بلاگزلائف سٹائل

نقل مکانی کے فائدے

نازیہ سلارزئی

2008  میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات عروج پر تھے۔ تمام کاروبار زندگی جیسے ٹھپ ہو کر رہ گئے تھے۔ سکول اور ہسپتال بھی بند ہو گئے تھے۔ جنگ سے متاثرہ لٹے پٹے لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہوئے کیونکہ زندگی سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں۔

میری ایک دوست ہے جو تمام رکاوٹوں کے باوجود اسکول جاتی تھی۔ وہ تعلیم سے بہت محبت کرتی تھی، مڈل کے بعد اسے اپنے خاندان کی طرف سے ہائی اسکول جانے کی اجازت نہیں ملی، جبکہ وہ خاندان کی پہلی لڑکی تھی جو اسکول جاتی تھی۔

آئی ڈی پی اور تعلیم

میری دوست بھی دوسروں کی طرح جنگ زدہ علاقوں سے ہجرت کر کے خاندان سمیت پشاور میں  آئی ڈی پی بن گئی، وہاں رہتے ہوئے کچھ عرصے بعد اس نے اپنے گھر والوں کو مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے کسی نہ کسی طرح قائل کر لیا۔ پشاور میں اس کے لیے اپنے گھر والوں کو راضی کرنا نسبتاً آسان رہا، شاید علاقے اور ماحول کے اثر کی وجہ سے۔

پھر اس نے اپنی بہن کی بیٹی کو بھی اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لئے اسکول میں داخل کروایا تاکہ ایک ساتھ سکول جا سکیں۔ یوں ہی علم و آگہی کی منزلیں طے کر کے اسے پشاور کے ایک اعلی میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا۔

اب وہ ایک کامیاب ڈاکٹر ہے اور خاندان کے مردوں سے زیادہ کماتی ہے۔ گھر والے جو پہلے تو لڑکیوں کی تعلیم کے سرے سے قائل ہی نہ تھے، اب عالم یہ ہے کہ ہر کسی کو اپنی بیٹی کے بارے میں فخر سے بتاتے ہیں۔

خاندان والے اس کی مثالیں دیتے ہیں اور اس سے مشورہ کرتے ہیں کہ اپنی بیٹیوں کو کیسے اسکول میں داخل کرائیں تاکہ وہ بھی میری دوست جیسی بن سکیں۔

میں سمجھتی ہوں کہ اگر جنگ کی وجہ سے اسے ہجرت کر کے پشاور نہ آنا پڑتا تو شاید اس کا علم حاصل کرنے کا خواب ہمیشہ ادھورا رہتا۔ آئی ڈی پی نہ بنتی تو یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ ڈاکٹر بن جاتی۔

خود اعتمادی کامیابی ہے

اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ہمارے اندر پختہ یقین ہو تو ہمیں کامیابی حاصل کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا، جس طرح میری دوست کے یقین نے آج اسے وہ مقام دیا ہے جس کی کئی لوگ خواہش کرتے ہیں۔ اگرچہ انہیں نقل مکانی کرنا پڑی مگر پھر بھی ان کے لے زندگی رکی نہیں بلکہ آگے بڑھی۔

گھریلو تشدد میں کمی

میں سمجھتی ہوں کہ آئی ڈی پیز بننے کے بعد بہت  سے مردوں کے رویوں میں بھی تبدیلی آئی۔ میرا خیال ہے کہ مردوں کو گھریلو تشدد کے قوانین کے بارے میں علم تھا جس کی وجہ سے وہ ڈرتے تھے۔

سابقہ فاٹا سے باہر، آئی ڈی پیز نے وہ بنیادی سہولیات حاصل کیں جو شاید ان کے اپنے علاقوں میں نہیں تھیں۔ پائپ کا پانی قریب ہی دستیاب تھا جس کے لیے خواتین کو باہر سے لانے کی ضرورت نہیں تھی۔ کھانا پکانے کے لیے گیس اور بعض اوقات بجلی نے خواتین کے گھریلو بوجھ کو اتنا کم کیا کہ زندگی کو بدلنے والی دوسری تبدیلیوں کی بھی اجازت مل گئی۔

لڑکیاں اسکول جا سکتی تھیں، اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ لڑکیوں کے لیے سکول دستیاب تھے۔ شہری معیشت کی طرف بڑھنے لگے جس کے نتیجے میں ملازمت کے مواقع بڑھے۔

زندگی آگے بڑھتے رہنے کا نام ہے۔ اگر ایک انسان کسی جگہ اپنی زندگی پرسکون محسوس کرے تو وہ کب اس جگہ کو چھوڑتا ہے۔

کیا سب میں اپنی کمزوری کا مقابلہ کر کے اسے طاقت میں تبدیل کرنے کا حوصلہ اور یقین ہوتا ہے، آپ کیا کہتے ہیں؟

نازیہ سالارزئی اکنامکس گریجویٹ اور بلاگر ہیں۔

ٹوئٹر: NaziaSalarzai@

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button