بلاگزلائف سٹائل

ووٹ کے حوالے سے ایک قبائلی لڑکی کی عوام سے اپیل

 

نازیہ

 

ہم سب جانتے ہیں کہ الیکشن قریب ہے۔ الیکشن میں عوام اپنی پسند کی سیاسی جماعتوں اورنمائندوں کو منتخب کرنے کیلئے انے والے الیکشن میں اپنے ووٹ کے ذریعے اپنی رائے کا اظہارکریں گے۔

دیکھا جائے توکوئی پی ٹی آئی کے گن گارہا ہے توکوئی مسلم لیگ (ن) کے، کوئی پیپلز پارٹی کا سپورٹر ہے توکوئی ایم کیوایم کا، کوئی مذہبی جماعتوں کے ساتھ ہے توکوئی آزاد امیدواروں کے ساتھ۔ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں۔

الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہونے کے بعد سے سیاستدانوں نے اپنے اپنے حلقوں میں سیاسی سرگرمیاں شروع کردی ہے۔ کہیں پر دفتر کا افتتاح کیا جارہا ہے توکہیں کارنرمیٹنگز میں سیاسی مہم کی منصوبہ بندی جاری ہے۔ کوئی اپنی پارٹی کا منشورپیش کرنے میں مصروف ہے توکوئی اپنی کارکردگی کی بناء پرووٹ مانگنے میں مصروف ہے۔

یہ مناظردیکھ کرتو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ان سیاست دانوں کوملک کی بہت فکر ہے اور اگر یہ لوگ واقعی فکر کرلیں تو یہاں بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت اوربے روزگاری جیسے اہم مسائل کا بھی کوئی نہ کوئی بہترحل نکل آئے گا۔

شروع سے پاکستان کا دستور رہا ہے کہ اقتدار میں آنے سے پہلے تمام سیاستدان عوام کے مسائل کو حل کرنے کے بلند و بالا دعوے کرتے ہیں مگر انتخابات کے نتائج آنے پر تمام سیاستدان اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے کوشاں رہتے ہیں اور عوام کے مسائل کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ عوام الناس نے ہمیشہ ووٹ کی طاقت سے مختلف جماعتوں کے نمائندوں کو وزارت اعظمیٰ، وفاقی اور صوبائی وزارت جیسے دیگر انتظامی عہدوں پر بٹھایا ہے اور انہی حکمرانوں نے ووٹرز کو عزت نہیں دی۔

ووٹرز نے ہر الیکشن میں اپنا حق ادا کیا لیکن بدلے میں انہیں ہر بار غربت، مہنگائی، بے روز گاری، لاقانونیت اور ناانصافی تحفے میں ملی۔ حکمران اپنی جائیدادوں اور کاروبار بڑھانے میں مگن رہتے ہیں اور بیچارے ووٹرز کو محض تسلیاں دی جاتی ہے۔ اب پھر الیکشن آنے والے ہیں۔ عوام کے پاس موقع ہے خدارا سوچ سمجھ کر اپنا ووٹ استعمال کریں اور صحیح افراد کا انتخاب کریں کہ پھر بعد میں پچھتانا نا پڑے۔

 

میں چاہتی ہوں کہ لوگ ایسے نمائندوںکا انتخاب کریں ، جن کے اعلیٰ ایوانوں میں آنے سے انہیں بنیادی حقوق مل سکیں۔ تعلیم، صحت، روزگار تو بنیادی حقوق ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں قیام پاکستان سے لے کرآج تک لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق نہیں مل سکے۔ میری دعا ہے کہ آئندہ اقتدار میں جوبھی جماعت آئے وہ ملک اورقوم کیلئے بہترفیصلے کرے، تاکہ ملک ترقی کرے اورعوام خوش وخرم زندگی بسرکرسکیں۔

 

اپنے ملک اوراپنے حالات بہتربنانے کیلئے عوام کوہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔ ہرشخص ملک کے مسائل کا رونا روتا سنائی دیتا ہے لیکن انتخابات میں وہ باربارانہی نمائندگان کومنتخب کرتا ہے، جوگزشتہ پانچ برس میں کوئی ایسا کام انجام نہیں دیتے، جس سے بہتری آسکے۔  نیوز چینلز اور اخبارات کے ذریعے ہمیں ہرروز سیاستدانوں کی کرپشن کی داستانیں سننے کوملتی ہے لیکن پھر بھی ان کے خلاف کوئی بھی ایسا ایکشن نہیں لیا جاتا، جس کی وجہ سے حالات میں سدھار آئے۔ ایئے اس بارہم ان لوگوں کو منتخب کریں جونئے ہو اورعوام کی بھلائی کیلئے کام کرنے کا جذبہ رکھتے ہو۔

آئے اس بار فضول کے نعرے لگانے والوں کی چھٹی کروائے۔ کیونکہ یہی وہ سیاستدان ہے، جنہوں نے ملک اورقوم پرقرضوں کے بوجھ لاد کربیرون ممالک اپنی جائیدادیں اوربینک بیلنس بناۓ ہے۔ میری عوام سے اوراپنے چاہنے والوں سے اپیل ہے کہ وہ سوچ سمجھ کرووٹ کا استعمال کریں، تاکہ پھر کوئی ایسا نمائندہ اقتدارمیں نہ آئے جوملک کو مزید غربت کی طرف دکھیل دے۔

بہت سی سیاسی جماعتوں نے اقتدار میں آنے کے بعد بہت سے اچھے کام بھی انجام دیئے ہیں، جن کو بھلایا نہیں جاسکتا۔ مگریہ بات بھی سچ ہے کہ ہمارے ملک میں مسائل کے خاتمے کیلئے بہت اور جلد کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

اس کیلئے سب کومل کرکام کرنا ہوگا۔ آپسی اختلافات کو پیچھے رکھ کرعوام کوبنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے اب تمام سیاسی جماعتوں کو شب وروزکام کرنا ہوگا، وگرنہ حالات ایسے ہی رہیں گے اورعوام کی بڑی تعداد کا جمہوریت سے اعتماد اٹھ جائے گا۔

پاکستان کی عوام باشعور ہوچکی ہے اورانہیں اس بات کا پتہ ہے کہ ان کے ایک غلط ووٹ کی وجہ سے ایسے کرپٹ سیاستدان دوبارہ اقتدار میں آسکتے ہیں، جس کی وجہ سے ملک تباہی کی جانب بڑھے گا۔

پاکستان ہمارا ملک ہے اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں جب یہ وطن عزیز حاصل کیا گیا تواس کیلئے لاکھوں لوگوں نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ لیکن جس بے دردی کے ساتھ اس ملک کولوٹا گیا ہے اور اوپر سے قرض لے کرکرپشن کی گئی ہے اس کی کوئی دوسری مثال کہی نہیں ملتی۔

اس لئے اب وقت ہے ہم سب کواپنی تقدیربدلنے کیلئے اپنے ووٹ کا درست استعمال کرنا ہوگا۔ جن لوگوں نے ماضی میں عوام کی بھلائی کیلئے کام کئے ان کودوبارہ اعلیٰ ایوانوں تک ضرور لائیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایسے سیاستدانوں کا احتساب اب خودکریں کہ جنہوں نے کئی بار اقتداد میں آنے کے بعد بہتری کا کوئی کام نہ کیا ہو۔ اگراب ایسا نہ ہوا تو پھر سیاستدانوں اور حکمرانوں کو برا بھلا کہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے حالات اور مسائل کے ذمہ دار پھر ہم خود ہونگے۔

 

 

 

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button