عوام کی آوازلائف سٹائل

بے روزگاری اور مہنگائی، آخر ہو گا کیا؟

 

انصار یوسفزئی

ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، پاکستان میں بے روزگاری ہے اور مہنگائی ہے، یہ دو بنیادی مسائل ہمیشہ سننے کو ملے ہیں۔ پاکستان کے کسی بھی حکمران نے اپنے دور میں اس پر کنٹرول حاصل نہیں کیا ہے مگر موجودہ حکومت کے سرخیل عمران خان جنہوں نے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا تھا، ان کے دور میں مہنگائی عروج پر اور بے روزگاری میں بھی دن بدن مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری کے علاوہ بھی یوں سمجھیے کہ مملکت خداداد پاکستان اس وقت ایک عجیب اور پراسرار سی کیفیت میں مبتلا ہے جس کا کوئی ممکنہ حل اس وقت ان حالات میں مشکل دکھائی دے رہا ہے، مگر ہم آج اپنے کالم میں ملک کو درپیش ریکارڈ مہنگائی، جس نے غریب طبقے کے ساتھ ساتھ ملک کے متوسط طبقے کو بھی بری طرح پریشان کر رکھا ہے اور بے روزگاری، جو کم ہونے کی بجائے دن بدن بڑھتی جا رہی ہے، پر بات کریں گے۔

آخر یہ بے روزگاری ہے کیا چیز اور یہ کس طرح سے وقوع پذیر ہوتی ہے؟ یہ جاننا بڑا ضروری اور اہم ہے۔ میرے محدود علم کے مطابق بے روزگاری تب سر اٹھاتی ہے جب آپ کے پاس دستیاب وسائل آپ کی آبادی سے کم ہونے لگتے ہیں۔ فرض کیجئے، ایک ملک ہے جس کی آبادی زیادہ ہے اور دستیاب وسائل کم تو ڈیفینٹلی وہاں مسائل کے انبار ہوں گے اور ان بے شمار مسائل میں ایک بڑا مسئلہ بے روزگاری کا ہو گا، بدقسمتی سے جس کا شکار مملکت خداداد پاکستان بھی ہے۔ ہمارے ملک میں حکمرانوں کی غفلت اور نااہلی کے باعث دستیاب وسائل روز بروز کم ہوتے جا رہے ہیں جبکہ بہتر منصوبہ بندی نہ ہونے اور مختلف فورمز پر شعور نہ اجاگر ہونے سے آبادی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے بے روزگار افراد کا ایک جم غفیر موجود ہے۔ آبادی کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ مسائل میں بھی بہت تیزی کے ساتھ اضافہ ہوتا ہے۔ آپ خود دیکھ لیجئے پاکستان میں ایک مسئلہ حل نہیں ہوتا کہ دوسرا سر اٹھا لیتا ہے۔

آپ یہ بھی ملاحظہ کیجئے گا کہ پاکستان خطے کا واحد بدقسمت ملک ہے جس کی آبادی میں سالانہ 2.4 فیصد کے حساب سے اضافہ ہوتا ہے (یہ حساب 2017 کی مردم شماری کے مطابق ہے) جبکہ ہمارے ہمسایہ ممالک جن میں بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا اور ایران شامل ہیں، ان کی آبادی میں سالانہ بالترتیب ایک اشاریہ ایک، ایک، ایک اشاریہ تین اور ایک اشاریہ چار فی صد اضافہ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر آبادی میں سالانہ 2.4 فیصد کے حساب سے اضافہ ہوتا رہا تو 2025 تک پاکستان کی آبادی 30 کروڑ کا ہندسہ عبور کر سکتی ہے اور ایسا ہونے سے پاکستان جو اس وقت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے تب شائد دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن جائے۔ اور آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ اگر کوئی خاطر خواہ منصوبہ بندی اور عملی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو بے روزگاری میں بھی ریکارڈ اضافہ ہو گا اور بے روزگاری میں اضافے کے ساتھ ساتھ غربت کے لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد بھی بڑھ جائے گی جو پاکستان کیلئے آنے والے سالوں میں بہت سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

پچھلے ایک سے دو سال کے دوران ملک میں بے روزگار افراد کی تعداد اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ عالم گیر وبا کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں آنے والے بھونچال نے معاملات زندگی مفلوج کر کے رکھ دیئے ہیں۔ دنیا بھر میں کاروباری سرگرمی معدوم ہونے سے بہت سے پاکستانی جو باہر ممالک میں تھے وہ اس دوران پاکستان آئے جس سے بے روزگاری کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس وجہ سے ایک رپورٹ کی روشنی میں پاکستان میں، جہاں 2019 میں بے روزگاری کی شرح 4 اشاریہ 5 فیصد تھی اور 2020 میں 6 اشاریہ 9 فیصد تک بڑھ چکی تھی، 2021 میں اس میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا اور اب یہ شرح 11 اشاریہ 1 ہے جبکہ خطے کے دیگر ممالک میں بے روزگاری کی شرح کچھ یوں ہے: سنگاپور 1 اشاریہ 9 فیصد، بھوٹان 2 اشاریہ 4، مالدیپ اور نیپال 3 اشاریہ 9 فیصد، انڈیا میں 5 اشاریہ 3 فیصد، کوریا 3 اشاریہ 7 فیصد، چین 4 اشاریہ 7 فیصد، سری لنکا 12 فی صد جبکہ بنگلہ دیش میں مہنگائی کی شرح 4 اشاریہ 2 فیصد ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق اگر بے روزگاری کی شرح یہی رہی تو 2022 میں پاکستان میں بے روزگاری مزید 3 سے 5 فی صد تک بڑھ سکتی ہے جو کہ پاکستان کیلے ایک انتہائی تشویشناک صورت حال ہو گی۔

