عوام کی آوازقبائلی اضلاع

طورخم بارڈر ساتویں روز بھی بند، تجارت کو 10 ملین ڈالر کا نقصان

طورخم بارڈر آج ساتویں روز بھی بند رہا، جس کے نتیجے میں تقریباً 10 ملین ڈالر کی تجارت کا نقصان ہوا ہے۔ خیبر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر محمد یوسف آفریدی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بارڈر کی بندش کے باعث دونوں ممالک کو شدید اقتصادی نقصان پہنچ رہا ہے۔

یوسف آفریدی نے مزید کہا کہ انہوں نے ہر فورم پر طورخم بارڈر پر حالیہ کشیدگی کے حوالے سے آواز اٹھائی ہے اور اس مسئلے کی سنگینی کو اجاگر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بارڈر بند ہونے کی وجہ سے اب تک 10 ملین ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے اور یہ نقصان ابھی تک جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اعلیٰ حکام اور بارڈر منیجمنٹ کو اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنا چاہیئے کیونکہ معمولی مسائل کی وجہ سے بارڈر کو بند کرنا کسی بھی صورت میں درست نہیں ہے۔ "تجارت کو سیاست سے الگ کرنا چاہیئے، دنیا بھر میں کہیں بھی سیاسی مسائل کی وجہ سے سرحدات بند نہیں کی جاتیں،” یوسف افریدی نے کہا۔

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ افغانستان پاکستان کے لیے قریبی اور اہم مارکیٹ ہے، لیکن بدقسمتی سے ہماری ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ایرانی اور وسطی ایشیائی مصنوعات نے اس مارکیٹ پر قبضہ کر لیا ہے۔ حکومت کو سنجیدگی سے کام لے کر ان مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیئے۔ ان کے مطابق ایک مشترکہ پاک افغان کونسل بنائی جائے تاکہ مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے۔

یوسف آفریدی نے مزید کہا کہ پاکستان کا تجارتی حجم کم ہوا ہے اور چند مہینے قبل بھگیاڑی کے مقام پر طویل دھرنے کی وجہ سے تاجروں نے طورخم بارڈر سے تجارت دوسرے سرحدی راستوں کی طرف منتقل کر دی۔ اب افغانستان کے ساتھ زیادہ تر کاروبار ایران کے ذریعے ہو رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ کم از کم پانچ یا دس سال کی تجارتی پالیسی بنائی جائے تاکہ طویل مدتی استحکام حاصل کیا جا سکے۔

"غلام خان بارڈر بھی پچھلے کافی عرصے سے بند ہے، جو ہماری بدقسمتی ہے۔ ان مسائل کا حل تب تک ممکن نہیں جب تک منتخب حکومت ان مسائل میں دلچسپی نہیں لے گی،” یوسف آفریدی نے مزید کہا۔

پشاور میں واقع افغان کونسل جنرل کے ساتھ کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور ٹریڈ اور ویزہ پالیسی پر گفتگو ہوئی ہے۔ یوسف آفریدی نے دونوں ممالک کے حکام سے درخواست کی کہ وہ تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم کریں۔

طورخم بارڈر کی بندش کی وجہ سے ڈرائیوروں اور مسافروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سینکڑوں افغان اپنے وطن جانے کے انتظار میں بارڈر کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان میں پاکستانی بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پیسے نہیں بچے اور وہ فاقوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button