بلاگزسیاست

رحمان ملک: کیا کسی کے مر جانے پر لوگ ہنستے بھی ہیں؟

سدرہ ایان

آج صبح ناشتے کے دوران معمول کے مطابق میں نے وٹس اپ کا ایک گروپ کھولا جس میں ٹی این این کے پیج پر شائع ہونے والے تمام بلاگز کے لنکس شئیر کیے جاتے ہیں اور پھر ایک لنک کھولنے کے بعد ایک کے بعد دوسری پوسٹ اور سٹوریز سامنے آتی ہیں۔ آج بھی کچھ ایسا ہی ہوا، چائے کا کپ اٹھا کر دوسرے ہاتھ سے لنک کھول کر دیکھنے لگی لیکن دوسری پوسٹ سامنے آئی تو دل بوجھل ہو گیا۔ رحمان ملک کے انتقال کی خبر تو اک دن پہلے سن چکے تھے لیکن آج اس پوسٹ پر کمنٹس دیکھ کر کافی دل دکھا۔

کافی سارے لوگوں نے بہت ہی گھٹیا کمنٹس کی تھیں، کچھ نے رحمان ملک کی برائیاں کی تھیں کچھ نے بددعائیں دی تھیں تو بہت کم لوگ ایسے تھے جنھوں نے افسوس کا اظہار کیا تھا۔

ان کمنٹس میں سے زیادہ لوگوں نے یہ کہا تھا کہ رحمان ملک کو سورۃ اخلاص نہیں آتی تھی تو یہاں میں سوچ رہی ہوں کہ کیا مسلمان ہونے کے کے لیے قرآنی آیات یا سورتیں یاد ہونا شرط ہے کیا؟

مذہب ایک انتہائی زیادہ ذاتی معاملہ ہے، ہم مذہب کے نام پر کبھی کسی کو چیلنج نہیں کر سکتے، ”میں تم سے زیادہ اچھا مسلمان ہوں یا تمھیں یہ یہ نہیں آتا تم مسلمان نہیں ہو۔”

میں سوچتی ہوں ایک انسان ہوتا کون ہے کسی دوسرے انسان کو یہ بتانے والا کہ تمھیں یہ یہ چیزیں نہیں آتیں اور تم جہنم میں جاؤ گے، ان چیزوں کا فیصلہ کرنا خدا کا کام ہے دو ٹکے انسان کا نہیں۔

ہر دوسرا بندہ یہی کہہ رہا ہے کہ رحمان ملک کو سورۃ اخلاص یاد نہیں تھی جو کہ مکمل غلط سٹیٹمنٹ ہے، ہم لوگ اس لیے یہ کہتے ہیں کیونکہ ہم خود کبھی اس جگہ کھڑے نہیں ہوئے جہاں وہ کھڑا تھا۔

آپ کے سامنے ہزاروں لوگ بیٹھے ہوں، پوری دنیا میڈیا کے ذریعے آپ کو دیکھ رہی ہو تو کچھ لوگ نروِس ہو جاتے ہیں، وہ اکثر چیزیں بھول جاتے ہیں۔ ہمارے لوگ اگر اتنے لوگوں کے سامنے کھڑے ہو جائیں تو شائد ان پر کپکپی طاری ہو جائے یا شائد سانس لینا ہی بھول جائیں۔

کچھ لوگوں نے کمنٹس میں ان کی فوتگی کے لیے انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے کہ اس نے تو ہمارے پیسوں سے یہ کیا وہ کیا۔ ارے کس نے کہا کہ وہ تمھارے ہی پیسے تھے؟ کچھ نے کرپشن کچھ نے چوری کا الزام لگایا لیکن میرے خیال میں اگر اس چوری اور کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ہے تو یہ الزام ہے، بہتان ہے جو کہ غیبت اور الزام لگانے سے زیادہ بڑا گناہ ہے۔

