دو دو جانوں کا قتل کریں اور خود بھی جیل چلے جائیں۔

غیرت کے نام پہ قتل اکثر اپنے ہی کرتے ہیں ایسے واقعات میں سزا نہ ملنے کی ایک وجہ خاندان والوں کی جانب سے انکو معاف کرنا ہے۔ جتنے بھی غیرت کے نام پر قتل ہوئے ان میں زیادہ تر گھر والوں نے معاف کردیا صلح صفائی کے بعد قتل کا کیس ختم ہوتا ہے۔ اگر پولیس ان واقعات کی صحیح تحقیقات کرے تو سزا دلوانے میں اسانی ہوتی ہے مگر یہاں گواہ نہ ملنے کے وجہ سے مجرم بری ہوجاتے ہیں اور ایسے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے۔

ہیومن رائٹس کے مطابق گلگت بلتستان میں پسند کی شادی کی وجہ سے زیادہ غیرت کے نام پہ قتل ہوتے ہیں اگر خاتون پسند کی شادی کرتی ہے یا شادی کیلیے گھر والے راضی نہیں ہوتے تو اکثر ایسے واقعات میں لڑکا اور لڑکی بھاگ کر شادی کرتے ہیں تو گلگت بلتستان میں اکثر لوگ لڑکا لڑکی دونوں کو قتل کردیا جاتا ہے یا پھر کچھ کیسز میں لڑکی کا قتل ہوتا ہے اور کچھ میں لڑکے کو ماردیا جاتا ہے۔

گلگت بلتستان میں اس طرح کے واقعات زیادہ تر چلاس ،داریل اور گلگت سے زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں کہ اپنی پسند کی شادی پر قتل کردیا جاتا ہے۔
پولیس کرائم ڈیپارٹمنٹ کے مطابق پولیس اپنا تمام کام کرکے دیتی ہیں تمام تر تحقیقات کے بعد عدالت میں دیتی ہیں مگر مجرموں کو کئی سال گزرنے کے بعد بھی سزا نہیں ملتی۔ ایسے کیسز میں سزا نہیں ملتی اور وقت پر لواحقین کو انصاف بھی نہیں ملتا۔

رخسانہ خاتون نے بتایا کہ رشتہ داروں نے میری بیٹی کو شک کی بنا پر قتل کیا حالانکہ وہ بہت چھوٹی تھی۔ انصاف کیلیے عمر بھر عدالت کے چکر کاٹے لیکن نہیں ملا۔ "میری بیٹی تو نہیں رہی مگر جرگے اور عدالتوں کے چکر کے خرچے میں برداشت نہیں کرسکتی اللہ ہی انصاف دے گا۔”
رخسانہ نے مزید بتایا کہ "گلگت بلتستان میں انصاف ملنا بھی ناممکن ہے اسلیے میں اپنے رشتہ داروں سے دور اکر کسی اور گاوں میں آباد ہوئی ہوں تاکہ اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت پر توجہ دے سکوں اور دوسری بیٹی کی رشتہ داروں میں ہی شادی کردی ہے۔”
رخسانہ کہتی ہیں کہ گلگت بلتستان میں پڑھے لکھے لوگوں کی کمی ہے۔ تعلیم اور شعور کی کمی کی وجہ سے اکثر اوقات بے گناہ لڑکیوں کو شک کی بنا قتل کردیا جاتا ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button