سیاستکالم

بجٹ، ضم اضلاع، ملکی اکانومی اور دعا

محمد سہیل مونس

اپنی آخری تحریر میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا تھا کہ سابقہ دور حکومت میں سابقہ فاٹا کے لئے جن مالی پیکجز کا اعلان کیا گیا تھا, کچھ پروجیکٹس پر کام کرنے کی حکمت عملی بھی ترتیب دی گئی تھی لیکن موجودہ حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے میں نے اللہ تعالیٰ سے خیر کی دعا مانگی تھی کہ خداوند کریم اب تو ان مثبت تبدیلیوں کو دوام دے کیونکہ ضم اضلاع کے عوام نے نہایت ہی کسمپرسی کا دور دیکھا ہے اور ساتھ میں دہشت گردی نے ان کی زندگیوں پر نہایت ہی منفی آثار چھوڑے ہیں، ان کا مداوا تو کم از کم ہو سکے۔

ایک جانب اگر دہشت و بربریت تھی تو دوسری جانب حکومتوں کی طوطا چشمی جس نے حالات کو بگاڑ کر رکھ دیا، اب جب کہ یہاں کے عوام کچھ نہ کچھ سکون کا سانس لے ہی رہے تھے کہ سیاسی ہلچل نے سارا مزہ کرکرا کر دیا۔ حکومت کیا بدلی مہنگائی کا رونا روتی موجودہ حکومت نے ان اضلاع کے ترقیاتی اور دیگر فنڈز پر کٹ لگا دیئے۔ ملکی معاشی حالات جیسے چل رہے ہیں تو ملک کی اکانومی صرف دعاؤں سے ہی چل سکتی ہے کیونکہ پچھلے 75 برس میں ملکی خزانہ میں کسی نے کچھ چھوڑا ہو تو تب بات بنتی۔ ایک طرف جون کا مہینہ جہاں سورج آگ برسا رہا ہے تو دوسری جانب نیا مالی سال اور پھر جون کے اوائل ہی میں بجٹ کا پیش کرنا ایسا ہی ہے جیسے قربانی کے بکرے کے سامنے چھری تیز کرنا۔

ہم اگر تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں تو معلوم ہو گا کہ پاکستان میں بجٹ محض اشیاء خوردونوش کی قیمتیں بڑھنے کا نام ہوتا ہے اس میں دور دور تک عوامی ریلیف کا سامان نہیں ملتا۔ اگر جون کی گرمی انسان کا پسینہ نکالتی ہے تو بجٹ ساتھ میں تیل بھی کشید کر لیتا ہے، عوام حواس باختگی کے عالم میں دیوانوں جیسی حرکتیں کرنے لگتے ہیں۔ اس طرح کی حالت میں عوام اس طرح کی حرکتیں بھی نہ کریں تو کیا کریں، خصوصاً اس بار تو عوام مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے اتنے تنگ آ گئے ہیں کہ قوت خرید ہی ساتھ چھوڑ گئی ہے۔

پہلے پہل بندہ اعلیٰ کوالٹی کی چیز افورڈ نہیں کر سکتا تھا تو ذرا سی غیرمعیاری سے گزارا چلا لیتا تھا لیکن اب تو قصہ بہت ہی بگڑ گیا ہے، نہ کوئی چیز اعلیٰ کوالٹی کی ملتی ہے اور نہ ارزاں نرخوں پر، ہر چیز کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ اب ان حالات میں حکومتیں اور عوام کیا کر سکتی ہیں ماسوائے اس کے کہ بقاء کی خاطر کچھ نہ کچھ جگاڑ لگا ہی لیا جائے ورنہ چادر اتنی شرنک ہو گئی ہے کہ نہ سر چھپ رہا ہے نہ پیر۔

