بلاگزلائف سٹائل

عید کے معنی کیا، اور مسلمان کی عید کیسی ہو؟

حمیرا علیم

عید عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں "تہوار”۔۔۔ کچھ ایسا جو دہرایا جائے اور بار بار آئے۔

ہر ملک اور قوم کے تہوار ہوتے ہیں کیونکہ لوگ پسند کرتے ہیں کہ ایسے مواقعے ہوں جن پہ وہ دوست احباب کے ساتھ اکٹھے ہوں، خوش ہوں اور لطف اندوز ہوں۔

اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کو دو خوشی کے دن عطا فرمائے ہیں: عید الفطر اور عید الاضحٰی۔ عیدالفطر رمضان کے اختتام پر یکم شوال کو منائی جاتی ہے۔ جو مسلمان پورا مہینہ اللہ تعالٰی کی عبادات اور فرمانبرداری میں مشغول رہ کر اس کی رحمتیں اور برکتیں سمیٹتے ہیں ان میں سے بیشتر چاند رات کو ہی ان سب پہ پانی پھیر دیتے ہیں۔ چاند رات کو خریداری اور سڑکوں پہ ہلے گلے میں وہ نماز اور اخلاق سب بھلا دیتے ہیں، اس کی وجہ یا تو لاعلمی ہے یا کوتاہی! اس لیے آج ہم عیدالفطر کو بمطابق سنت منانے کے طریقے جانتے ہیں۔

1: غسل

علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے غسل کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ” اگر تم چاہو تو روز نہا سکتے ہو۔ لیکن جمعہ، عرفہ کے دن اور عید الفطر پہ ضرور غسل کرو۔” (الشافعی مسند 385)

2: نیا لباس پہننا اور سجنا سنورنا

” شیخ ابن عثیمین فرماتے ہیں: "عید کے دن سجنا سنورنا سنت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہے۔” (الصلوۃ و ابواب فی صلوۃ العید صفحہ 10)۔ البہیقی نافع سے مستند اسناد کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ "عمر رضی اللہ عنہ عید کے دن نیا لباس زیب تن فرماتے تھے۔”

3: خوشبو لگانا

ابن رجب الحنبلی کہتے ہیں: "میں نے امام مالک سے سنا ہے کہ علماء عید کے دن سجنے سنورنے اور خوشبو لگانے کو مستحب قرار دیتے ہیں۔” (ابن رجب 6-68)۔ لیکن خواتین کو صرف گھر پہ ہی سجنا سنورنا اور خوشبو لگانا چاہیے۔ (الموسوع الفقیہہ) اور انہیں عید گاہ میں مردوں میں شامل ہونے کی بجائے الگ جگہ پہ نماز پڑھنا چاہیے۔ بعض لوگ خواتین کو نماز کیلئے مسجد یا عید گاہ جانے کی اجازت نہیں دیتے ان کیلئے یہ حدیث کافی ہونی چاہیے۔

"ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم نوجوان لڑکیوں اور حائضہ کو عیدین کی نماز کیلئے نکالیں۔ وہ مسلمانوں کی دعاؤں اور امور خیر میں شریک ہوں البتہ حائضہ نماز گاہ سے دور رہے۔ (صحیح بخاری 324۔974)
ایک صحابیہ نے پوچھا: اگر کسی کے پاس جلباب (چادر) نہ ہو تو؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: "اس کی ساتھی کو چاہیے کہ اپنی اوڑھنی اسے دے دے تاکہ وہ عید کی برکات پا سکے۔” یعنی اتنی تاکید فرمائی کہ حائضہ کو بھی آنے کا حکم دیا گیا۔ اسی موقعہ پہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خواتین سے زکوۃ بھی لی۔

اور جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ (عید کے دن) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی پھر خطبہ دیا، اس سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کی طرف گئے اور انہیں نصیحت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کا سہارا لیے ہوئے تھے اور بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا رکھا تھا عورتیں اس میں خیرات ڈال رہی تھیں۔ میں نے اس پر عطاء سے پوچھا کہ کیا اس زمانہ میں بھی آپ امام پر یہ حق سمجھتے ہیں کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد وہ عورتوں کے پاس آ کر انہیں نصیحت کرے۔ انہوں نے فرمایا کہ بیشک یہ ان پر حق ہے اور سبب کیا جو وہ ایسا نہ کریں۔” (1144-961)

سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے انہوں نے عدی بن ثابت سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر کے دن دو رکعتیں پڑھیں نہ ان سے پہلے کوئی نفل پڑھا نہ ان کے بعد۔ پھر (خطبہ پڑھ کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس آئے اور بلال آپ کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا خیرات کرو۔ وہ خیرات دینے لگیں کوئی اپنی بالی پیش کرنے لگی کوئی اپنا ہار دینے لگی۔” (1147 – 964) بخاری کی حدیث 324 ہے۔

