بلاگزلائف سٹائل

کیا آجکل کے بچوں کے پاس کہانیاں سننے کا وقت ہے؟

 

حدیبیہ افتخار

ماں کی گود بچے کی پہلی درس گاہ ہوتی ہے۔ یہ ماں کی تربیت ہی ہوتی ہے جس پر بچپن سے لے کر بڑھاپے تک کسی بھی شخص کی شخصیت کا انحصار ہوتا ہے۔ بچے اپنی ماں سے جو سیکھتے ہیں شاید ہی کوئی اور انہیں سکھا سکے، لیکن اگر ماں کی گود میں سر رکھنے کا بھی بچے کے پاس وقت نہ ہو تو کیا وہ اپنی زندگی میں ترقی کرپائے گا؟

آجکل کے بچوں کے پاس نہ ہی باہر کھیلنے کا وقت ہے, نہ ٹھیک سے کھانے کا, اپنے والدین کے ساتھ مل بیٹھ کر باتیں کرنے اور نہ ٹی وی دیکھنے کا وقت ہے۔ بچوں کی پڑھائی کا اتنا مصروف روٹین ہے کہ وہ صبح سے شام تک پڑھائی سے فارغ نہیں ہوتے۔ بچے پڑھائی سے تھک ہار کر شام کو بستر کی تلاش میں ہوتے کہ کہیں جگہ ملے اور سو جائے۔

ظاہر ہے بچوں کا دل بھی کرتا ہوگا کہ باہر جائے کرکٹ, بیڈ منٹن, یا کوئی اور کھیل دوستوں کے ساتھ کھیلیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پڑھائی سے فرصت تو ملے۔ آج کل بچوں کے پاس کھیلوں کا سارا سامان تو گھر پر موجود ہوتاہے لیکن گیمز کھیلنے کا وقت نہیں ہوتا۔ میں تو جب آجکل کے بچوں کی روٹین دیکھتی ہوں تو مجھے ان پر ترس آتا ہے پڑھائی کے اس سخت روٹین نے بچوں کے چہروں سے ہنسی چھین لی ہے, بچے شرارتیں اور مستیاں کرنا بھول گئے ہیں۔

والدین نے سکولوں میں بچوں کی تعلیم کے بھاری برکم فیسیں دے رہے ہیں تو والدین بھی پڑھائی پر کمپرومائز نہیں کرتے اور بچوں کے لئے ٹیوشن کا بھی انتظام کیا ہوتا ہے صبح سکول, پھر مدرسہ اور پھر ٹیوشن۔۔۔

میں خود بچوں کو ٹیوشنز پڑھاتی ہوں، جن بچوں کو میں پڑھاتی ہوں وہ بچے صبح سویرے پہلے مدرسہ جاتے ہیں، مدرسہ سے آکر پھر اسکول اور سکول سے گھر واپسی پر آدھا گھنٹہ ان کا کھانے اور نماز کا وقفہ ہوتا ہے۔ پھر مدرسہ کی تیاری کرتے ہیں۔ یاد رہے دن میں دو دفعہ مدرسے اس لئے جاتے ہیں وہ صبح حفظ قرآن اور پھر دوسری مرتبہ تجوید کے ساتھ قرآن پڑھنے کے لئے جاتے ہیں، مدرسہ سےگھر لوٹتے ہی شام کو بچوں بیگز تھما کر ٹیوشن پڑھنے میرے پاس آتے ہیں۔

آپ یقین کریں میرے پاس جب وہ بچے آتے ہیں تو وہ اتنے تھکے ہارے ہوتے ہیں کہ اگر پانچ منٹ ان پر توجہ نہ دی جائے تو وہ سو جاتے ہیں، جب بچے سوجاتے ہیں تو اس کو نیند سے جگانا میرے لئے بہت مشکل ہوتا ہے، میں خود سوچ میں پڑھ جاتی ہوں کہ کیا ان کے اپنے ماں باپ کو ان پر رحم نہیں آتا۔۔؟؟

میں نے اپنے ہی ٹیوشن کے بچوں میں سے ایک کی والدہ سے یہ سوال کیا تو اس نے جو جواب دیا تو میں حیران ہوئی۔ اس لئےکہ مجھے اس جواب کی توقعہ ہر گز نہ تھی، اس ماں نے بتایا کہ بچوں کی فیس بہت زیادہ ہے اور دوسرا خاندان میں بچوں کی گریڈز کا مقابلہ ہوتا ہے اور وہ ہرگز نہیں چاہتی کہ ان کے بچے خاندان میں دوسرے بچوں سے پیچھے رہے۔

اب انہیں کون سمجھائے کہ اپ کے بچے پڑھ لکھ کر اتنے پیسے تو ضرور کما لیں گے کہ اپنے تعلیم پر لگی رقم آپ کو لوٹا دیں مگر جو وقت ان کو دینا آپ پر فرض تھا اسکا کفارہ کبھی نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ان کا بچپن واپس آسکے گا۔ تمام والدین سے درخواست ہے کہ اپنے بچوں کو یوں وزنی بیگز تلے نہ دبائے انہیں وقت دیں، ان کی تربیت کریں اور انہیں اس معاشرے کا قابل شہری بنانے میں اپنا فرض ادا کریں۔۔۔۔۔۔۔

حدیبیہ افتخار ایک فیچر رائٹر اور بلاگر ہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button