چند دن پیشتر وفاقی حکومت نے مالی سال 23-2022 کا بجٹ پیش کیا جس میں ضم اضلاع کے ترقیاتی فنڈز پر 21 ارب روپے کا کٹ لگا لیا گیا۔ اگر دیکھا جائے تو رواں مالی سال ترقیاتی منصوبوں کے لئے 131 ارب روپے مختص ہوئے تھے جس میں موجودہ حکومت نے کمی کر کے اس کو 110 ارب کر دیا جس میں جاری اخراجات کی مد میں 60 ارب اور ترقیاتی فنڈز کی مد میں 50 ارب روپے مختص کئے گئے۔

اس سے میری پیشنگوئی اور دعاؤں کی توثیق ہوتی ہے کہ میرا اندازہ بالکل درست ثابت ہوا، اب اگرچہ جاری منصوبوں کی جلد تکمیل پر بھی اثر پڑے گا تو دوسری جانب یہاں کے عوام کی امیدیں بھی ماند پڑ جائیں گی۔ یہاں کے عوام ایک بار پھر سے انتظار کی سولی پہ لٹکتے رہیں گے اور ایک مزید نسل عملی زندگی میں پہنچ کر اپنے آپ کو بند گلی میں محسوس کرے گی کیونکہ ترقیاتی کاموں کا رکنا خوشحالی کے آگے بند باندھنے کے مترادف ہے۔ اس کا نتیجہ نہایت ہی بھیانک ہو گا، یہاں پھر سے امن و امان کے مسائل سر اٹھانے کے لئے تیار ہوں گے، لوگ اپنی بقاء کی خاطر کسی بھی غیرقانونی کام سے ہاتھ نہ روک پائیں گے جس کا اختتام بربادی اور رسوائی کے سوا کچھ بھی نہیں۔

ہم اس بجٹ میں سرکاری مفت خوروں اور فوج کے بجٹ میں چند فیصدی اضافہ کو بھی دیکھ رہے ہیں جس پر عوام حیرت زدہ ہیں خوش نہیں، کیونکہ ان ہی کے ٹیکسز کے پیسے اور بیرونی قرضوں کی مدد سے ہم اپنا بجٹ ترتیب دیتے ہیں لیکن اگر عوام کو ریلیف نہیں ملتا تو چند لاکھ لوگوں کی عیاشیاں پوری کرنے واسطے یہ تو سراسر زیادتی ہے۔ اس بارے ضرور غور ہونا چاہیے کیونکہ ہماری صحت اور ہماری تعلیم پاکستانی کرتا دھرتاؤں کا پہلے سے کوئی مسئلہ نہیں رہا اب ان ناگفتہ بہہ حالات میں تو عوام کی کسی کو فکر تک نہیں ہو گی۔

آج کے حالات سب مانتے ہیں کہ معاشی لحاظ سے بالکل بھی اچھے نہیں لیکن زیرک حکمران وہی ہوتے ہیں جو ملک کو اس طرح کے حالات سے نکال کر عوام کو سکھ کی نوید سنائیں، ان کو سہولتوں کی فراہمی کو ممکن بنائیں تاکہ ملک ترقی کی جانب جائے۔ گھٹن کی ایسی کیفیت میں تو انسان نہ مرتا ہے اور نہ جیتا ہے۔ بات پھر سے وہی قسمت پر آ جاتی ہے دیکھتے ہیں کہ مشکل کی یہ گھڑی کس طرح ٹلتی ہے اور ہم اس معاشی عدم استحکام سے کیسے نکل آتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کے اور خصوصاً ضم اضلاع کے باسیوں کی قسمت اچھی کرے کہ یہ معاشی عدم استحکام کا دور پھلک جھپکتے ہی ختم ہو جائے اور ہمارے یہ بھائی بھی سکھ کا سانس لے سکیں۔

monis
محمد مونس سہیل بنیادی طور پر ایک شاعر و ادیب ہیں، ڈرامہ و افسانہ نگاری کے علاوہ گزشتہ پچیس سال سے مختلف اخبارات میں سیاسی و سماجی مسائل پر کالم بھی لکھتے ہیں۔
Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button