4: تکبیر

سورہ البقرہ کی آیت 185 میں رمضان کے حوالے سے ہے: "تاکہ تم گنتی پوری کر لو اور اللہ کی بڑائی بیان کرو۔” تکبیرات اس وقت تک کہنی چاہئیں جب تک کہ امام خطبہ کیلئے نہ آ جائے۔ اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد۔

5: متبادل راستے سے عید گاہ آنا اور جانا

"جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم عید گاہ جانے اور آنے کیلئے دو مختلف راستے استعمال فرماتے تھے۔” (ابن ماجہ 1298 ۔ بخاری 943۔986)

6: گھر سے میٹھا کھا کر جانا

علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم عید کی نماز کیلئے نکلنے سے پہلے کچھ میٹھا کھاتے تھے۔ (سنن الترمذی 530۔ابن ماجہ 1294)۔ کھجور کھانا مستحب ہے۔

7: لوگوں کو ملنے جانا

علماء کا کہنا ہے کہ متبادل راستہ اختیار کرنے کی وجہ یہ تھی کہ زیادہ لوگوں سے ملاقات ہو سکے۔ فتح الباری 2-473

8: مبارکباد دینا

"جبیر ابن نفیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عید والے دن ایک دوسرے کو ملتے تو کہتے تقبل اللہ منا و منکم۔ اللہ تم سے اور ہم سے قبول فرما لے۔” (الحافظ الفتح الباری 2-517)

9: کھانا پینا اور تفریح

نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تفریح فرماتے مگر اس میں بھی اعتدال اور میانہ روی کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیتے اور یہ خیال رکھتے کہ کچھ ایسا نہ کریں جس سے اللہ کی نافرمانی ہو۔ جبکہ آج چاند رات شروع ہوتے ہی ہر جگہ ناچ گانے اور حرام کاموں کی شروعات ہو جاتی ہے۔ نسیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ” ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کو یاد کرنے کے دن ہیں۔” (مسلم 1141)

"انس بن مالک فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مدینہ تشریف لائے تو مدینہ میں دو دن مقرر تھے جن میں وہ کھیل کود کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: "ان دو دنوں کو اللہ تعالٰی نے دو بہتر دنوں سے بدل دیا ہے عید الفطر اور عید الاضحٰی۔” (صحیح بخاری 956۔بلاغ المرام 494)

عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: "عید والے دن دو حبشی نیزہ بازی کر رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: کیا تم کرتب دیکھنا چاہتی ہو؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ تب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کیا۔ اور فرمایا: "جاری رکھو بنو ارفدہ۔” جب میں تھک گئی تو آپؐ نے پوچھا۔ ” کیا تم تھک گئی ہو؟ میں نے جواب دیا: "جی ہاں۔” آپ نے فرمایا: اچھا پھر جاؤ۔” (صحیح البخاری 907۔المسلم 892)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تفریح کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن نامحرموں کے ساتھ اختلاط نہ ہو۔ کسی اچھی جگہ سیر کیلئے یا تفریح کیلئے جایا جا سکتا ہے۔ النووی فرماتے ہیں کہ "عید کے دن ایسے کھیل کھیلنے میں کوئی حرج نہیں جس میں کوئی گناہ نہ ہو۔” حافظ ابن الحجر فرماتے ہیں: ”عید کے دن اپنے بیوی بچوں کیساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم ہے ایسے کام کریں جن سے انہیں خوشی اور سکون ملے۔ اور وہ عبادات کی سختی کے بعد کچھ آرام پا سکیں۔” (فتح الباری 2-514)۔ شیخ عثیمین فرماتے ہیں: "عید والے دن تحائف اور کھانے کی اشیاء کے تبادلے میں کوئی حرج نہیں۔” (مجموعہ فتاوی الشیخ عثیمین 16-276)

