کیا خیبر پختونخوا میں موجودہ نکاح نامہ خواتین کے لیے انصاف سے خالی ہے؟

نبی جان اورکزئی
خیبر پختونخوا میں نکاح نامے میں موجود خامیوں کو دور کرنے، خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے اور صوبے بھر میں یکساں نکاح نامہ متعارف کرانے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔ اس حوالے سے "بول اُٹھو” تحریک کے تحت پشاور پریس کلب میں ایک شارٹ فلم کی نمائش اور نکاح اصلاحات پر مبنی سیشن کا انعقاد کیا گیا۔
تقریب میں سابقہ صوبائی محتسب رخشندہ ناز، پشاور ہائی کورٹ کے وکیل ناصر غلزئی، سول سوسائٹی کے اراکین، طلبہ، وکلا اور خواتین کارکنوں نے شرکت کی۔ نمائش میں پیش کی گئی شارٹ فلم "بول اُٹھو” میں ان رجسٹرڈ نکاح خواں، غیر مستند نکاح رجسٹرارز اور نکاح کے عمل سے جُڑے مختلف مسائل کو اجاگر کیا گیا۔
سابقہ صوبائی محتسب رخشندہ ناز نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ نکاح نامے میں طلاق کے خانے کو نکاح کے وقت کاٹ دینا خواتین کے قانونی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خواتین کو مساوی حقِ طلاق دیا جائے اور نکاح نامہ اس انداز میں ترتیب دیا جائے جس میں وراثت میں خواتین کے حصے کو لازمی قرار دیا جائے۔
رخشندہ ناز نے مزید بتایا کہ جب بھی نکاح نامہ کی بات کی جاتی ہے تو خواتین کے حقوق نظرانداز کیے جاتے ہیں، نکاح نامہ میں عورت سے پوچھے بغیر ان کے حقوق کو کاٹ دیا جاتا ہے. انکا کہنا ہے کہ ایران میں یہ قانون ہے کہ تیس فیصد خاوند کی کمائی عورت کو دی جاتی ہے لیکن پاکستان میں عورت ایک ان پیڈ لیبر ہے، شادی کے بعد جو بھی کمائی آتی ہے تو اس میں خواتین کو حصہ دیا جائے۔
پشاور ہائی کورٹ کے وکیل ناصر غلزئی نے بتایا کہ انہوں نے نکاح نامے کی اصلاحات سے متعلق ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ نکاح سے قبل ایچ آئی وی اور تھیلیسیمیا کے ٹیسٹ کو لازمی قرار دیا جائے، اور نکاح رجسٹرارز کو باقاعدہ تربیت فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ نکاح نامے کے اہم کالمز (13، 14، 15) اکثر رجسٹرارز کی لاعلمی کے باعث مکمل نہیں کیے جاتے، جس کے باعث مقدمات عدالتوں میں آتے ہیں۔
شارٹ فلم کی تخلیق کار صحافی زینت بی بی کے مطابق فلم میں خواتین کو نکاح نامہ پڑھنے اور خود پُر کرنے کے حق سے متعلق شعور اجاگر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں تاحال نکاح نامے کا کوئی یکساں فارم موجود نہیں، جو خواتین کے حقوق کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔
تقریب کے اختتام پر مقررین نے مطالبہ کیا کہ نکاح نامے کو ایک جدید، موثر اور یکساں شکل دی جائے اور فیملی کورٹس کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ ازدواجی تنازعات کے مقدمات جلد نمٹائے جا سکیں۔