سیاستکالم

مسئلہ فلسطین: اسرائیل اپنی ضد پر اڑا ہے

ارم رحمٰن

آج دنیا کے مسلمانوں کو جن مسائل کا سامنا ہے ان میں سب سے اہم ترین مسئلہ فلسطین کا ہے؛ مسلم دنیا کے تمام مسائل کی فہرست میں مسئلہ فلسطین پہلے نمبر پر موجود ہے، فلسطین کی اہمیت کا اندازہ کرنے کے لیے ایک ہی بات کافی ہے کہ “بیت المقدس، مسلمانوں کا قبلہ اول ،انبیاء اکرام کی سرزمین” ہے، مسلمانوں کی بے پناہ عقیدت کا سرچشمہ، ہر مسلمان کے لیے باعث اطمینان اور راحت قلب!

فلسطین کا قیام اور استحکام ایک سو سال پہلے کا تنازعہ ہے؛ پہلی جنگ عظیم میں سلطنت عثمانیہ کو شکست کے بعد برطانیہ نے فلسیطینی خطے کا کنٹرول سنبھال لیا، اس وقت یہاں عرب مسلمانوں کی کثرت تھی جبکہ یہودی اقلیت میں تھے، دونوں برادریوں میں تناؤ اس وقت بڑھنے لگا جب عالمی برادری نے برطانیہ کو ذمہ داری سونپی کہ وہ یہودی کمیونٹی کے لیے فلسطین میں قومی گھر کی تشکیل دے، اکثریت عرب مسلمانوں کی تھی انھوں نے اس بات کی مخالفت کی۔

1920 کی دہائی سے لے کر 1940 کی دہائی کے دوران یہاں آنے والے یہودیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، ان میں سے کچھ دوسری جنگ عظیم میں یورپ کے “ہولو کاسٹ” سے بچ کر آئے تھے مگر اسی دوران یہودیوں اور عربوں کے درمیان اور حکومت برطانیہ کے خلاف پرتشدد واقعات بڑھنے لگے۔ 1947 میں اقوام متحدہ نے ووٹنگ کے ذریعے فیصلہ کیا کہ فلسطین کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا جائے جن میں ایک یہودی ریاست اور دوسری عرب ریاست جبکہ یروشلم (بیت المقدس) ایک بین الاقوامی شہر ہو گا۔ اس تجویز کو یہودی رہنما مان گئے لیکن عرب مسلمانوں کی اکثریت کو گوارا نہیں ہوا اس لیے اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

1948 میں برطانوی حکمران یہ مسئلہ حل کیے بنا یہ خطہ چھوڑ گئے اور یہودی رہنماؤں نے زبردستی اسرائیل کی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا۔ بہت سے فلسیطینیوں نے اس کی مخالفت کی تو جنگ چھڑ گئی، ہمسایہ عرب ممالک نے بھی اس جنگ میں حصہ لیا۔ لاکھوں فلسطین بے گھر ہوئے اور ان کو اپنی اور اپنے خاندان کی جان بچانے کے لیے اپنا وطن چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ اس واقعہ کو “النبکہ” یعنی تباہی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اگلے برس جنگ بندی کا اعلان ہوا تو اسرائیل نے خطے کا کنٹرول سنبھال لیا۔

زیادہ تر فلسطینی جو اب پناہ گزین ہیں، ان کی آنے والی نسلیں اب غزہ کی پٹی اور غرب اردن میں رہتے ہیں، شام، اردن اور لبنان میں ان کے بہت سے رشتے دار مقیم ہیں۔ اسرائیل پورے بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت مانتے ہیں اور غرب اردن پر قابض ہیں تاہم غزہ کی پٹی سے فوجیں نکال لیں مگر اقوام متحدہ آج بھی اس علاقے کو مقبوضہ قرار دیتی ہے۔  فلسیطینیوں کا یہ ہی کہنا ہے کہ اسرائیل کا یہ قبضہ ناجائز، غیرقانونی اور امن کی راہ میں رکاوٹ ہے لیکن اسرائیل اپنی ضد اور ڈھٹائی پر اڑا ہے۔

مغربی ممالک اسرائیل کے غیرقانونی اور ناجائز قبضے کی حمایت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اسرائیل کا قانونی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ اس قدر گہرا ہے کہ دنیا اب مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلیوں کی ناجائز آبادکاریوں، قتل و غارت، زمینوں پر قبضے اور لوگوں کے خلاف نسلی امتیاز پر خاموش نہیں رہ سکتی۔