ہم دوسروں پر تو کرپشن کے الزامات لگاتے ہیں لیکن ہم نے اپنے بارے میں کبھی نہیں سوچا، ہمارے تو کچھ ریڑھی والے بھی کرپشن کرتے ہیں حتٰی کہ پنکچر لگانے والوں میں سے بھی بہت سے لوگ کرپشن ہی کرتے ہیں اور ثبوت کے طور پر ہم اقرار الحسن صاحب کا پروگرام دیکھ سکتے ہیں جس میں انہوں نے عام شہریوں کو کرپشن کرتے ہوئے بے نقاب کیا ہے۔ دوسروں پر اور پھر خاص کر کسی مرحوم پر انگلی اٹھاتے وقت ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہم لوگوں کو خود بھی اگر ایک روپیہ کرپشن کرنے کا موقع ملے تو کر لیتے ہیں۔

ایک بات اور بتاتی چلوں اس پوسٹ (جس میں رحمان ملک کے انتقال کی خبر تھی) پر اب تک کْل چار سو سینتیس لوگوں نے ری ایکٹ کیا تھا جس میں سینتیس لوگوں نے لاف ری ایکٹ کیا تھا۔ کیا کسی کے مر جانے پر لوگ ہنستے بھی ہیں؟مذاق بھی اٹھاتے ہیں؟

پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے مرحوم رحمان ملک کی موت کا جب لوگوں نے مذاق اُڑایا تو میں سوچ میں پڑ گئی کہ ان لوگوں کے سینوں میں دل نام کی کوئی چیز ہے بھی کہ نہیں، آفٹر آل مرحوم رحمان صاحب کسی کے باپ تھے، کسی کے شوہر تو کسی کے بیٹے تھے۔ ان کے گھر کا چراغ بجھ گیا، ان کے گھر کا ستون گر گیا، وہ لوگ قیامت سے گزر رہے ہیں اور ہمارے کچھ گرے ہوئے لوگ ان کا مذاق اڑا رہے رہیں ہیں، ان پر ہنسے والوں کو چاہیے کہ اپنے اپنے فادرز کے اعمال کو بھی دیکھ لیں کہ ان کو اچھی زندگی دینے کے لیے ان کے والدین نے خود جتنا موقع ملا کرپشن کی، وہ کرپشن کاروبار میں بھی ہو سکتی ہے، اور پیسے کی لین دین میں بھی ہو سکتی ہے۔

مرحوم رحمان ملک صاحب جو بھی تھے، جیسے بھی تھے، انہوں نے جو کیا کچھ سوچ کر ہی کیا ہو گا۔ انسان جو قدم اٹھاتا ہے تو وہ اس بات پر راضی ہوتا ہے کہ وہ جو بھی کر رہا ہے سب ٹھیک ہی کر رہا ہے، اس کے بعد بھی اگر کوئی غلط کام کرتا ہے تو وہ اس کا اور اس کے رب کا اپنا معاملہ ہوتا ہے۔ اس کے لیے وہ اپنے خدا کو جواب دہ ہوتا ہے نا کہ کسی انسان کو۔

اور نہ ہی ہمیں کوئی حق حاصل ہے کہ ہم کسی انسان کے ذاتی معاملے میں اور خاص مذہبی ہونے یا نہ ہونے پر سوال اٹھائیں، کیونکہ یہاں پر تو یا کہا جاتا ہے کہ فلاں فلاں حکمران نماز نہیں پڑھتا لیکن اگر اس کی کوئی ایسی تصویر سامنے آئے جس میں وہ نماز پڑھ رہا ہوتا ہے یا ہاتھ میں تسبیح ہوتی ہے تو لوگ تب بھی ان کا مذاق اڑانے لگتے ہیں کہ یہ نمائش کیلئے لیے نماز پڑھ رہا ہے۔

دوسروں پر انگلی اٹھانے کے بجائے ہمیں اپنے اپنے اعمال کو ٹھیک کرنا چاہیے۔ غیبت، الزام اور بہتان لگانے کے بجائے خود کے لیے سوچنا چاہیے کہ جہاں رحمان ملک صاحب گئے ہیں اُدھر اگر آج نہیں تو کل ہم نے بھی جانا ہے پھر یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ دوسروں کی مسلمانی پر سوال اٹھانے والے خود کتنے پکے مسلمان ہیں….!

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button