10: زکوۃ الفطر

عید کی نماز سے پہلے پہلے زکوۃ الفطر ادا کر دینی چاہیے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے لوگوں کے نماز کے لیے نکلنے سے پہلے صدقۃ الفطر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ (بخاری شریف)۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی ا للہ عنہ سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے روزہ دار کے روزہ کو بے ہودہ گوئی اور فحش کلامی سے پاک کرنے اور غرباء و مساکین کی خوراک مہیا کرنے کے لیے صدقۃ الفطر فرض کیا ہے، جو شخص نماز سے پہلے یہ صدقہ ادا کرے، اس کا صدقہ قبول ہے (اس کے لیے یہ دونوں مقصد حاصل ہو جاتے ہیں) اور جو شخص نماز کے بعد ادا کرے، تو (صدقۃ الفطر ادا نہ ہو گا بلکہ) یہ دوسرے نفلی صدقات کی طرح ایک صدقہ ہے۔‘‘
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے غلام، آزاد، مرد و عورت اور چھوٹے بڑے ہر فرد پر جو یا کھجور سے ایک صاع صدقہ الفطر ادا کیا کرتے تھے، ایک سال مدینہ میں کھجوریں پیدا نہ ہوئیں، تو انہوں نے اس سال جو سے صدقۃ الفطر ادا کیا۔ (بخاری شریف)

11: نماز عید

نماز عید ہر مسلمان مرد و عورت پہ واجب ہے جسے کوئی شرعی عذر نہ ہو مثلاً بیماری وغیرہ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کا حکم دیا ہے۔ یہ نماز عید گاہ یا کھلے میدان میں پڑھی جاتی ہے۔ اس سے پہلے یا بعد میں کوئی سنت نہیں البتہ تحیتہ المسجد پڑھے جا سکتے ہیں۔ "ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عید کی نماز دو رکعت پڑھی نہ اس سے پہلے کوئی نماز، پڑھی نہ اس کے بعد۔” (صحیح البخاری 964 مسلم 884)۔ "عید کی نماز کیلئے نہ ہی اذان کہی جائے گی نہ ہی اقامت کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نماز عید بغیر اذان و اقامت کے پڑھی ہے۔” (ابی داؤد 1147)

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب عیدین کی نماز کیلئے نکلتے تو سب سے پہلے نماز پڑھتے اور پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوتے۔ لوگ صفوں میں بیٹھے ہوتے آپ انہیں وعظ کرتے اور حکم دیتے۔” (صحیح البخاری 956 مسلم 889)۔ یعنی پہلے نماز پڑھی جاتی ہے پھر خطبہ ہوتا ہے جس میں امام احکام الٰہی بیان کرتا ہے اور نصیحت کرتا ہے۔

نماز عید میں پہلی رکعت میں قرآت سے پہلے سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں قرآت سے پہلے پانچ تکبیریں ہیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ "نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: عید کے دن پہلی رکعت میں سات بار تکبیر کہنا ہے اور دوسری رکعت میں پانچ بار۔ اور قرآت دونوں رکعات میں تکبیرات کے بعد ہے۔” (سنن ابی داؤد 1150 بلاغ المرام 495)۔

نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم عید کی نماز میں سورہ ق اور سورہ القمر کی تلاوت فرماتے تھے۔ (صحیح مسلم)۔ عید کی نماز خطبے سے پہلے پڑھنی چاہیے۔ (مسند احمد 1905)۔ اگر کوئی دوران خطبہ جانا چاہیے تو جا سکتا ہے۔عبدالاعلی ابن انشاء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: "ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ عید کی نماز پڑھتے تھے جب وہ نماز پڑھ لیتے تو خطبہ کیلئے اٹھتے اور کہتے: ہم خطبہ دیں گے تو جو کوئی سننا چاہے بیٹھ سکتا ہے اور جو جانا چاہے جا سکتا ہے۔” (البانی۔ اروا الگلیلی 3-96 النووی المجموع)۔

ابو عمیر ابن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: "بادلوں کی وجہ سے ہم شوال کا چاند نہیں دیکھ سکے۔ اور روزہ رکھ لیا۔دن کے آخری حصے میں ایک قافلہ ملا جس نے بتایا کہ انہوں نے کل شوال کا چاند دیکھا تھا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ روزہ کھول لیں۔ اور اگلے دن ہم نے نماز عید پڑھی۔” (البانی اروا 3-102)

عید کے دن روزہ رکھنا حرام ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عید الفطر اور عید الاضحٰی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم 827)

کچھ لوگ عید والے دن قبرستان جاتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: "قبروں پہ جایا کرو کیونکہ یہ تمہیں آخرت کی یاد دلاتی ہیں۔”

اس حدیث کی رو سے قبروں کی زیارت بھی ایک عبادت ہے اور عید کے دن عبادات کی بجائے انجوائے کرنے کا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم رات کو بھی قبرستان گئے ہیں اور دن میں بھی لیکن عید کے دن یا کسی مخصوص دن نہیں۔اس لیے ہمیں بھی سنت کی پیروی کرنی چاہیے۔

اللہ تعالٰی ہماری عبادات و دعائیں قبول فرمائے اور ہمیں تمام احکام الہی اور سنتوں پہ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ اپنی طرف سے ٹی این این کے تمام قارئین کو عید مبارک!

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button