سیاستکالم

حقیقی آزادی مارچ: تبدیلی آنی ہے نہ آئے گی!

حمیرا علیم

اللہ اللہ کر کے آخرکار پی ٹی آئی کا لانگ مارچ راولپنڈی پہنچ ہی گیا۔

مجھے تو سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں لیکن مجھ سے چھوٹا بھائی عمران خان کا خاصا متحرک کارکن ہے۔ اور پی ٹی آئی کا ہر جلسہ بڑے خشوع و خضوع سے اٹینڈ کرتا ہے اس لیے آج بھی صبح دس بجے سے گھر سے نکلا ہوا تھا۔دوپہر میں کچھ دیر کے لیے گھر آیا اور پھر واپس چلا گیا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ابھی صرف خواتین مری روڈ پر پہنچی ہیں اور جو حضرات وہاں پر موجود ہیں وہ ان کے گرد بالکل ایسے ہی رقصاں ہیں جیسے شمع کے گرد پروانے۔

کل تک بقول اس کے اور دیگر کارکنان کے خان کا راولپنڈی آنے کا کوئی چانس نہیں تھا اس لیے روڈز بھی بلاک نہیں ہوں گی۔ مگر آج دوپہر میں جب لوگ سکستھ روڈ پر پہنچے اور باقی رہنماؤں نے تقاریر کیں تو خبر ملی کہ خان صاحب بھی ہیلی کاپٹر میں بس پہنچنے ہی والے ہیں چنانچہ بھائی صاحب نے زبردستی چھوٹے بھائی اور دوست احباب کو گھسیٹا اور پہنچ گئے سکستھ روڈ۔

وہاں پر کیا کچھ کہا گیا نہ تو میں نے بھائیوں سے پوچھا نہ ہی مجھے اسے جاننے میں رتی برابر بھی دلچسپی ہے کیونکہ مجھ سمیت ہر پاکستانی جانتا ہے کہ ہمارے سیاستدان جب تک اپوزیشن میں ہوتے ہیں عوام کا درد ان کے دل میں مستقل اٹھتا رہتا ہے؛ ان کو عوام کے ہر چھوٹے بڑے مسئلے کا بخوبی ادراک بھی ہوتا ہے اور ان کے پاس اس کا حل بھی موجود ہوتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ برسر اقتدار آتے ہی انہیں سب کچھ بھول جاتا ہے سوائے پچھلےحکمرانوں کی خامیوں اور ان کی کرپشن کے۔ اور ہم عوام ہر بار ٹرک کی بتی کے پیچھے لگ کر کبھی کے پی سے تو کبھی لاہور سے اسلام آباد پہنچ کر دھرنا دینے کو تیار ہو جاتے ہیں۔

بنا سوچے سمجھے شخصیات اور جماعتوں کو پوجنے میں مصروف عوام اپنے کام گھر بار چھوڑ کر ان جلسوں، جلوسوں اور لانگ مارچز میں جاتے ہیں اور اپنی جان تک گنوا دیتے ہیں مگر نہ تبدیلی آنی ہے نہ آئے گی۔

دنیا بھر میں جب بھی کوئی ملک کسی طاقت سے آزادی حاصل کرتا ہے تو روز افزوں ترقی کرتا ہے اور بہتر سے بہتر ہوتا ہے واحد پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جو پچھلے 75 سالوں سے دن بدن روبہ زوال ہے۔ اس کی کیا وجوہات ہیں سب ہی جانتے ہیں مگر ان وجوہات سے نجات کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔

لانگ مارچ کا ایجنڈا کیا ہے؟ وہی گھسا پٹا مطالبہ جو ہر معزول سابقہ حکمران سیاستدان کرتا ہے کہ موجودہ حکومت کرپٹ ہے، اس کو اتار کر ہمیں موقع دینا ہی واحد حل ہے۔ اور اگر ہم حکمران بنے تو آپ دیکھیے گا ہم پاکستان کو امریکہ بنانے دیں گے۔ (بالکل ایسے ہی جیسے شریف برادران نے پاکستان کو پیرس بنانے کے وعدے کیے مگر بنا وینس دیا تھا۔) ایسے ہی خان صاحب نے پاکستان کی تبدیلی کا دعوٰی کیا اور جیسے ہی وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھے خود تبدیل ہو گئے۔ بہرحال یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔

