عوام کی آواز

پشتو کے معروف کامیڈین میراوس انتقال کر گئے

میرواس 1955 میں خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ کے تحصیل تنگی گاؤں ملاخیل میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام حیات خان تھا۔ وہ پندرہ سال کی عمر سے مزاحیہ گفتگو اور چٹکلے سنانے لگے تھے۔

پشتو کے معروف کامیڈین میراوس انتقال کر گئے۔

پشتو کے معروف کامیڈین میراوس طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ وہ کافی عرصے سے بیماری میں مبتلا تھے اور علاج کے مراحل سے گزر رہے تھے۔ میراوس نے اپنی منفرد مزاحیہ اداکاری سے پشتو ڈراموں اور اسٹیج شوز میں مقبولیت حاصل کی۔ ان کے انتقال پر شوبز سے وابستہ شخصیات اور مداحوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کی تعزیت

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین اور جنرل سیکرٹری حسین شاہ یوسفزئی نے پشتو کے نامور مزاحیہ فنکار میراوس کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میراوس نے پشتو سٹیج ڈرامے، طنز و مزاح اور فنون لطیفہ کے ذریعے پشتون ثقافت اور زبان کی جو خدمت کی، وہ ناقابلِ فراموش ہے۔ ان کی فنکارانہ صلاحیتوں اور معاشرتی مسائل پر ان کے طنزیہ تبصروں نے عوام میں شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ عوامی نیشنل پارٹی ان کی وفات کو پشتو ادب اور فن کی دنیا کا ایک بڑا نقصان سمجھتی ہے۔ ہم ان کے اہلِ خانہ، دوستوں اور مداحوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

میراوس کون تھے؟

پشتو کے لیجنڈ مزاحیہ فنکار میرواس 1955 میں خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ کے تحصیل تنگی گاؤں ملاخیل میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام حیات خان تھا۔ وہ پندرہ سال کی عمر سے مزاحیہ گفتگو اور چٹکلے سنانے لگے تھے۔

میراوس حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور میں گزشتہ ایک ماہ سے زیر علاج تھے۔ ڈاکٹروں کے مطابق وہ ذیابیطس (شوگر) کے مرض میں مبتلا تھے جس کی وجہ سے ان کی دائیں ٹانگ متاثر ہوئی تھی جبکہ بینائی اور سماعت پر بھی اس بیماری نے منفی اثرات ڈالے تھے تاہم ہسپتال کے بستر پر ہونے کے باوجود وہ اپنی مزاحیہ باتوں سے لوگوں کو ہنساتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: عیدی، مہندی اور عید کارڈز: ماضی کی عیدیں یاد آتی ہیں؟

انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز ریڈیو پاکستان سے ایک مزاحیہ فنکار کے طور پر کیا۔ جلد ہی وہ پورے پشتون خطے میں مقبول ہو گئے اور دنیا کے کئی ممالک کا سفر کیا جہاں انہوں نے پشتون کمیونٹی کو اپنی مزاحیہ باتوں اور لطیفوں سے محظوظ کیا۔ وہ نہ صرف مزاحیہ شاعری اور پیروڈی میں ماہر ہیں بلکہ ان کے تقریبا 766 آڈیو کیسٹ بھی ریکارڈ ہو چکے ہیں۔

اس کے علاوہ انہوں نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر بھی بے شمار مزاحیہ شوز اور پروگرامز کیے جبکہ اسٹیج پر بھی اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ کچھ عرصہ قبل میراوس نے انکشاف کیا تھا کہ وہ دنیا کے کم از کم 18 ممالک کا سفر کر چکے ہیں جہاں انہوں نے اپنے منفرد مزاحیہ انداز سے پشتونوں کو خوش کیا۔ان کی مزاحیہ شاعری اور لطیفوں پر مبنی ایک کتاب “خندا پہ ٹوقو، ٹوقو کے ” کے عنوان سے شائع ہو چکی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد سہیل کی تصنیف “د چارسدے تاریخ” کے مطابق ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں برونائی دارالسلام کے مادام تساؤ عجائب گھر میں ان کا مجسمہ بھی نصب کیا گیا ہے

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button