پانی کی قلت اور موسمیاتی تبدیلی کا آپس میں کیا تعلق ہے؟
ہمارے پاس تازہ پانی کا 72 فیصد استعمال زراعت میں ہوتا ہے جبکہ 15 اور 13 فیصد استعمال کارخانوں اور گھریلو مقصد کیلئے کیا جاتا ہے۔ 2020 اور 2021 کے دوران معمول سے 14 فیصد زیادہ پانی نکالا گیا ہے۔ ورلڈ واٹر رپورٹ 2025

یونیسکو اور یو این واٹر کی جانب سے ورلڈ واٹر رپورٹ 2025 شائع ہو گئی۔ اس رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث گلیشیئر کے پگھلنے کے واضح شواہد ملے ہیں۔ اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پوری دنیا خاص کر ترقی یافتہ اور غریب ممالک پر اس کے بہت برے اثرات پڑیں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہمارے پاس تازہ پانی کا 72 فیصد استعمال زراعت میں ہوتا ہے جبکہ 15 اور 13 فیصد استعمال کارخانوں اور گھریلو مقصد کیلئے کیا جاتا ہے۔ 2020 اور 2021 کے دوران معمول سے 14 فیصد زیادہ پانی نکالا گیا ہے۔ شہری علاقوں میں، جہاں آبادی زیادہ ہے، پانی کا استعمال دیہی علاقوں کی نسبت زیادہ ہے۔ دنیا بھر میں 4 بلین آبادی کو پانی کی قلت کا سامنا ہے۔۔ موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کی وجہ سے آلودگی، زمین کے کٹاؤ، ایکو سسٹم میں خلل، اور اس سے متعلقہ قدرتی آفات سے پانی کی کمی کا مسئلہ مزید گمبھیر صورتحال اختیار کرے گا۔
پاکستان کے جغرافیہ پر نظر ڈالیں تو یہ موسمیاتی تبدیلی کے لحاظ سے زیادہ حساس ہے، جس کا تقریباً پچاس فیصد سے زیادہ حصہ پہاڑوں پر مشتمل ہے، جبکہ دس فیصد حصہ صحرا ہے، صرف چالیس فیصد حصہ میدانی علاقہ ہے وہ بھی خشک اور بارانی ہے جس کو زرخیز بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر نہروں کا انتظام کیا گیا ہے اس لئے پانی کی کمی سے پاکستان کی زراعت پر بہت برا اثر پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشتو کے معروف کامیڈین میراوس انتقال کر گئے
اس کے علاوہ پاکستان کے شمالی پہاڑوں میں سات ہزار سے زیادہ گلیشیئر ہیں۔ پچھلے بیس سالوں کے دوران جن میں دس سے بارہ فیصد تک کمی آئی ہے جبکہ تیس کے قریب گلیشیر ایسے ہیں جو پگھل کر جھیلوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ یہ جھیلیں پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں بڑے پیمانے پر سیلاب لا سکتی ہیں جس سے ایک طرف پانی میں کمی آئے گی اور دوسری طرف بڑے پیمانے پر ماحولیاتی اور معاشی خلل کا سبب بنیں گی۔ اس کے علاوہ ان پہاڑوں پر جنگلات کا رقبہ پانچ فیصد سے کم ہے جو اس کی حساسیت میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے جنگلوں میں آگ کے واقعات بھی عام ہوتے جا رہے ہیں اور ساتھ ساتھ جنگلات کی کٹائی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ شجرکاری مہم تو ہر سال چلائی جاتی ہے لیکن جنگلات میں اضافہ نہیں ہوتا۔
اس تناظر میں اقوام متحدہ کی 2015 میں مقرر کردہ اہداف برائے پائیدار ترقی حاصل کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ اس میں ہدف نمبر 6 میں، جو کہ صاف پانی کی دستیابی اور محفوظ نکاس سے متعلق ہے، مطلوبہ پراگریس ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ ہمیں اس ہدف کو مکمل طور پر حاصل کرنے میں ناکامی کا خدشہ ہے۔ اس ہدف کے تحت یہ طے ہوا تھا کہ 2030 تک ہم صاف پانی کی دستیابی کو یقینی بنائیں گے اور سب لوگوں کو صفائی ستھرائی سے متعلق فیسیلٹی دستیاب ہوں گی جو کہ اب ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ مثلاً 2022 کے اعداد وشمار کے مطابق 2.2 بلین لوگوں کو، دنیا کی کل آبادی کا 27 فیصد، صاف پانی تک رسائی نہیں ہے۔ اس طرح نکاس سے متعلق ڈیولپمنٹ اس سے بھی گھمبیر ہے۔ دنیا میں 3.5 بلین لوگ نکاسی آب کی سہولت سے محروم ہیں۔
