عوام کی آوازماحولیات

ہماری صبح اتنی بے رونق کیوں، چڑیوں کی چہچہاہٹ کہا گئی؟

موسمیاتی تبدیلی نے پشاور میں چڑیوں کے افزائش کو خطرے میں ڈال رکھا ہے، کیا چڑیا کی نسل کی کمی ہمارے ماحول کے لیے سنگین خطرہ ہے؟

کیف آفریدی

20 مارچ کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں چڑیوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ پہلے ہماری صبح کا آغاز پرندوں کی آواز خصوصا چھوٹی چڑیا کی چہچہاہٹ سے ہوا کرتا تھا. مگر اب ہم ان آوازوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں اور پچھلی دو دہائی سے چڑیوں کی نسل میں کمی ہوتی آرہی ہے۔

بڑے شہروں اور ان کے مضافات میں چڑیوں کی آبادی میں تیزی سے کمی دیکھنے کو آئی ہیں۔ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے چڑیوں کے ماہر ڈیوڈ سمر سمتھ گزشتہ پچاس سال سے چڑیوں پر تحقیق کر رہے ہیں انکا کہنا تھا کہ بیس سال پہلے کی بات ہے، جب ہم گھروں کے صحنوں، درختوں، پودوں کی کیاریوں، گھر کی بالکونی اور بجلی کے تاروں اور کھمبوں پر چڑیوں کے غول دیکھتے تھے۔ درختوں اور پودوں کے بعد چڑیوں کی گھونسلہ بنانے کی پسندیدہ جگہیں گھروں کے مچان اور طاق یا بلکونی ہوا کرتی تھی۔ مگر پھر ہماری زندگیوں میں ٹیکنالوجی کا انقلاب آنے سے جہاں بہت کچھ بدلا وہاں یہ ننھا پرندہ بھی ہم سے روٹھتا چلا گیا۔ اسکے علاوہ ماحولیاتی نظام کا خراب ہونا بھی ایک بڑا سبب ہے۔

چڑیا کو سماجی پرندہ کیوں کہا جاتا ہے؟

پشاور یونیورسٹی انوارمنٹل ڈیپارٹمنٹ کے چئیرمین پروفیسر ڈاکٹر محمد نفیس نے اس حوالے سے ٹی این این کو بتایا کہ پرندے خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ نازک اور حساس بھی ہوتے ہیں۔ یہ ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہے اور غذائی زنجیر میں اس کا اہم کردار ہے۔

اس میں سے کچھ پرندے ہمارے آس پاس رہتے ہیں، جس کو ہم سماجی پرندے کہتے ہیں اور ان میں سے ایک سماجی پرندہ چڑیا ہے۔ چڑیا ہمارے ارد گرد ایسی جگہوں پر پایا جاتا ہے، جہاں سے انھیں دانہ یا کیڑے مکوڑے با آسانی مل سکیں۔

چڑیا ہمارے ایکو سسٹم کا حصہ ہے اور زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اگر آپ کے آس پاس چڑیا موجود ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ صاف ماحول میں رہ رہے ہیں. اگر آپ کے آس پاس چڑیوں کی تعداد میں کمی آرہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ صاف ماحول میں نہیں رہ رہے، اور آپ بلڈ پریش، شوگر, کینسر جیسے امراض میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔

چڑیا مختلف بیج ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہیں۔ بہت سی جگہوں پر اس کو غذا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جو کہ نہیں ہونا چاہیئے۔ چڑیا فالتو خوراک ضائع ہونے نہیں دیتی۔ چڑیا کھیتوں سے کیڑے مکوڑے صاف کرتی ہے، جس سے زرعی ادویات کے استعمال میں بچت ملتا ہے۔

چڑیا تفریح کا ذریعہ ہے یہ تفریح مقامات کو پر لطف اور دلکش بنا دیتے ہیں۔ یہ صاف ماحول کو جانچنے میں انڈیکیٹر کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کی موجودگی سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک جگہ کتنی صاف اور صحت مند ہے۔ اگر کسی جگہ چڑیا نظر نہ آئے تو آسانی سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ یہاں پر کوئی ماحولیاتی مسئلہ موجود ہے۔

کیا پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے چڑیوں کی نسل میں کمی ہو رہی ہے؟

ڈاکٹر نفیس کا کہنا تھا کہ حالیہ ایک تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان, بھارت اور بنگلہ دیش میں چڑیوں کی آبادی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ جس کی وجہ بڑے پیمانے پر ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی ہے. اگر دیکھا جائے تو کلائمئیٹ چینج کی وجہ سے پشاور میں 2022 سے اس کی آبادی میں بہت بڑی کمی دیکھی گئی ہے۔ سال 2022 کے مارچ سے مئی تک ایک طویل ہیٹ ویوو چلی تھی، جس میں بارشیں نہیں ہوئی تھی اور درجہ حرارت بھی بہت زیادہ تھا۔ شید گرمی اور خشک سالی کی وجہ سے پرندوں کو پانی نہیں مل سکا۔ زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے انڈوں سے بچے کم نکلے۔ جو کہ بہت سارے پرندے موت کا شکار ہونے کا سبب بنے۔

