بلاگزلائف سٹائل

غگ رسم سے متاثرہ اعلی تعلیم یافتہ لڑکی کی کہانی

نوشین فاطمہ

میں ایک سماجی کارکن ہوں۔ اس حیثیت سے کچھ عرصہ قبل ایک رواج۔۔ “غگ”۔۔ پر میں نے ٹی این این کوایک انٹرویو دیا تھا۔ ان دنوں ایک نجی چینل پر اس موضوع کو لے کر ایک ڈرامہ بھی چل رہا تھا۔ اس پر میرے پختون بھائیوں نے میرے بارے کچھ اتنی بری آراء دیں کہ میں غلطی پر ہوں،غلط بول رہی ہوں، اب حالات بدل چکے ہیں اور میں پختون معاشرے کو برا اور غلط ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔

جبکہ میرا موقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ آپ غلط کو غلط کہیں گے نہیں اور غلط سمجھیں گے نہیں تو غلط کو آپ کبھی درست نہیں کر سکتے۔ آپ گوگل پر “غگ” لکھیں تو وہاں میرا انٹرویو دیکھ سکتے ہیں۔

اب خوش قسمتی کہوں یا بدقسمتی، میں بہت عرصہ سے بے روزگاری کے مسئلے سے دوچار ہوں۔ رزق کی تلاش مجھے ہنگو لے گئی۔ وہاں ایک نوکری کیلئے انٹرویو کیلیے بلایا گیا تھا۔ خیر وہ تو صرف خانہ پری کیلئے لوگوں کو ذلیل کیا گیا۔ باقی وہ نوکری پر کسی کو رکھ چکے تھے لیکن مجھے قدرت شاید کچھ ابہام اور سوالوں کا جواب ثبوت کے ساتھ دینا چاہ رہی تھی۔

ویسے تو مجھے سو فیصد علم تھا کہ ‘غگ’، جس میں کسی بھی لڑکی کے گھر کے سامنے گولی چلا کر یا ایسے ہی یہ آواز لگا کر کہ میں اس سے شادی کروں گا اگر میرے علاوہ کسی نے اس سے شادی کی تو پھر اس کو میری دشمنی کا سامنا کرنا پڑے گا، غیراسلامی، غیرآئینی اور غیرانسانی فعل ہے جو وزیرستان سے شروع اور اپنی صورت بدل کر پورے پختونخوا میں آج بھی موجود ہے لیکن اس کی اصلی صورت کا ثبوت بھی مجھے اس انٹرویو میں آنے والی لڑکی کی کہانی سن کر مل گیا جو کہ کسی طور خوش آئند نہیں تھا۔

اس خوبصورت اور خوش لباس لڑکی نے، جس کے بولنے کے انداز نے مجھے اس کے ساتھ بات کرنے پر مجبور کیا تھا، میرے پوچھنے پر بتایا کہ اس نے تعلیم اسلام آباد سے حاصل کی ہے اور ان دنوں پی ایچ ڈی کر رہی ہے۔ میں نے پوچھا تو یہاں کیسے، میرا مطلب ہے آپ کو تو اسلام آباد میں بھی اچھی ملازمت مل سکتی ہے۔ اس نے کہا ہاں! لیکن ایک سال قبل میری شادی یہاں ہوئی ہے۔ میں نے مسکرا کر مذاقا کہا: پسند کی شادی ہے جو یہاں بیاہ کر چلی آئی۔ اس نے میری طرف دیکھا اور کہا پسند کی شادی کسے کہتے ہیں؟ ہمارا تعلق دلند کے علاقے سے ہے جو ہنگو سے کافی فاصلے پر ہے اور وہاں زیادہ تر خٹک رہتے ہیں اور میں بھی خٹک ہوں۔ ہمارے ہاں خاندان سے باہر شادی نہیں ہوتی اور مرد بھی اپنی مرضی سے کبھی شادی نہیں کر سکتے عورت تو دور کی بات ہے اور اسی وجہ سے بہت سے مرد اور عورتیں خودکشی کر چکی ہیں۔ میں نے کہا بس یہی تو مسئلہ ہے نا جہاں تعلیم نہ ہو۔۔ اس نے زور سے ہنسنا شروع کر دیا اور کہا: جن کی بات میں کر رہی ہوں وہاں کوئی بھی ماسٹرز سے کم نہیں اور زیادہ تر ڈاکٹرز ہیں اور دوسرا یہ کہ مجھ پر بھی ‘غگ’ کیا گیا تھا اس وجہ سے میں یہاں ہوں۔ اب میری دلچسپی انتہا پر پہنچی کیونکہ مجھے وہ آراء لوگوں کی یاد آنے لگیں اور ڈر بھی تھا کہ کہیں اس کی گاڑی والا آ کر اسے لے نہ جائے۔

