بلاگزلائف سٹائل

"سگریٹ نوشی ترک کرنے والی خدمات پاکستان میں نہ ہونے کے برابر ہیں”

 

سدرہ آیان

آلٹرنیٹو ریسرچ انیشیٹیو (اے آر آئی) نے حکومت پاکستان کے ٹوبیکو کنٹرول سیل سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کو تمباکو نوشی سے مکمل طور پر پاک کرنے کے حوالے سے منصوبہ بندی کی جائے اور معاشرے کے ہر طبقے سے اس بارے میں مشورہ کیا جائے۔

اے آر آئی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ تمباکو نوشی آج بھی عوامی صحت کے لیے چند بڑے خطرات میں سے ایک ہے۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان میں تمباکو استعمال کرنے والوں کی تعداد 2014 میں 23.9 ملین سے بڑھ کر اب 31 ملین (تین کڑور سے زائد) تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں سے سترہ کروڑ سگریٹ نوش ہیں۔

اے آر آئی کے سربراہ ارشد علی سید نے کہا کہ آج دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سگریٹ نوشی کے مکمل خاتمے کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے سگریٹ نوشی کا مکمل خاتمہ اگلے دس سالوں میں ممکن ہے مگر اس مقصد کے کامیاب حصول کے لیے چند اہم اقدام فوری طور پر لینے چاہیے۔
ان میں سب سے اہم اقدام سگریٹ نوشی کو ترک کے لیے سہولیات کی آسان فراہمی ہے۔ انہوں نے کہا اگر ہم چاہتے ہیں کہ سگریٹ نوشی کی شرح پاکستان میں کم ہو تو ہمیں سب سے پہلے ان سگریٹ نوشوں کی مدد کرنی ہوگی جو باوجود کوشش کے اپنی اس عادت سے چھٹکارہ نہیں پا سکے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایسے بالغ سگریٹ نوشوں کو سموکنگ سیسیشین (سگریٹ نوشی ترک کرنے) کی خدمات مہیا کی جائے۔ بدقسمتی سے سگریٹ نوشی ترک کرنے والی خدمات پاکستان میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

علاوہ ازیں، انہوں نے کہا کہ آج دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سگریٹ نوشی کے مکمل خاتمے کے طرف پیش قدمی کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں ان ممالک نے اپنے اہداف بھی طے کر لیے ہیں۔ کسی بھی ملک میں جب بالغ سگریٹ نوشوں کی تعداد پانچ فیصد سے کم ہو جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ اب یہ ملک سموک فری ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے سویڈن اپنے ہدف تک پہنچے گا۔ گذشتہ پندرہ برسوں میں سویڈن میں سگریٹ نوشی کی شرح پندرہ اعشاریہ چھ فیصد(15.6) سے کم ہو کر پانچ عشاریہ چھ فیصد(5.6) تک آچکی ہے۔ اس کامیابی میں جہاں بہت سارے دوسرے عوامل کا عمل دخل ہے۔ وہاں ایک بڑا عنصر کم نقصان دہ متبادل تمباکو کی مصنوعات کی آسان فراہمی ہے جنہیں عرف عام میں ٹوبیکو ہارم ریڈکشن (THR)کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا ضرورت اس امر کی ہے حکومت پاکستان ٹوبیکو ہارم ریڈکشن کو ٹوبیکو کنٹرول کے لیے ہونے والی کوششوں کا حصہ بنائے۔

انہوں نے کہا کہ تمباکو نوشی کا خاتمہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کے لیے کوششیں معاشرے کے تمام طبقات مل کر نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تمباکو نوشی پر قابو پانے والی کوششوں کی توجہ سگریٹ نوشی کی شرح میں کمی پر مرکوز ہیں، جبکہ باقی دنیا میں اس کے مکمل خاتمے کے منصوبے اور ان پر عمل درآمد ہو رہاہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹوبیکو کنٹرول سیل پاکستان سے سگریٹ نوشی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام شراکت داروں اور خاص طور پر تمباکو نوشوں سے بات چیت شروع کرے اور تمباکو نوشی سے پاک پاکستان کی طرف پہلا قدم اٹھائے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button