عوام کی آوازماحولیات

موسمیاتی تبدیلی اور پرندے: ماحولیاتی نظام اور معاش کے لیے خطرات

پاکستان میں پرندوں کی 792 اقسام پائی جاتی ہیں جن میں سے تقریباً 400 نقل مکانی کرنے والے پرندے ہیں۔ یہ پرندے مختصر مدت کے لیے پاکستان آتے ہیں۔ پرندوں کی اتنی بڑی تعداد کی موجودگی ہمارے ماحولیاتی نظام کی زرخیزی کو ظاہر کرتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے، یہ پرندے یا تو کھانے کے لیے شکار کیے جاتے ہیں یا تجارت کے لیے پکڑے جاتے ہیں۔

ماحول بڑے پیمانے پر انسانی اثر و رسوخ کے زیراثر ہے، اور انسان ہی اپنے آرام کے لیے اس میں تبدیلی کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن ساتھ ساتھ وہ اس میں خلل کا بنیادی ذریعہ بھی ہے۔ اس خلل کی وجہ سے ہونے والا نقصان نہ صرف انسانوں کو بلکہ زمین پر موجود تمام جانداروں بشمول پرندے اور جانوروں پر بھی اثرانداز ہوتا ہے۔

ماحول کی حفاظت انسانوں کی ذمہ داری ہے جیسا کہ اللہ نے انہیں اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے۔ بہترین تخلیق کا اعزاز پانے کے باوجود کائنات کے توازن کو بگاڑنے کے اصل وجہ انسان ہی ہے۔ اس عدم توازن کا سب سے زیادہ نقصان بھی انسان اٹھاتا ہے۔ بدقسمتی سے انسان اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے بہت کم جھکاؤ ظاہر کرتا ہے۔ جنگل اور پہاڑ اپنا حسن کھو رہے ہیں اور چراگاہیں صحراؤں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ یہ نہ صرف انسانیت بلکہ زمین پر رہنے والے تمام جانداروں کے لیے ایک مسلسل خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ ہمیں اس حقیقت پر توجہ درکار ہے، کہ جنگلات صرف خوبصورتی اور آمدنی کا ذریعہ نہیں ہیں بلکہ مختلف جانوروں، پرندوں اور حشرات الارض کا مسکن بھی ہیں۔

پرندے ہمارے ماحول کا ایک لازمی حصہ ہیں اور ہر قسم کا پرندہ ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے میں اپنا الگ، منفرد اور اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ پنجرے میں بند پرندوں کو پیسوں کے عوض چھوڑ دیتے ہیں، یہ سمجھ کر کہ یہ ایک نیک عمل ہے۔ بظاہر یہ نیک معلوم ہوتا ہو گا، درحقیقت یہ ایک گمراہ کن عمل ہے۔ ان میں سے بہت سے پرندے اپنے گھونسلوں سے چھوٹی عمر میں لے جاتے ہیں اور اپنی ماؤں سے جنگل میں زندہ رہنے کے لیے ضروری تربیت حاصل نہیں کر پاتے۔ نتیجے کے طور پر، وہ اکثر رہائی کے چند دنوں کے اندر مر جاتے ہیں۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے، کہ بالغ پرندوں کو ایک جگہ سے پکڑ کر دوسری جگہ فروخت کیا جاتا ہے، یا دیہی علاقوں سے لے کر شہروں میں فروخت کیا جاتا ہے۔ اس غلط فہمی کے تحت کہ انہیں چھوڑنا احسان اور ثواب کا کام ہے۔ یہ ایک ناقص ذہنیت ہے جسے بدلنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ‘واٹس ایپ میسجز کا مستقبل میں پیڈ ورژن متعارف کرایا جا سکتا ہے

پاکستان میں پرندوں کی 792 اقسام پائی جاتی ہیں جن میں سے تقریباً 400 نقل مکانی کرنے والے پرندے ہیں۔ یہ پرندے مختصر مدت کے لیے پاکستان آتے ہیں۔ پرندوں کی اتنی بڑی تعداد کی موجودگی ہمارے ماحولیاتی نظام کی زرخیزی کو ظاہر کرتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے، یہ پرندے یا تو کھانے کے لیے شکار کیے جاتے ہیں یا تجارت کے لیے پکڑے جاتے ہیں۔ یہ دونوں ہی نقصان دہ عوامل ہیں۔ انہیں کسی دوسری جگہ پر منتقل کرنا یا انہیں غلط وقت پر یا غلط جگہ پر چھوڑنا ان کی قدرتی رہائش گاہوں میں واپس آنے کی صلاحیت میں خلل ڈالتا ہے۔

