عوام کی آواز

ضلع اورکزئی: حکومت زمین ہتھیا لے تو لیڑی کے عوام کہاں جائیں گے؟

خیبر پختونخوا حکومت تحصیل لوئر ضلع اورکزئی کے علاقے فیروزخیل کے ایک گاؤں لیڑی میں اس گاؤں کے باشندوں کی زمینوں پر زبردستی قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اور مقامی لوگوں کو اپنی ہی زمینوں سے غیرقانونی طور پر محروم کیا جا رہا ہے، اور ان لوگوں کو بلاجواز تنگ اور ہراساں کیا جا رہا ہے۔

زرائع کے مطابق سرکاری اہلکار آ کر پیمائش کی غرض سے ان لوگوں کی زمینوں میں فیتے لگوا رہے ہیں، ان لوگوں کے مرد و خواتین کھیتوں میں کام کر رہے ہیں جبکہ سرکاری اہلکار دن دہاڑے ان کے کھیتوں میں بلااجازت گھس کر مجرمانہ مداخلت کر رہے ہیں جو کہ مقامی روایات، اقدار اور ثقافت کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

زرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ گاؤں کے لوگ انتہائی غریب اور بے سہارا ہیں، ان کی تھوڑی تھوڑی سی زمینیں ہیں جو ان کے بال بچوں کے گزربسر کیلئے ناکافی ہیں، گاؤں کے 99 فی صد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں یہاں تک کہ وہ اپنے بچوں کیلئے تعلیم، صحت اور زندگی کی دوسری سہولیات تو دور کی بات، دو وقت کی روٹی بھی خرید نہیں سکتے، اگر ایسے لوگوں کو اپنی ان معمولی معمولی زمینوں سے بھی محروم کر دیا گیا تو وہ کہاں جائیں گے، ان کو پناہ لینے کی جگہ بھی میسر نہیں ہو گی اور وہ کھلے آسمان تلے رہ کر دربدر اور ذلیل و خوار ہو جائیں گے، ان کے بچے و خواتین بھیک مانگنے پر مجبور ہو جائیں گے اور جرائم پیشہ بن کر مستقبل میں معاشرے کیلئے ناسور ثابت ہوں گے۔

”سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ اگر ایک طرف ایک آدمی کے بچوں کو دو وقت کی روٹی نہیں مل رہی اوپر سے اس کو اگر اپنی تھوڑی سی زمین سے بھی محروم کر دیا جائے تو اس کا کیا حال ہو گا؟ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس گاؤں کے لوگ 2013ء میں حکومت کو کافی زمین دے چکے ہیں اب ان کے پاس حکومت کو دینے کیلئے مزید زمین دستیاب نہیں ہے، چونکہ اس گاؤں کے لوگ کافی پریشان اور احساس محرومی کا شکار ہیں وہ اپنے آپ کو غیرمحفوظ تصور کر رہے ہیں، دو روز قبل حکومت نے ان لوگوں سے زمین ہتھیانے اور ان کی آواز کو دبانے کیلئے اس گاؤں کے چند غریب کاشتکاروں کو گرفتار بھی کیا ہے،” زرائع نے بتایا۔

ٹی این این کے ساتھ اس حوالے سے گفتگو میں زرائع نے مزید بتایا کہ درحقیقت محکمہ پولیس خیبر پختونخوا ضلعی انتظامیہ کی ملی بھگت سے ان زمینوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے حالانکہ اس علاقہ میں لیڑی کے علاوہ کافی سے بھی زیادہ زمین پائی جاتیی ہے لیکن پولیس وہاں کی بجائے اسی علاقے میں تھانہ وغیرہ کے قیام کیلئے زمین ہتھیانے پر مصر دکھائی دے رہی ہے جو مقامی لوگوں کے ساتھ ظلم ہے۔

مقامی لوگ وزیراعلی خیبر پختونخوا، گورنر خیبر پختونخوا اور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سمیت ڈپٹی کمشنر اورکزئی اور انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان بے سہارا لوگوں کے جان و مال، جائیداد اور عزت و آبرو کو تحفظ فراہم کریں، انہیں انصاف دلایا جائے اور گرفتار افراد کو جلد از جلد رہا کیا جائے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button