یہ تو پاکستان ہے یہاں پوچھنے والا کوئی نہیں!

رانی عندلیب

آج رفعت پھر منہ پھلائے بیٹھی تھی، آن لائن شاپ سے ایک ڈریس کی جگہ دوسرا ملا تھا اور سینڈل کی جگہ کھسے ملے تھے۔ آپ سب کو معلوم ہے کہ کورونا کی وبائی صورت حال کی وجہ سے لاک ڈاون میں عیدیں بھی آ گئی تھیں اور شادیوں کا بھی سیزن تھا اور آج کل موسم بھی تبدیل ہو رہا ہے تو بازاروں کی بندش کی وجہ سے پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی لوگوں نے آن لائن شاپنگ کی طرف توجہ کی۔

کسٹمر کو بھیجا گیا سوٹ

لاک ڈاون سے پہلے پاکستان میں جو مشہور برانڈ ہیں لوگ ان سے آن لان شاپنگ کرتے تھے اور اب بھی کرتے ہیں، ان کی دیکھا دیکھی چوروں اور لٹیروں نے بھی آن لائن شاپنگ کے ذریعے بہت سے لوگوں کو لوٹا جن میں میری سہیلی بھی شامل تھی۔

لیکن اللہ معافی دے جو لاک ڈاون کے مہینوں میں آن لائن شاپنگ کے پیجز واٹس ایپ، انسٹا گرام، فیس بک پر ہزاروں کے حساب بنائے جانے لگے اور ان چور لوگوں نے آن لائن شاپنگ کے نام سے ہزاروں لوگوں کو لوٹا۔

تصویر ایک چیز کی ہوتی تھی اور جب گھر میں وہی چیز ملتی تو وہ اس کا رپلیکا بھی نہیں ہوتی تھی بلکہ بالکل اس کے مخالف چیز ہمیں ملتی تھی۔ اس طرح کے بہت سے واقعات تو بہت سارے لوگوں کے ساتھ پیش آئے لیکن جب میری سہیلی رفعت کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا تو بہت افسوس ہوا کیونکہ جب اسے آرڈر کیا ہوا ڈریس اور سینڈل کے بدلے لان کا سوٹ اور کھسے ملے تو اس کی رونے والی صورت دیکھنے کی تھی۔

 

اب اس کو ہم کس جرم کا نام دیں؟ یہ جرم کے کس زمرے میں آتا ہے؟ اب ہم بتائیں بھی تو کس کو اور کیسے؟ اب ان لٹیروں نے تو ہم سے پیسے لے لیے اور ہم جائیں تو کہاں جائیں اور فریاد کریں بھی تو کس سے کریں؟

تو یہ بات آج سچ ثابت ہوئی جو میں بچپن سے سنتی آ رہی تھی کہ یہ تو پاکستان ہے یہاں پوچھنے والا کوئی نہیں۔

کسٹمر کو ملنے والے جوتے

پوری دنیا میں کورونا کی وباء کی وجہ سے جہاں دوسرے ممالک نے معاشی لحاظ سے اپنے عوام کی جس طرح مدد کی وہاں پاکستان میں لاک ڈاون کی وجہ سے ٹٰی ایم سی پاکستان کے آن لائن شاپنگ کے ذریعے لوگوں کو لوٹا گیا ہے، لوگوں کی مجبوریوں سے غلط فائدہ اٹھایا گیا ہے، اس کی مثال کہیں پر بھی نہیں ملتی۔

Show More

جواب دیں

Back to top button
Close