صحتکالم

وائرس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا!

ارم رحمٰن

ایڈز ایک ایسا مرض ہے تاحال اس کا مکمل علاج دریافت نہیں ہو سکا، یہ ایچ آئی وی کے ذریعے ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہوتا ہے۔

HIV مخفف ہے Human Immunodeficiency virus کا، اور جس شخص میں یہ وائرس پایا جائے اسے ایڈز کا مریض کہا جاتا ہے۔ اس وائرس کی موجودگی مریض کا مدافعتی نظام بہت حد تک کمزور کر دیتی ہے اور مریض ہر قسم کی عام بیماریوں کا بہت جلدی شکار ہو جاتا ہے۔

محقیقین کے مطابق انسانی جسم سے خارج ہونے والی رطوبت یامائع جات کی دوسرے جسم میں منتقلی ہی ایڈز کا سبب بنتی ہے۔ سالہا سال تک وائرس جسم میں موجود ہونے کے باوجود انسان صحتمند رہ سکتا ہے۔ بسااوقات اس وائرس کی جسم میں موجودگی کے باوجود وہ شخص ایڈز کا مریض نہیں کہلاتا کیونکہ کبھی اس وائرس کا حملہ بہت معمولی نوعیت کا ہوتا ہے اور مستقل پرہیز اور علاج کروانے سے کچھ لوگ اس مرض سے نجات پانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن کم ہی ایسا دیکھنے میں آتا ہے۔

پاکستان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے اور ان مسلمانوں میں بھی اکثریت سادہ لوح مسلمانوں کی ہے جو سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کو ایڈز نہیں ہو سکتا۔ اب ان معصوم یا احمق لوگوں کو کون سمجھائے کہ ایچ آئی وی کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں، مسلم ہو یا غیرمسلم جو بھی بے راہ روی یا بے احتیاطی کا شکار ہو گا اس پر یہ وائرس حملہ کر دے گا کیونکہ وائرس کو کیا پتہ کہ یہ مسلمان کا خون ہے یا کافر کا!

پاکستان میں پچھلے پانچ سالوں میں یہ وائرس اس قدر تیزی سے پھیلا ہے کہ اگر احتیاط اور روک تھام کے انتظامات نہیں کیے گئے تو اس مرض پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔ افسوس ناک اور تشویش ناک بات یہ ہے کہ مغربی اور یورپی ممالک میں یہ مرض کافی حد تک کم ہو گیا ہے بلکہ ہو سکتا ہے آنے والے کچھ سالوں تک بہت کم کیسز رہ جائیں جبکہ پاکستان کے اکثر علاقے اس کی لپیٹ میں شدت سے آ رہے ہیں۔

بیرون ممالک میں اس مرض سے بچنے کے لیے اور متاثرہ شخص سے صحتمند انسانوں میں وائرس کی منتقلی نہ ہونے کے بارے پوری معلومات مہیا کی جاتی ہیں؛ وہاں سیمینار منعقد کیے جاتے ہیں، لوگوں میں اس مرض سے بچاؤ کے طریقے اور مرض لاحق ہونے کے بعد دوسروں کے بچاؤ کے حوالے سے بیداری پیدا کی جاتی ہے، ان کے ساتھ اخلاقی اور سماجی ذمہ داریوں کے اصول روا رکھے جاتے ہیں تاکہ وہ اپنے مرض کو شکست دے سکیں، اور دوسروں کو بچانے کی کوشش کریں۔

پاکستان میں تو ایسی معلومات اور رویے بھی مفقود ہیں؛ شہروں سے زیادہ دیہی علاقوں میں یہ وائرس انسانوں کو زیادہ تیزی سے متاثر کر رہا ہے، جلال پور جٹاں اور چنیوٹ جیسے چھوٹے شہروں کے بہت پسماندہ گاؤں میں دو سو سے زیادہ متاثرین/مریض سامنے آئے۔ اور اس کی بڑی وجہ لاعلمی اور غفلت اور مرض کے حوالے سے مناسب تعلیم کا فقدان ہے۔

صفائی اور احتیاطی تدابیر مفقود ہیں جبکہ اس مرض کو منظر عام پر نہ لانے کی بڑی وجہ بدنامی کا خوف بھی ہے۔ کسی بھی قسم کا اطلاعاتی اور معلوماتی پروگرام کا انعقاد نہیں کیا جاتا۔

پاکستان میں تین لاکھ تک ایڈز کے مریض موجود ہیں جبکہ رجسٹر کروانے والوں کی تعداد پچاس ہزار سے بھی کم ہے۔ اس کا باقاعدہ علاج کروانے کے لیے مناسب دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ اس کے متعلقہ سینڑ میں رجسٹریشن بھی کروانا لازمی ہے تاکہ بروقت روک تھام ہو سکے اور یہ وائرس مریض سے کسی دوسرے صحتمند انسان میں منتقل نہ ہو سکے کیونکہ لاعلمی اور غفلت ہی اس کے شدت سے پھیلنے کا سبب بنتا ہے۔