پاکستان پر نظر ڈالیں تو تقریباً 70 فیصد لوگوں کے پاس نکاس کا نظام موجود ہے جبکہ 90 فیصد لوگوں کو پانی بنیادی ضروریات کے لیے دستیاب ہے لیکن 60 فیصد لوگوں کو صاف پانی میسر نہیں ہے جس کی وجہ سے سالانہ 53 ہزار بچے پانچ سال کی عمر میں پہنچنے سے پہلے مر جاتے ہیں۔ پانی میں کمی کے باعث اموات میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
پہاڑی علاقوں کو دیکھا جائے تو یہ بھی ماحولیاتی لحاظ سے غیرمحفوظ ہوتے جا رہے ہیں۔ پہاڑ پانی کی دستیابی میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ پہاڑوں میں مختلف معاشی سرگرمیاں ہوتی ہیں جن میں زراعت، ٹورازم، جنگلات، چراگاہیں، توانائی اور پڑوسی ممالک کے ساتھ کاروبار شامل ہیں۔ ان معاشی سرگرمیوں پر برا اثر پڑے گا۔ ان کے علاؤہ پہاڑ حیاتیاتی تنوع، مختلف اقسام جڑی بوٹیوں، اور جانوروں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ پہاڑی ایکو سسٹم بہت حساس ہوتے ہیں۔ ان کے موسمیاتی تبدیلی کی زد میں آنے سے بڑے پیمانے پر تباہی کے خدشات موجود ہیں۔
سب سے بڑا منفی اثر گلیشیر کے پگھلنے کی صورت میں دیکھا گیا ہے جس سے مذکورہ معاشی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوں گی۔ ساؤتھ ایشیا، جس میں تین پہاڑی سلسلے، قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش مل کر تھرڈ پول بناتے ہیں، منفی اثرات کی زد میں ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سن 2000 میں زراعت کے لئے 67 فیصد پانی استعمال کیا جاتا تھا جو دو ہزار چار سو مربع کلومیٹر کے برابر تھا۔ 2022 میں ہم اس کو 72 فیصد پر لے گئے جو کہ دو ہزار آٹھ سو مربع کلومیٹر کے مساوی ہے۔ ظاہری بات ہے کہ گلیشیئر کے مسلسل پگھلنے سے یہ پانی اس مقدار میں دستیاب نہیں ہو سکے گا بلکہ اس میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔
اس کے علاوہ سیلابوں میں اضافہ ہو گا جس کی وجہ سے پہاڑوں میں مذکورہ معاشی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوں گی۔ ایسے دریا جو دو یا دو سے زیادہ ممالک میں بہہ رہے ہیں اور ان کا مشترکہ اثاثہ ہے، ان پر زیادہ دباؤ پڑے گا۔ اس وقت دنیا بھر میں 153 ممالک ایسے ہیں جن کے درمیان ایک یا ایک سے زائد دریائیں مشترک ہیں۔ ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔ پاکستان دو ممالک، ہندوستان اور افغانستان کے ساتھ مختلف دریا شیئر کرتا ہے۔ ایسے ممالک میں پانی سے متعلق تنازعات بڑھ جائیں گے۔
اس ضمن میں پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟
سب سے پہلے آبادی میں توازن پیدا کرنا ہے تاکہ پانی کم استعمال ہو۔
دوسرا یہ کہ نئی ٹیکنالوجی اپنا کر پانی کے استعمال میں کمی لائی جائے۔
تیسرا یہ کہ پانی جمع کرنے کے ذرائع بڑھائے جائیں۔ بارش کے پانی کی ہارویسٹنگ اور بارانی ڈیم پر توجہ ضروری ہے۔
چوتھا یہ کہ کارخانوں اور گھروں سے نکلنے والے پانی کو ٹریٹمنٹ دے کر اس کو زراعت میں استعمال کرنے کے قابل بنایا جائے اور یا گراؤنڈ واٹر ریچارج کے لئے استعمال کریں۔
پانچواں یہ کہ جدید تخم پر تحقیق کریں اور ایسے فصل انٹروڈیوس کریں جن کو پانی کی ضرورت کم ہو۔
چھٹا یہ کہ جنگلات کی بحالی اور اس کے بچاؤ کے لیے کام کریں خاص کر جنگلات پر لگنے والی آگ کے سدباب کیلئے مناسب اقدامات عمل میں لائے جائیں۔
ان سب اقدامات کے لیے پالیسی برائے موسمیاتی تبدیلی اور متعلقہ قوانین کی جانچ پڑتال کر کے ان میں مناسب ترامیم کریں اور ان پر جلد سے جلد عمل کا جائے۔