اسی طرح اگر مہنگائی کی بات کریں تو ملک میں پچھلے تین سالوں میں ایسی کوئی چیز نہ رہی جو سستی رہ گئی ہو۔ پچھلے تین سالوں سے جب سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی ہے ہر چیز کی قیمت دنوں کے حساب سے تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ اس حوالے سے کوئی ضابطہ کوئی قانون نظر نہیں آیا۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق سال 2021 میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح خطے میں سب سے زیادہ رہی۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ حکومتی اخراجات میں آمدنی کے مقابلے میں زیادہ اضافہ ہے اور حکومت آمدنی کے مطابق خرچ کرنے کی بجاۓ اخراجات پورے کرنے کیلئے نئے نوٹ چھاپنا شروع کر دیتی ہے، جو مہنگائی کی ایک بہت بڑی وجہ بن جاتی ہے۔

لیکن دوسری طرف ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت نے بھی ہر چیز کو پر لگا دیئے ہیں، اگر ڈالر 10 فیصد تک بڑھتا ہے تو مارکیٹ میں ہر چیز کی قیمت 50 فیصد تک بڑھتی ہے، ڈالر کا ریٹ اوپر جاتے ہی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں موجود بڑے بڑے مافیاز مہنگائی میں اضافے کی ایک وجہ ضرور ہو سکتی ہے۔ یہ مافیاز مصنوعی بحران پیدا کرتے ہیں اور لوگ مارکیٹ سے چیزیں غائب کر دیتے ہیں جس سے مختلف اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ آپ دیکھتے نہیں ہیں کہ کبھی گھی اور آٹے کی قلت تو کبھی چینی مارکیٹ سے غائب تو کبھی پٹرول نایاب! اور تو اور سبزی جو زیادہ تر ہماری اپنی ہے، وہ بھی غائب ہو جاتی ہے۔

یہ تو ہو گئی ملک کو درپیش مہنگائی اور بے روزگاری کی ایک مکمل تصویر لیکن اب سوال یہ ہے کہ اس پراسرار اور خوف کی سی فضا میں جہاں ہر تیسرا آدمی بے روزگار ہے اور ہر دوسرا آدمی مہنگائی سے تنگ آ چکا ہے، آخر ہو گا کیا؟ سوال یہ بھی ہے کہ عام آدمی، جو جمہوریت کی اکائی ہے وہ پریشان حال ہے تو پھر ایسی جمہوریت کا آخر فائدہ کیا ہے؟ عوام کو اس خوف کی سی فضا میں امید دلانا اپوزیشن کا کام ہے، عوام حکومت سے مایوسی کے بعد مہنگائی میں کمی لانے کیلئے اپوزیشن کی طرف دیکھ رہی ہے مگر افسوس کہ ہماری اپوزیشن خود کسی ایسے انجانے خوف میں مبتلا ہے کہ اسے خود کسی بڑے سہارے کی اشد ضرورت ہے۔ اپوزیشن جو ہمیشہ حکومت کے خلاف عوام کی آواز ہوتی ہے وہ کردار ادا کرنے سے قاصر ہے جو اسے بطور اپوزیشن ادا کرنی چاہئے۔ سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ اپوزیشن کا مہنگائی کے خلاف اپنایا گیا بیانیہ، سینیٹ میں اکثریت کے باوجود شکست کے بعد کتنا موثر ہو گا؟ سینیٹ کی اس شکست کے ساتھ اپوزیشن کا نام نہاد بیانیہ جو اس نے مہنگائی کے خلاف اپنایا تھا، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو گروی رکھنے کے عمل میں حکومت کی بی ٹیم بننے کے بعد زمین بوس ہو چکا ہے۔ اپوزیشن کے پاس اس وقت کوئی اخلاقی جواز باقی نہیں رہا ہے۔ آپ ماتم ملاحظہ کیجئے کہ اپوزیشن اتنے اہم موقع پر اگر اپنے ارکان کی تعداد تک پوری نہیں کر سکتی تو ایسی اپوزیشن سے عوام مزید کیا توقع رکھ پائے گی؟ ایسی اپوزیشن جو اپنی بات تک کھل کر نہیں کر سکتی عوامی ایشوز کیلئے کیا خاک ایک ہو جائے گی؟ لہٰذا ہمیں ماننا پڑے گا اپوزیشن وقت حکومت وقت کی بی ٹیم بن چکی ہے جو عوام کیلئے نہیں بلکہ ذاتی مفاد کی جنگ لڑ رہی ہے جس میں عوام صرف اور صرف بطور ہتھیار استعمال ہو رہے ہیں مگر عوام کو اس کا ذرا برابر ادراک نہیں ہے اور نہ کبھی ان کو ادراک ہو گا کیوں کہ عوام بے روزگاری اور مہنگائی میں دھنس چکے ہیں اور دھنس ہو کر رہ گئے ہیں اور آخر ہو گا کیا تک اسی صورت حال سے دو چار رہیں گے کیوں کہ من حیث القوم عوام کی اوپر والی منزل خالی رہ گئی ہے جو اتنی بے کار اور اصولوں سے عاری اپوزیشن کے سہارے پر کھڑی ہے۔

انصار یوسفزئی اسلام آباد میں مقیم صحافی ہیں۔ وہ اس وقت بطور نمائندہ ایشیا فری پریس (اے ایف پی) سے وابستہ ہیں۔ یوسفزئی روزنامہ آئین پشاور، روزنامہ شہباز پشاور اور ڈیورنڈ ٹائمز کے ساتھ بطور کالم نگار منسلک رہ چکے ہیں۔ انہوں نے ایڈورڈز کالج پشاور اور نمل اسلام آباد سے صحافت کی تعلیم حاصل کی ہے.
Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button