جرائم

خیبر پختونخوا میں 3 سو سے زائد بم ناکارہ بنا دئے گئے

انور خان

خیبر پختونخوا بم ڈسپوزل یونٹ کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں رواں سال کے پہلے 6 مہینوں کے دوران برآمد ہونے والے مختلف نوعیت کے 361 بم ناکارہ بنا دئے ہیں۔

بی ڈی یو رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ 115 بم مردان میں ناکارہ بنا دئے ہیں جن میں 33 راکٹ، 79 ہینڈ گرنیڈ، 2 ٹائم بم اور ایک ریموٹ کنڑول بم شامل ہے۔

جاری کردہ اعداد وشمار میں بتایا گیا ہے کہ پشاور میں خودکش جیکٹ سمیت 89 بم، کوہاٹ میں 55 بم، دیر میں 31 راکٹ جبکہ ملاکنڈ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں 11، 11 ہینڈ گرنیڈ کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔

اسی طرح بم ڈسپوزل ٹیم چارسدہ اور بنوں میں 9 بارودی مواد اور ہنگو میں 6 ہینڈ گرینڈ اور ایک ٹائم آئی ڈی کو ناکارہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ضلع کرم میں 6، کرک اور مہمند میں 4 ہینڈ گرنیڈ، ضلع خیبر میں 4 جبکہ لکی مروت میں 3 دستی بموں کو ڈیفیوز کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق وزیرستان، اورکزئی اور صوابی میں بھی ایک ایک ہینڈ گرنیڈ کو ناکارہ بنایا گیا ہے۔

صحافی رسول داوڑ ضم اضلاع سمیت خیبر پختونخوا میں جرائم اور دہشتگردی کو رپورٹ کرتے ہیں۔ ٹی این این سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بم ڈسپوزل یونٹ کی رپورٹ پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ جب تخزیب کاروں کے ساتھ افردی قوت زیادہ ہو تو وہاں ہیڈ گرنیڈ پھینکنے کے واقعات بھی زیادہ ہوں گے جبکہ ہوسکتا ہے کہ پولیس اور فورسز کی کارروائیوں یا افرادی قوت کی کمی کی وجہ سے پشاور اور دیگر علاقے اب دہشتگردوں کے لیے آسان ہدف نہیں رہے۔

داوڑ کے بقول مردان کے آس پاس ایسے علاقے ہیں جو ماضی میں دہشتگردوں کے ٹھکانے رہے ہیں اور اب بھی وہاں ان کی موجوگی کی اطلاعات ہے، یہ لوگ اپنی بقا کے لیے اب مختلف ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں، کبھی بھتے کی وصولی کے لیے کسی کے گھر کے سامنے بم رکھتے ہیں تو کبھی ہینڈ گرنیڈ پھینک دیتے ہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button