2016 میں امریکہ نے ایڈز کی مد میں پاکستان کو تین کروڑ اکہتر لاکھ ڈالر اس مرض کی روک تھام کی مد میں دیئے تاکہ اس مرض کو کنٹرول کرنے والی مہنگی “اینٹی ریٹرو وائرل ادویات” مریضوں کو فراہم کی جا سکیں۔

1980 سے اس مرض کا آغاز ہوا تھا اور اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اب تک ساڑھے تین کروڑ سے زیادہ متاثرہ افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔

ایچ آئی وی پھیلنے کی تین اہم وجوہات ہیں:

1) ایڈز کے مریض کا خون کسی دوسرے مریض کو لگا دیا جائے

2) ایڈز کے مریض کے ساتھ جنسی تعلق رکھنے کی وجہ سے

3) عورت کے دودھ سے

ایڈز کی سب سے اہم وجوہات میں غیرمحفوظ جنسی تعلقات، کثیر جنسی تعلقات، ہم جنس پرستی، کیونکہ ہم جنس پرست صنف مخالف کے ساتھ بھی جنسی تعلقات رکھتے ہیں اس لیے یہ 90 فی صد تیزی سے وائرس منتقل کرنے کا سبب بنتا ہے، اور خون کی منتقلی بنا چیک کیے کہ آیا یہ کسی ایڈز سے متاثرہ شخص کا خون ہے۔ یا کسی متاثرہ شخص کی استعمال شدہ سوئی اور بلیڈ، استرا وغیرہ جس پر خون لگ چکا ہو وہ کسی بھی صحتمند انسان میں ایڈز کا وائرس منتقل کر سکتا ہے۔

اس کے علاوہ عام غلط فہمیاں سائنسی تجربات کے بعد کافی حد تک دور ہو چکی ہیں یعنی ایچ آئی وی ایک ہی ہوا میں سانس لینے سے، ساتھ بیٹھنے سے، مصافحہ یا معانقہ کرنے سے یعنی ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے مریض کے گال یا ماتھے پر چومنے سے، ایک دوسرے کے برتن استعمال کرنے سے، مریض کا کموڈ استعمال کرنے سے یا اس کے غسل خانے کے استعمال سے ایڈز کا وائرس منتقل نہیں ہوتا۔

اس طرح حشرات کی تعداد جیسے مچھروں کی بہتات ہو اور اس علاقے میں ایڈز کے مریض بھی کافی ہوں تب بھی مچھر ان کا خون پی کر صحتمند انسان کے جسم پر بیٹھیں اور خون چوسیں تب بھی وائرس منتقل نہیں ہوتا۔ اس طرح ایڈز کے متاثرہ شخص کے لعاب دہن میں بھی یہ وائرس عمومی طور پر نہیں پایا جاتا۔

جدید تحقیق کے مطابق “ختنہ” کروانے سے ایچ آئی وی کا خطرہ کم ضرور ہوتا ہے لیکن مکمل طور پر ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ اسی طرح کسی مرد کی تین چار بیویاں ہیں اور صرف ان کے ساتھ ہی جنسی تعلقات ہیں تو کسی کو بھی ایچ آئی وی نہیں ہو گا لیکن اگر ماضی میں کسی کے بھی جنسی تعلقات کے حوالے سے معلومات نہیں تو خطرہ ہو سکتا ہے۔ کسی مریض یا مریضہ سے جنسی تعلقات رکھنے کے دوران مرد اگر “کنڈوم” کا استعمال یقینی بنا لے تو 98 فی صد اس مرض کے امکانات کم ہو جائیں گے۔

ایڈز کی علامات ہر شخص میں مختلف قسم کی ہوتی ہیں اور واضح علم صرف بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے۔ اگر کسی شخص کو اپنی صحت کے حوالے سے کچھ مختلف علامت محسوس ہوں تو اسے بلڈ ٹیسٹ کروانا چاہیے تاکہ بروقت اس مرض کی تشخیص ہو سکے۔

ایک عجیب سی حقیقت یہ بھی ہے کہ اس وائرس کی جسم میں موجودگی بھی ایڈز کا سبب نہیں بنتی بلکہ جن لوگوں میں یہ وائرس خطرناک حد تک اثرانداز ہو جائے تب ہی وہ ایڈز کا شکار بنتے ہیں۔

پاکستان کے علاوہ ملیشیا، انڈونیشیا اور اہل ایران بھی بہت تیزی سے اس مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

مذکورہ بالا تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اس مرض سے بچنے کے لیے مسلمان ہونا کافی نہیں بلکہ مکمل معلومات اور جانکاری لازمی ہے۔ بے راہروی اور بے احتیاطی اس کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

عوام کو مکمل معلومات دینا ریاست کی ذمہ داری ہے تاکہ بروقت اس مرض کا علاج ہو سکے اور اس موذی مرض سے دوسرے صحتمند انسانوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔ لاعلمی ایک جہالت ہے اور وائرس اس جہالت کا ہی فائدہ اٹھاتا ہے کیونکہ “وائرس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔”

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button