اچھا مجھے شروع سے بتاؤ تم وہاں تھی تو کیسے ہوا تھا غگ؟ اور یہ تو زیادہ تر چچا کا بیٹا کرتا ہے نا! میں نے تفصیل جاننی چاہی۔ نہیں! ہمارے ہاں خاندان کا کوئی بھی فرد کر سکتا ہے چاہے وہ جیسا بھی ہو۔ اور میں تو اپنے ابو کے گناہ کے کفارے میں آئی ہوں تبھی میری زندگی اور بھی مشکل ہے۔ ابو نے چالیس سال پہلے اپنی رشتے دار جو میرے شوہر کی پھوپھی ہیں، ان پر غگ کیا اور شادی کی تھی۔ نیرے ابو کی اس بیوی کو ان کو ان کے چچا نے پالا تھا جو بے اولاد تھے اور ان کو ڈاکٹر بنایا۔ جب ان کے چچا بیمار پڑے تو وہ ان کا خیال رکھنے گئیں تو ایک ماہ میں ابو نے امی سے شادی کر لی۔ اور ان کو نہ لینے گئے نہ طلاق دی اور یوں ان کی جوانی برباد ہو گئی لیکن اب ہم چاربہنیں ہیں۔ اور ابو نے ہمیں بہت نازوں سے پالا، پڑھایا اور وہ ہرگز نہیں چاہتے تھے کہ ہم یہاں بیاہ کر آئیں لیکن اب ہم چار بہنوں پر ان کے گھر سے غگ ہوا ہے۔ غگ تو یہاں عام ہے لیکن اس گھر میں جہاں ابو نے کسی کی زندگی برباد کی ہے بس زندگی کے دن ہی گزارنے ہیں۔

اور تمھاری باقی تین بہنیں وہ بھی اسی خاندان میں بیاہ کر آئی ہیں، ان پر بھی غگ ہوا تھا؟ میں نے پوچھا۔ بڑی والی استانی ہے اور بے اولاد ہے، ان سے ساری تنخواہ لے لی جاتی ہے کہ آپ کو باہر کام کرنے کی اجازت دی ہے اور ہر وقت ان کے شوہر کی دوسری شادی کی باتیں ہوتی ہیں۔

میرا آخری سوال یہ تھا: کیا کسی نے اس کے خلاف کبھی بات کی؟ جی کیوں نہیں! مختلف مرد اور عورتوں کی خودکشیوں کی وجہ یہی رہی ہے لیکن کوئی اس کے آگے نہیں جا سکا اور سب نے اس پر صبر کر لیا یا مر گیا۔ میں بھی بھائی کے سامنے رورو کر بیہوش ہو گئی کہ میں مر جاؤں گی تو جواب میں بھائی نے کہا مر جاؤ، ہم دفنا دیں گے اور اپنوں سے لڑ کر کوئی کہاں جائے گا، ہمیں ان کے بغیر رہنا نہیں آتا، جو ہمیں رواجوں کی بھینٹ چڑھاتے ہیں۔
اس کی گاڑی آگئی۔ وہ اپنے گاؤں روانہ ہو گئی اور میں یہی سوچتی رہ گئی کہ کاش! میں غلط ثابت ہوتی اور واقعی یہ معاشرہ اب ویسا نہ رہتا، بدل گیا ہوتا، تعلیم یافتہ نہیں بلکہ باشعور ہو چکا ہوتا!

کیا اب بھی آپ کہیں گے کہ میں ایسے ہی اس معاشرے کی غلط تصویر پیش کر رہی ہوں؟

نوشین فاطمہ ایک سماجی کارکن اور بلاگر ہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button