بلاگزلائف سٹائل

کیا جھوٹی خبریں پھیلا کے اپنے ویوز بڑھانا ٹھیک ہے؟

 

رعناز

آج کل اگر ہم سوشل میڈیا پر دیکھے تو ہر طرف جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی ہوتی ہے۔ بس ہر یوٹیوبر اور وی لاگر صرف اور صرف اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ ہم ایسی کون سی خبر سامنے لے کے آئیں جس سے ہمارے ویوز زیادہ سے زیادہ ہو جائیں۔ خواہ وہ خبر جھوٹی ہو یا سچی اس بات کی کوئی فکر نہیں ہوتی بس صرف ریٹنگ اور ویوز کے چکر میں یہ سب کچھ ہوتا رہتا ہے۔

میری نظر میں تو یہ بہت ہی زیادہ غلط بات ہے کہ ہم جھوٹی خبریں پھیلائے۔ یقینا آپ بھی میری رائے سے متفق ہوں گے کہ  آج کل ہر بندے کے پاس موبائل ہے۔ ہر بندہ سوشل میڈیا کا استعمال کر رہا ہے۔ ہر کوئی خود سے ہی جرنلسٹ بن چکا ہے۔ ہر دوسرہ بندہ  غلط خبریں پھیلانے میں مصروف ہے اور یہ پرواہ تک نہیں ہے کے ان جھوٹی خبروں سے کتنا برا اثر ہو سکتا ہے۔ کیا یہ چھوٹی خبریں پھیلانا اچھی بات ہے ؟ بالکل بھی نہیں۔

ادھر میں یہ بات واضح کرنا چاہونگی کہ ایک جرنلسٹ کبھی بھی غلط خبریں نہیں پھیلاتا۔ بلکہ اس کی باقاعدہ یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ایک خبر میڈیا پر سامنے لے کے آنے سے پہلے اس کی مکمل تصدیق کرے۔ اس خبر کی کراس چیکنگ کرنی چاہیے کہ آیا یہ ٹھیک ہے یا نہیں ؟کیا اس خبر کو پھیلانا یا لوگوں کے سامنے لے کے آنا چاہیے یا نہیں؟  لہذا یہ غلط خبریں  سوشل میڈیا کو استعمال کرنے والے ہوتے ہیں پروفیشنل جرنلسٹ نہیں۔ کیا ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ ان جھوٹی خبروں سے کسی کی زندگی پر یا کسی کے دماغ پر کتنا برا اثر ہو سکتا ہے۔

اگر میں آپ کے سامنے حالیہ بارشوں اور سیلاب کے حوالے سے پھیلائی جانے والی خبروں کی مثال رکھوں تو یقینا آپ حیران ہو جائیں گے ۔سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز پر دھڑا دھڑ بریکنگ نیوز آرہی تھی کہ سیلاب نے ان ان جگہوں پر اتنی اتنی تباہی مچا دی ہے۔ اتنے لوگوں کے گھروں کی چھتیں گر گئی ہے۔ اتنے لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ سیلاب کی ایک اور ریلی فلاں علاقے سے ہوتی ہوئی آرہی ہے وغیرہ وغیرہ۔ مطلب سیلاب کے حوالے سے اتنی جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی تھی یقینا سیلاب آیا تھا بہت سارا نقصان بھی ہوا تھا لیکن جتنا بڑا چڑھا کہ سوشل میڈیا پر بیان کیا جا رہا تھا تو اصل میں اس طرح کا کوئی سین نہیں تھا۔ بس یہ خبریں صرف اپنے سوشل میڈیا پیجز  اور ٹی وی چینلز کی شے سرخیاں بنانے کے لیے چلائی جا رہی تھی اور کچھ بھی نہیں تھا۔

یقینا اس قسم کی خبریں پھیلانے سے انسان کے دماغ پر بھی بہت زیادہ برا اثر ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہم جھوٹی خبر پھیلا رہے ہیں کہ سیلابی ریلی آرہی ہے۔ اس مقام تک پہنچ گئی ہے۔ تو ظاہری بات ہے کہ یہ خبریں انسان کو ڈپریشن کا مریض بنا لیتی ہے۔ انسان دماغی مریض بن جاتا ہے اس قسم کی خبریں سنتے سنتے۔

ادھر میرے ذہن میں ایک اور بات بھی آرہی ہے ۔یہ جھوٹی خبریں پھیلانے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آج کل ہر دوسرا بندہ جرنلسٹ ہے۔ وہ بھی بغیر ڈگری اور کسی ٹریننگ کا جرنلسٹ۔ بس ہر دوسرے بندے نے اپنے لیے ایک مائک اور کیمر خریداہوتا ہے۔ بس اپنا ایک یوٹیوب چینل یا فیس بک پیج بنا لیتا ہے۔ ادھر سے جس طرح اور جس قسم کی خبریں پھیلا نا چاہتا ہے تو وہ  پھیلاتا رہتا ہے۔ مطلب آج کل ہر دوسرا بندہ جرنلسٹ ہے جس کو چاہتا ہے بس کھڑا کروا لیتا ہے اور انٹرویو لے لیتا ہے۔ یہ نہایت ہی غلط اور صحافتی اصولوں کے خلاف بات ہے۔

لہذا ہمیں یہ چیز چھوڑ دینی چاہیے۔ یہ جھوٹی خبریں پھیلانے والا سلسلہ ختم کر دینا چاہیے۔ اگر ہمیں ایک خبر ملتی بھی ہے تو اس کو شیئر کرنے سے پہلے ہمیں اس کی تصدیق کرنی چاہیے کہ کیا یہ خبر ٹھیک ہے یا غلط۔ کیا ہمیں یہ خبر پھیلانی چاہیئے یا نہیں ۔ہاں اگر تصدیق کرنے کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ خبر ٹھیک ہے تو اسے ضرور شیئر کرنا چاہیے۔ اور اگر غلط ہے تو ایسی خبر کو شیئر کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

رعناز ایک پرائیویٹ کالج کی ایگزام کنٹرولر ہیں اور صنفی اور سماجی مسائل پر بلاگنگ بھی کرتی ہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button