75 سال سے فلسطینیوں کو بربریت کا شدید نشانہ بنایا جا رہا ہے، سوال اٹھتے ہیں کہ عالمی برادری فلسطین کے مسئلے پر خاموش کیوں ہے؟ کیا ااسرائیلی قبضے اور جارحانہ تشدد پر مسلسل خاموشی نے بین الاقوامی قانون کو کمزور کر دیا ہے؟ کیا اس کی سب سے اہم وجہ مسلم ممالک میں ایک دوسرے سے اتحاد کا شدید فقدان ہے جو اپنے سیاسی مفادات کی وجہ سے اور دیگر مقاصد کے تحت آپس میں برسر پیکار ہیں؟ کئی مسلم ممالک میں خانہ جنگی کی صورت اور خلفشار نظر آتا ہے اور سب ایسے ہی انتشار کا شکار ییں۔

دنیا میں مسلم ممالک کی تعداد 57 ہے، ان میں 62 فی صد مسلمان ایشیاء میں بستے ہیں، سب سے بڑا ملک انڈونیشیا ہے جس میں 87 فی صد مسلمان ہیں، غیر عرب ممالک میں ترکی اور ازبکستان بڑے مسلم اکثریت والے ممالک ہیں۔ مغربی اور یورپی ممالک اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے ان مسلم ممالک میں مداخلت کرتے نظر آتے ہیں
کیونکہ ان کا مفاد اسی میں ہے کہ تمام مسلم ممالک ایک دوسرے کے خلاف رہیں اور ان میں یکجہتی نہ ہونے پائے۔
ذرائع ابلاغ پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے دنیا بھر سے آئے مایہ ناز مفکران، اسلامی مفتیان، خطباء عظام،
اسلامی اسکالرز کے بڑے اجتماع سے خطاب کے موقع پر مسئلہ فلسطین کی اہمیت کو اجاگر کیا تھا اور کہا تھا کہ جلد ہی اسرائیل کو یہ قبضہ چھوڑنا ہو گا اس لیے اسرائیل ایران اور ترکی کو اپنی بقا کے لیے سب سے بڑا خطرہ متصور کرتا ہے۔

اسرائیل کے پاس جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی ہے، اس کا متحدہ عرب امارات اور بحرین سے تعلق بنانا بہت اہم ہے کیونکہ اسرائیل مشرق وسطی میں خود کو تنہا نہیں کر سکتا۔ مصر اور اردن بھی اسرائیل کے شدید خلاف ہیں۔ ایران کے خلاف شدید محاذ قائم کرنا اس کے لیے بہت اہم ہے، آذربائیجان نے اسرائیل کی مخالفت کی تو ترکی اور پاکستان نے اس کی حمایت کی۔

مسلم ممالک پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاکہ مسلم ممالک کے اتحاد اور اسرائیل کے خلاف ممکنہ جارحیت کو روکا جا سکے اور اس کی قومیت کو تسلیم کریں۔

جدید ٹیکنالوجی نے پوری دنیا کو عالمی گاؤں بنا دیا ہے جبکہ مسلم ممالک تیل اور معدنیات سے مالا مال ہیں اس لیے اسرائیل کو اپنی ضروتوں کی تکمیل کے لیے مسلم برادری کی حمایت درکار ہے جبکہ مسلم دنیا میں خلفشاری کی وجہ روس، برطانیہ اور فرانس ہیں جن کی پوری کوشش ہے کہ مسلمان کبھی متحد نہ ہو سکیں اور مسلمانوں کی اس کمزوری سے ہر طرح کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں مذہب، مسلک اور فرقہ وارنہ اختلافات اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اسرائیل جیسے ملک کو پنپنے کا موقع مل رہا ہے، ہر ملک کے اپنے مسائل ہیں؛ سیاسی، سماجی اور مذہبی، کوئی بھی ان مسائل سے مبرا نہیں لیکن اگر واقعی مسئلہ فلسطین حل کرنے میں مسلم ممالک سنجیدہ ہیں تو انھیں فرقوں، مسلک اور عقیدے سے بالاتر ہو کر سوچنا پڑے گا اور متحد ہو کر مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہی پڑے گا۔

مغربی ممالک جن میں کینیڈا، امریکہ، آسٹریلیا، آسڑیا، اٹلی، جرمنی اور جمہوریہ چیک وغیرہ شامل ہیں جو قیام اسرائیل پر زور دے رہے ہیں ان کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے آپس میں بھائی چارے اور اخوت کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

آج وقت کی اہم ترین ضرورت یہی ہے کہ مسلم ممالک اپنے مشترکہ دشمن کو پہچانیں، اپنے ذاتی، سیاسی مفادات اور خانہ جنگی کو پس پشت ڈال کر صرف فلسطینیوں کی آزادی کا سوچیں۔ مسلم دنیا کو فلسطین سمیت کشمیر، افغانستان، یمن، ایران، عراق اور برما پر ہونے والے مظالم کے خلاف یکجا ہو کر ان کو غیرقانونی اور ناجائز بربریت سے نجات دلانے میں اہم کردار ادا کرنا پڑے گا۔ جبکہ یہ ممالک بھی ایک دوسرے کے خلاف محاذآرائی کرنے سے پرہیز کریں، مسلم ممالک کا اتحاد پوری دنیا پر حکمرانی کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button