پشتو سٹیج کا روشن چراغ گل، مگر سوال زندہ— کیا فنکار صرف مرنے کے بعد قابلِ قدر ہوتے ہیں؟
میراوس، پشتو فن کا خاموش سپاہی، جو خاموشی سے رخصت ہوا

رفاقت اللہ رزڑوال
تنگی کی ہوائیں آج کچھ بوجھل تھیں، آسمان ساکت اور فضا سوگوار۔ ہزاروں دل شکستہ چہرے، آنکھوں میں نمی اور زبان پر صرف ایک نام—”میراوس”۔ وہی میراوس، جس نے حس مزاح سے روتے چہروں کو جگایا، جو پشتو سٹیج اور ٹیلی ویژن پر طنز و مزاح کی پہچان بنا، آج خاموشی سے سپرد خاک کر دیا گیا۔
میراوس، جن کا اصل نام بہت سے لوگوں کو شاید معلوم نہ ہو مگر ان کا اصل نام حیات اللہ خان تھا، وہ تحصیل تنگی میں ایک متوسط گھرانے میں 1955 میں پیدا ہوئے، جن کے سوگوران میں چھ بیٹے اور چھ بیٹیاں رہ گئے لیکن ان کا کردار، مکالمے اور چہرہ پشتون قوم کے ہر گھر میں پہچانا جاتا ہے۔ وہ فنکار جو صرف اداکار نہ تھا، بلکہ ایک سوچ، ایک آواز، اور ایک تحریک تھا۔
طویل علالت کے بعد، میراوس نے 4 مارچ اپریل کو دنیا سے خاموشی سے رخصت لے لی۔ لیکن ان کے بیٹے عدنان حیات کی آواز خاموش نہ رہ سکی۔ انہوں نے ٹی این این سے بات کرتے ہوئے درد بھرے لہجے میں کہا "ہم نے صرف والد کو نہیں کھویا، بلکہ وہ نظام بھی کھو دیا جو کبھی ہمارے ساتھ کھڑا نہ ہوا۔ اگر مدد بھی ملی، تو صرف کیمرے کی آنکھ کیلئے ملی۔”
یہ بھی پڑھیں: پشتو کے معروف کامیڈین میراوس انتقال کر گئے
عدنان کی باتوں سے نہ صرف دل دکھتا تھا، بلکہ ایک سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا فنکاروں کی زندگی صرف اس قابل ہے کہ ان پر تالیاں بجیں، اور مرنے کے بعد چند تعزیتی پیغامات دے کر فراموش کر دیا جائے؟
عدنان حیات کی یہ بات دل چیرنے والی ہے کہ ایک نامور فنکار کو ہسپتال میں دو مرتبہ آکسیجن ختم ہونے کا سامنا کرنا پڑا۔ صرف سفارش اور تعلقات کی بنیاد پر اکسیجن دوبارہ فراہم کی گئی۔ کیا یہ وہی معاشرہ ہے جو فنکاروں کو عزت دیتا ہے؟ یا یہ عزت صرف سٹیج کی چمکتی روشنیوں تک محدود ہے؟
تعزیتی پیغامات: خراج یا رسمی؟
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور، ایمل ولی خان، آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور دیگر سیاسی و سماجی رہنماؤں نے ان کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا۔ سب نے میراوس کو پشتون ثقافت کا ایک "عہد” قرار دیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ عہد جب بیماری کی دہلیز پر تھا، تو کہاں تھے یہ سب؟
میراوس جیسے فنکاروں کی آمدن کا واحد ذریعہ، نشتر ہال، بند پڑا ہے۔ پی ٹی وی پر سٹیج ڈرامے بند ہو چکے ہیں۔ اب جو چند سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے آمدن ہو بھی رہی ہے، وہ بہت معمولی ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے سابق تحصیل ناظم امیدوار حاجی فرمان علی کے مطابق، فنکاروں کو صرف اسی وقت یاد کیا جاتا ہے جب وہ ہم میں نہ ہوں۔ عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے باچا خان مرکز میں "انگازے” کے نام سے سٹوڈیو ایک امید کی کرن ضرور ہے، لیکن یہ ناکافی ہے۔ حاجی فرمان علی کا مطالبہ ہے کہ مرحوم میراوس کے اہل خانہ کو سرکاری مراعات اور روزگار دیا جائے، تاکہ باقی فنکاروں کو یہ یقین ہو کہ ان کا فن کبھی یوں بے آسرا نہ رہے گا۔
روحانی سفر: 2015 کا مقدس لمحہ
2015 میں میراوس کو عمرے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ اس روحانی سفر نے ان کی شخصیت میں مزید نرمی، عاجزی اور شکرگزاری بھر دی تھی۔ خانہ خدا کے سامنے جھکی ہوئی ان کی پیشانی نے اُن کے چاہنے والوں کے دلوں میں یہ یاد ہمیشہ کیلئے بسا دی کہ وہ صرف فنکار نہیں، ایک خدا ترس اور عاجز انسان بھی تھے۔
بہرحال میراوس چلا گیا، لیکن وہ ایک سوال چھوڑ گیا—کیا فنکار صرف مرنے کے بعد قابلِ قدر ہوتے ہیں؟ کیا پشتو ثقافت، جس نے دنیا بھر میں اپنی الگ پہچان بنائی، اپنے ان معماروں کو زندگی میں تحفظ نہیں دے سکتی؟
میراوس کی قبر آج تنگی میں خاموش ہے، لیکن ان کی کہانی، ان کی جدوجہد، اس کے فن اور خانۂ کعبہ میں گزارے گئے لمحات ایک نئی سوچ کا آغاز ہو سکتے ہیں—اگر ہم چاہیں۔