بلاگزلائف سٹائل

میں دو بھائیوں کی خوش قسمت بہن!

انیلہ نایاب

ہر سال 24 مئی کو بھائیوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد بھائیوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ وہ اپنی بہنوں کے لیے کتنے اہم ہیں۔

یہ دن خاص کر ایک بھائی سے دوسرے بھائی کا محبت خلوص کا اظہار کا دن ہوتا ہے۔ میں خود بھی دو بھائیوں کی بہن ہو اس لیے اپنے احساسات کو الفاظ کی صورت میں محفوظ کرنا چاہتی ہوں۔

میرے بھائیوں کی طرح ہر بہن کا بھائی ان کا مان و غرور ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں تمام تر ذمہ داریاں بھائیوں کے کھندوں پر ہوتی ہیں کیونکہ اگر ہمیں کہی جانا ہو تو بھائی کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے، کچھ کام کرنا ہو تو بھائی سے مدد لیتے ہیں جبکہ اکر کچھ لانا ہو تب بھی بھائی کو کہنا پڑتا ہے۔

میں خود کو بہت خوش قمست سمجھتی ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بڑے بھائی محمد عارف کی صورت میں والد اور چھوٹے بھائی عامر جھانگیر کی صورت میں ایک دوست عطا کئے ہیں۔ دونوں بھائیوں سے الگ الگ دوستی اور محبت کی وجہ سے مجھے کبھی کسی تیسری شخص کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی اور ہمارے اس رشتے میں سب سے اہم کردار ان دو بھائیوں کا ہے۔ بھائی ہمیشہ گھر میں مسخروں، نوک جھوک سے لیکر اپنے بہنوں کا محافظ ہوتا ہے۔ بڑے ہونے کے ناطے والد کے بعد وہی گھر کی ذمہ داریاں بنھاتا ہے۔

میرے بڑے بھائی پہلے ہی سے ایک شفیق انسان اور پیار کرنے والے دوست تھے لیکن جب سے میرے والد حیات نہیں رہے تو انہوں نے بھائی کے ساتھ ساتھ ہمیں والد کی محبت سے بھی نوازا ہے اور پہلے کی نسبت سے ان کے پیار اور شفقت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

عامر چونکہ مجھے سے بڑے ہیں اس لیے میرے سارے نخرے اٹھانے کی ذمہ داری ان پر عائد ہے اور اس لاڈ پیار نے مجھے آج اس بات پر مجبور کیا کہ ان کے لیے کچھ الفاظ لکھ سکوں۔

میں سمجھتی ہوں ایک بہن کی یہ بہت بڑی خوشی قسمتی ہوتی ہے کہ ان کے بھائی ان کا خیال رکھتے ہیں، انہیں اچھے برے کی تمیز سکھاتے ہیں اور اگر کہی پہ کوئی غلطی ہوجائے تو اس کی اصلاح کے لیے ان پر تھوڑی بہت سختی کرتے ہیں کیونکہ بھائیوں کو فکر ہوتی ہے کہ ان کی بہن کے لیے کیا کرنا چاہتے اور کیا نہیں۔

دوسری جانب اگر دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے میں کچھ ایسے بد نصیب بھائی بھی ہوتے ہیں جو والدین کے گزر جانے کے بعد بہین کو بوجھ سمجھتے ہیں، اکثر تو اتنے برے ہوتے ہیں کہ بہنوں کو گھر سے بھی نکال دیتے ہیں، اگر بہن کی شادی ہوگئی ہو تو ان کے ساتھ رشتہ توڑ دیتے ہیں جو بہنوں کے لیے کسی اذیت سے کم نہیں ہوتا۔

میرا ماننا ہے کہ بہن بھی ہمیشہ بھائیوں کی اچھی صحت، روزگار اور بہتر مستقبل کے لیے دعا کرتی ہیں اس لیے بھائیوں کو چاہے کہ وہ بہنوں سے دعائیں لیں، ان کا سہارا بنے، ان کے ساتھ ایسا رشتہ قائم کریں کہ انہیں تیسری شخص سے اپنے جدبات اور احساسات شئیر کرنے کی ضرورت ہی نہ آئیں۔

اگر کسی کا کوئی بھائی نہیں ہے تو انہیں پریشان ہونی کی ضرورت نہیں کیونکہ اگر وہ آج اپنے گھر میں بھائی کی محبت سے محروم ہے تو کل کو وہ کسی دوسرے گھر میں ماں کی روپ میں ہوگی اور جب بچے پیدا ہوجائے تو ان کی تربیت ایسے کریں کہ ان کی بیٹی کو بھائی سے شکایت نہ ہو، وہ صرف روایتی بہن بھائی نہ ہو بلکہ ان کے درمیاں ایک ایسا رشتہ قائم ہو کہ کل کو وہ بلا جھجھک اپنے بھائی پر فخر کریں۔

اپنے رشتوں کے ساتھ کوئی بھی دن منانے کا کوئی بھی مخصوص دن نہیں ہونا چاہئے لیکن اگر عالمی دن کے موقع پر خاص انتظامات کرکے اپنے خلوص کا اظہار کرسکتی ہیں تو ہر بہن کو یہ دن منانا چاہئے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالی تمام بہنوں کے بھائی سلامت رکھیں آمین۔

Show More

Salman

سلمان یوسفزئی ایک ملٹی میڈیا جرنلسٹ ہے اور گزشتہ سات سالوں سے پشاور میں قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں کے ساتھ مختلف موضوعات پر کام کررہے ہیں۔

متعلقہ پوسٹس

Back to top button