جرائم

مریم نواز سے متعلق نازیبا ویڈیو پوسٹ کرنے پر سیاسی کارکن پشاور سے گرفتار

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مریم نواز کے خلاف سوشل میڈیا پوسٹ پر پاکستان تحریک انصاف کے کارکن کو گرفتار کر لیا۔

ایف آئی اے زرائع کے مطابق ملزم فیاض الدین نے غیراخلاقی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی، ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی جس کے بعد اسے مقامی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔

زرائع کا کہنا ہے کہ مجسٹریٹ نے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے جہاں اس سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

ملزم کی گرفتاری کے بعد پشاور میں پی ٹی آئی کے کنوینئر عرفان سلیم نے اس واقعہ پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایک تویٹ کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ تہکال پی کے 74، این اے 30 سے تعلق رکھنے والے ان کے پارٹی ورکر فیاض کے خلاف ایف آئی اے جس بھونڈے طریقے سے کارروائی کر رہی ہے، جس بھونڈے طریقے سے اسے اٹھایا گیا پاکستان تحریک انصاف سٹی کی تنظیم اور پی ٹی آئی پشاور کے جملہ کارکنان اسے مسترد کرتے ہیں۔

انہوں نے اس کارروائی کو آزادی اظہار رائے کے خلاف قرار دیتے ہوئے ضلع پشاور کے تمام کارکنان کو کال دی کہ ملزم کی عدالت پیشی کے موقع پر وہ لور کورٹس پہنچیں جہاں فیاض کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور ایک پرامن احتجاج کیا جائے گا۔

عرفان سلیم کے مطابق انہوں نے انساف لائرز فورم کے ممبر مبشر منظور ایڈوکیٹ سے اس سلسلے میں قانونی معاونت فراہم کرنے کی درخواست کی ہے، تمام کارکنان کے لئے یہ پیغام ہے کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے ہم ڈرنے والے ہیں نا جھکنے والے اور نا ہی پیچھے ہٹنے والے، پاکستان کو حقیقی آزادی تک عمران خان کی قیادت میں لے کر جائیں گے۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جانے کے بعد سوشل میڈیا پر ”امپورٹڈ حکومت نامنظور” کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ایک ٹرینڈ آج تک چلایا جا رہا ہے، اس کے علاوہ پاک آرمی اور پاک فوج کے سربراہ کے خلاف بھی ٹرینڈ چلائے گئے حالانکہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے بار بار اپنے کارکنان کو تاکید کی ہے کہ پاک فوج ان سے زیادہ اہم ہے لہٰذا اس کے خلاف ہرزہ سرائی سے گریز کیا جائے۔ علاوہ ازیں حال ہی میں قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی کے خلاف بھی ٹرینڈز بنائے گئے۔

یہ بھی خیال رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے حال ہی میں ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا کہ سوشل میڈیا پر غیراخلاقی مواد پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بعض تجزیہ نگار اب فیاض الدین کے خلاف حالیہ کارروائی کو اسی تناظر میں دیکھ رہے اور یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ فیاض الدین کی گرفتاری کیا اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے؟

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button