جرائم

شمالی وزیرستان: پرامن ایکٹیوسٹ کو نشانہ بنانا ریاستی اداروں کیلئے سوالیہ نشان ہے

امجد قمر

یہ شمالی وزیرستان کے چار جوانوں کی کہانی ہے۔ وقار احمد داوڑ، سنید احمد داوڑ، عماد داوڑ اور اسداللہ جو نظریاتی طور پر ماضی میں مختلف سماجی و سیاسی تنظیموں کا حصہ رہے تھے لیکن قبائلی علاقوں میں آنے والی تبدیلیوں کی وجہ سے انہیں ایک نعرے نے آپس میں جوڑ دیا تھا۔ اور وہ نعرہ جنگ زدہ قبائلی علاقے وزیرستان میں امن کا قیام تھا۔

یہ نوجوان یوتھ فورم وزیرستان کی چھتری کے نیچے اس مقصد کے لیے جمع ہوئے تھے کہ وہ امریکہ، ریاست اور مسلح گروہوں کے درمیان ہونے والی سالہا سال کی سرد جنگ سے اکتا چکے تھے۔ وہ چاروں اسی جنگ میں پروان چڑھے تھے لیکن اپنی آنے والی نسل کے لیے نئے خواب بننے لگے تھے۔ ان پر شاید یہی فردجرم عائد کی گئی۔

ہفتے کے روز جب وہ کھانے پر اکٹھے ہوئے، ایک دوسرے کے ساتھ مسکراہٹوں کا تبادلہ کیا اور پھر گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوئے تو دو موٹر سائیکل سواروں نے ان پر فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں چاروں نوجوان اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

یہ المناک واقعہ شمالی وزیرستان میں تب پیش آیا جب ریاست کے منتخب قبائلی عمائدین، تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ کابل میں مذاکرات میں مصروف ہیں۔ ان مذاکرات کا آغاز گزشتہ سال اکتوبر 2021 میں ہوا تھا۔ اور اس کے بعد تحریک طالبان پاکستان نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ مذاکرات میں پیش رفت کے بعد تحریک طالبان نے گزشتہ ماہ سے پاکستان میں ہر قسم کی کارروائیوں کے حوالے سے غیرمعینہ مدت کے لیے جنگ بندی کا اعلان کر رکھا ہے۔ لیکن اس کے باوجود سیکیورٹی فورسز کیخلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ اور فوجی ذرائع کے مطابق رواں سال جنوری سے اپریل تک تقریباً ایک سو دس کے قریب سیکورٹی فورسز کے جوان مختلف حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

مسلح جتھوں کی ان کارروائیوں میں ان چار جوانوں سمیت کئی افراد کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا ہے۔ اگر تحریک طالبان پاکستان اور ریاست کا نمائندہ وفد جنگ بندی کا معاہدہ کر چکے ہیں تو پھر یہ کارروائیاں کیوں تیز ہو گئی ہیں۔

اس حوالے سے افغانستان اور قبائلی علاقوں پر گہری نظر رکھنے والے معروف صحافی رفعت اللہ اورکزئی نے بتایا کہ ابھی تک کسی بھی مسلح گروپ کی طرف سے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ عرصے میں ٹی ٹی پی نے اپنی مسلح کاروائیوں کے حوالے سے صرف سیکیورٹی فورسز یا ریاست کے نمائندوں کو ہی اپنی کاروائیوں کا نشانہ بنایا ہے جب کہ عام لوگ ان کے حملوں سے محفوظ رہے ہیں۔

رفعت اللہ کہتے ہیں کہ وزیرستان میں حافظ گل بہادر گروپ سمیت کئی چھوٹے چھوٹے گروپ سرگرم ہیں جو حالیہ مذاکرات کا حصہ نہیں ہیں یا مذاکرات کے مخالف ہیں۔ سیکیورٹی فورسز ایسے گروپوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں لیکن حالیہ واقعات بالخصوص ان چار جوانوں کے قتل کی ذمہ داری ابھی تک کسی نے بھی قبول نہیں کی۔

اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد داعش افغانستان اور پاکستان میں اپنے قدم جمانے کے لیے مسلسل حملے کر رہی ہے۔ گزشتہ روز داعش نے کابل میں سکھ گردوارے پر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔
سرحد کے اس طرف پاکستان کے قبائلی علاقوں میں تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد ممکنہ طور پر یہی خیال کیا جا رہا ہے کہ داعش ان علاقوں میں اپنی جگہ بنا سکتی ہے۔ گزشتہ چھ سے آٹھ ماہ کی کارروائیوں میں داعش کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

یہ چاروں نوجوان ایکٹیوسٹ تھے۔ ایسے پرامن ایکٹیوسٹ کو نشانہ بنانا ریاستی اداروں کے لیے سوالیہ نشان ہے۔ اگر ایسے افراد کے تحفظ کو یقینی نہ بنایا گیا۔ تو امن کی آواز خاموش ہو جائے گی۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button