مختصراً، ہم پرندوں کو ایک ماحولیاتی نظام سے ہٹا کر دوسرے میں چھوڑ دیتے ہیں، جہاں وہ اپنے اردگرد کے ماحول سے ناواقف ہوتے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ اپنے ساتھی، خوراک، یا پانی کہاں تلاش کریں، اور نہ ہی وہ ان شکاری پرندوں سے واقف ہیں جو ان کا شکار کر سکتے ہیں۔ یہ انہیں اپنے نئے ماحول میں کمزور بنا دیتا ہے۔

کچھ پرندے انسانوں کے قریب رہتے ہیں اور اکثر کھیتوں، باغات اور یہاں تک کہ گھروں میں بھی نظر آتے ہیں۔ تاہم، ہم ہمیشہ ان پرندوں کے ساتھ مہربانی سے پیش نہیں آتے۔ 2021 کے سروے کے مطابق، پاکستان میں پرندوں کی 13 اقسام معدوم ہونے کے خطرے سے دو چار ہیں، جن میں گھریلو چڑیا بھی شامل ہے، جو عام طور پر ہمارے گھروں میں گھونسلے بنا کر پائی جاتی ہے۔ ویسے تو 2990 سے چڑیا کی آبادی کم ہونا شروع ہوئی ہے۔ لیکن 2018 اس کی ابادی واضح طور پر مشاہدے میں آنے لگی ہے۔ اب تک چڑیوں کی آبادی میں 80 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے۔ کئی جگہوں پر وہ اب نظر تک نہیں آتی۔ 2010 سے ہم 20 مارچ کو گھریلو چڑیا کا دن مناتے ہیں۔ اس کے باوجود ہم انہیں بچانے میں بے بس نظر آتے ہیں۔

پرندے خدا کی مرضی سے آزاد پیدا ہوئے ہیں۔ وہ اپنے والدین سے جنگل میں زندہ رہنے، قدرتی جوڑے بنانے اور موسموں کے مطابق خوراک کے ذرائع تلاش کرنے کے لیے مخصوص تربیت حاصل کرتے ہیں۔ کچھ موسمی گھونسلے بناتے ہیں، جبکہ کچھ مستقل گھونسلا بناتے ہیں۔ ان کو پکڑنا اور تجارت کرنا ناانصافی ہے۔ اگر انہیں دوسری جگہ منتقل کرنا ہے یا انہیں رہا کرنا ہے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ کہاں سے پکڑے گئے تھے۔ اگر وہ مقام جہاں سے اسے پکڑا گیا ہے، قریب ہے، تو وہ زندہ رہ سکتے ہیں، لیکن اگر یہ میل دور ہے، تو انہیں چھوڑنا فضول ہے۔

اس تجارت کو فروغ دینے کے بجائے اصل میں نیک عمل یہ ہے کہ پرندوں کو پکڑنے سے گریز کیا جائے۔ سردیوں میں ان کے لیے چھتوں پر خوراک اور گرمیوں میں پانی مہیا کرنا احسان کا ایک قابل تحسین عمل ہے۔ ہمیں ایسی کوششوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔

اس لیے ضروری ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ اس میں درخت لگانا، صنعتی اور گھریلو فضلہ کو آبی ذخائر میں پھینکنے سے روکنا، اور زہریلے دھوئیں کے اخراج کو کنٹرول کرنا شامل ہے۔ ہمیں یوم جنگلی حیات منانے کے دوران عوام میں شعور بیدار کرنا چاہیے، پرندوں کے فوائد کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرنا چاہیے، اور اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کی ترغیب دینا چاہیے۔ اپنے اردگرد ہریالی، درختوں اور جانداروں کی حفاظت بہت ضروری ہے۔ اگر ہم آلودگی پر قابو پانے اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے تو نہ صرف ہمیں نقصان اٹھانا پڑے گا بلکہ ہمارے اردگرد موجود پرندے اور جانور بھی آہستہ آہستہ ختم ہو جائیں گے جس سے ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔

Show More
Back to top button