گزشتہ سال پھر جولائی، آگست اور ستمبر کےمہینوں تک شدید بارشوں کا ایک سلسلہ چل پڑا۔ جس کی وجہ سے پرندوں کو درست اور مناسب مقدار میں خوراک نہیں مل سکی۔ اسی طرح نومبر سے فروری 2023 تک موسم معمول سے زیادہ سرد رہا۔ مجموعی طور پر 2022 پرندوں کے افزائش اور خوراک کے لئے مناسب سال نہیں تھا۔ اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ پرندوں کی زیادہ نسل ختم ہو گئی۔ یہی حالات ابھی بھی جاری ہیں۔ جس کی وجہ سے چڑیا جیسے نازک پرندہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ اس کے علاوہ، دیہاتی علاقوں میں اس کا شکار بھی کیا جاتا ہے۔ تاہم انکی تعداد کم ہیں۔

ڈاکٹر نفیس نے بتایا کہ چڑیوں کی کمی کی وجوہات میں یہ بھی شامل ہے کہ درختوں کی کٹائی کے باعث ان کے مسکن کا متاثر ہونا، ماحولیاتی مسائل، شہری ضروریات میں اضافہ اور بڑھتی ہوئی جدیدیت ہے۔

انہوں نے کہا کہ چڑیا ایک حساس پرندہ ہے. اگر اس کو بچانا ہے تو کوشش کریں کہ گرمی میں اس کے لئے پانی کا بندوبست کر لیا کریں اور سردیوں میں خوراک کا. اس کا شکار ہر گز نہ کریں، خاص کر گرمیوں کے موسم میں۔ چڑیوں کی آبادی میں بڑے پیمانے پر کمی بہت بڑی مصیبت کی پیشن گوئی ہے۔ معصوم پرندہ صدیوں سے ہماری تہذیب اور معاشرت کا حصہ ہے اس کے وجود کے بنا یہ کائنات ادھوری ہے اس کی چہچہاہٹ کے بغیر فضا بے کیف ہے۔ چڑیا سے ہماری ایک تہذیب وابستہ ہے ہمارے ماحول اور ثقافت کا حصہ ہے اس کا تحفظ مشترکہ ذمہ داری ہے۔

کلائمیٹ چینج کی وجہ سے حیاتیاتی تنوع بھی متاثر ہو رہا ہے، خیبرپختونخوا صوبہ جو قدرتی حسن سے مالا مال ہے تاہم شدید بارشوں، خشک سالی اور سیلابی صورتحال کی وجہ سے مشکلات سے دوچار ہے اسکی مثال سال 2010 اور سال 2022 سیلاب ہیں۔

خیبر پختونخوا کی حکومت موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کیا اقدامات اٹھا رہی ہے؟

خیبرپختونخوا کے مشیر جنگلات پیر مصور شاہ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے گرین پاکستان مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے خیبر پختونخوا نے 75 ارب روپے کی لاگت سے بلین ٹریز پلس پراجیکٹ لانچ کر دیا ہے۔ ‏پورے پاکستان کا تقریبا آدھا فارسٹ ریزرو ایریا خیبرپختونخوا کا ہے اور حیرت انگیز یہ خیبر پختونخوا فارسٹ ریزرو ایریا کے انٹرنیشنل سٹینڈرڈز کو پورا کرنے والا واحد صوبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ کے علاقے آگرہ میں 2300 ہیکٹیئر رقبے پر 24 لاکھ سے زائد درخت تناور جنگل بن چکے ہیں جو نہ صرف ماحول بلکہ مقامی معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو رہے ہیں۔

اسی تناظر میں ‏وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے شجرکاری مہم کو مزید بڑھاتے ہوئے "بلین ٹری پلس پلانٹیشن ڈرائیو” کا آغاز کیا، جس کا مقصد صوبے کے ہر ضلع کو مزید سرسبز بنانا ہے۔

درخت لگانے سے پرندوں کے لیے ایک اچھا ماحول مل سکتا ہے، جس سے وہ اپنی نسل کو بڑھا سکتے ہیں۔ صوبائی حکومت کا یہ اقدامات تو قابل تعریف ہے لیکن دوسری جانب درختوں کی کٹائی کو روکنا بھی انتہائی ضروری ہے۔

 

Show More

Kaif Afridi

Kaif Afridi is working as a journalist from past 9 years in Peshawar. He belongs to District Khyber. He has vast experience in multimedia work including Digital reporting, News Anchoring and currently working as a Video Editor in Tribal News Network TNN

متعلقہ پوسٹس

Back to top button