جلسہ کسی بھی جماعت کا ہو مجھے حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ ہمارے وہ باپ، بھائی، شوہر حضرات جو اپنے گھر کی خواتین کو ڈرائنگ روم میں موجود اپنے مرد دوستوں کے سامنے آنے کی اجازت نہیں دیتے ان جلسوں میں خواتین سمیت شامل ہوتے ہیں۔ جہاں کھوے سے کھوا چھل رہا ہوتا ہے، طوفان بدتمیزی پھیلا ہوتا ہے وہاں یہ تمام خواتین، جن میں سے زیادہ تر پڑھی لکھی اور اچھے خاندانوں سے ہوتی ہیں، بن سنور کے نعرہ زن تو ہوتی ہی ہیں ناچ گانے میں بھی بھرپور شرکت کر رہی ہوتی ہیں۔ اس وقت ان مردوں کی غیرت و حمیت کہاں سو جاتی ہے اللہ ہی جانے!

اور وہ مسلمان سیاستدان جو کہ ملک کو ریاست مدینہ میں تبدیل کرنے کے دعویدار ہوتے ہیں وہ بھی ان خواتین کو منع کرنے کی زحمت نہیں فرماتے کہ بی بی اللہ تعالٰی نے آپ کو گھروں میں ٹکنے، اپنی زیب و زینت چھپانے، نامحرموں سے اختلاط سے پرہیز کا حکم دیا ہے۔ اور جب آپ کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بازاروں کو بدترین جگہ قرار دیا ہے تو ان جلسوں کی اجازت کیسے ہو گی؟ بلکہ وہ انہیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔

ایسے تمام سیاستدان جن کے قول و فعل میں تضاد ہے کیا وہ اس قابل ہیں کہ ہم ان کی خاطر اپنی جانیں گنوائیں، اپنا وقت اور پیسہ ضائع کریں؟ ایسا اس لیے کہہ رہی ہوں کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان جلسوں، مارچز وغیرہ کو پارٹی رہنما یا مخیر کارکنان سپورٹ کرتے ہیں؛ کھانا، چائے، رہائش کا انتظام کرتے ہیں۔

بھولے لوگو! ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ آپ کی جیب سے ہی پیسہ نکلوا کر آپ کی خاطر تواضع کرتے ہیں اور اپنی واہ واہ کرواتے ہیں۔ میرے بھائی جب واپس آئے تو چند انچ کا پارٹی جھنڈا ٹائپ چیز کلائی پر لپیٹے تھے۔ میں نے پوچھا: “کیا یہ جلسے میں بانٹ رہے تھے؟” تو جواب ملا: “جی نہیں سو روپے کا خریدا ہے۔”

فرض کیجئے جلسے میں بیس ہزار لوگ آئے اور ان سب نے ایک ایک مفلر خریدا ہو تو سوچیے پارٹی نے کتنا کمایا ہو گا۔
اگرچہ مجھے معلوم ہے کسی پر بھی میری نصیحت کا کچھ اثر نہیں ہونا، کچھ لوگ مجھے اینٹی ڈیموکریسی تو کچھ عمران خان یا دوسرے سیاستدانوں کے خلاف کہیں گے مگر میں پھر بھی لکھوں گی ضرور کیونکہ حکم ہے کہ برائی کو دیکھو تو اسے ہاتھ سے روکو، اگر نہ روک سکو تو زبان سے روکو اور اگر یہ بھی نہ کر سکو تو دل میں برا جانو۔

الحمدللہ کہ میرے پاس جہاد بالقلم کا آپشن ہے اور بہت شکریہ ان ایڈیٹرز کا جو میری تلخ و ترش مگر سچی باتوں کو شائع کرنے کی جرات کرتے ہیں۔

خدارا! سنبھل جائیے، سمجھنے کی کوشش کیجئے! آپ کو کچھ نہیں ملنے والا اس لیے اپنی حالت خود بدلنے کی کوشش کیجئے! انفرادی سطح پر کرپشن کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ملک کی ترقی کے لیے جدوجہد کیجئے۔ شخصیت اور جماعت پرستی میں کچھ نہیں رکھا۔ اس سے تو بہتر ہے آپ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیجئے تاکہ وہ ہمارے حالات تبدیل فرمائے۔

اگر ہم نے اپنی یہی روش برقرار رکھی تو اللہ نہ کرے کہیں ہمارا حال بھی تباہ شدہ اقوام والا نہ ہو جائے اور ہم من حیث القوم صفحہ ہستی سے ہی نہ مٹا دیئے جائیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button