سیاستکالم

امریکن صدر کی کال اور ہمارے صاحب اقتدار

ماخام خٹک

وزیر اعظم شہباز شریف نے کسی صحافی کے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ بائیڈن کی اگر کال آتی ہے تو بھی ان کا شکریہ اور اگر نہیں آتی تو بھی ان کا شکریہ! جواب اپنے باطن میں بہت سیاسی ہے بلکہ موقع محل کے حساب سے بڑا کرا بلکہ کرارہ بھی ہے، جذبات سے بھرپور جواب ہے، داخلی اظہار کی ایک فنکارانہ مزاحمت ہے لیکن خارجی طور پر فکری لحاظ سے ایک دلیل پر مبنی یا مدلل بیانیہ ہے جو پیغام سے بھی لدا پندا ہے اور اگر اس سے کسی پیغام کی نفی کرنا مقصود ہو تو بیان کو دوہری دھار کے طور پر بھی پرکھا اور سمجھا جا سکتا ہے۔

شہباز شریف گو کہ ہمیشہ جذباتی واقع ہوئے ہیں لیکن وزیراعظم بننے کے بعد عقل سے زیادہ اور جذبات سے کم کام لیتے ہیں۔ اب تقریر کے دوران نہ تو مائیکس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں اور نہ سٹیج کو گرانے اور مکا بازی کی عملی تفسیر نظر آ رہے ہوتے ہیں۔

امریکن صدر کی کال ہما کا سایہ جیسے ہوتا ہے جس پر سلام آیا اس کا بیڑا پار اور جس پر سلام نہیں آیا وہ بیچ چوراہے پر ساجھے کی ہنڈیاں پھوٹنے کے انتظار میں رہتا ہے جیسے کہ سابقہ حکومت جو آخری دم تک بائیڈن کی کال کی منتظر رہی لیکن کوئی کال نہیں آئی بلکہ ان پر ہاتھ کرنے کے الزامات بھی لگ گئے یعنی کال سے زیادہ ان کے ہاتھ لمبے تھے۔ کال تو نہیں پہنچی لیکن ہاتھ پہنچ گیا اور لمبے ہاتھ والے ہمیشہ اس خاصیت کا بروقت فائدہ اٹھاتے ہیں۔

امریکن کالز کی ہمارے صاحب اقتدار کے ساتھ تبادلوں کی ایک تاریخ ہے۔ جنرل ضیاء الق اور امریکن صدر کا کالز پر مشہور مکالمہ اب بھی تازہ ہے جب امریکن امداد کو پی نٹس سے تشبیہ دی گئی تھی بلکہ یہاں تک کہا گیا کہ وہاں سے کالز آتی تھیں پر ہہاں سے جواب پر تجاہل عارفانہ سے کام لیا جاتا تھا۔

شاید وہ وقت، دور اور تقاضے ہی ایسے تھے جب امریکن صدر کو تورخم پر کھڑے ہو کر اہل کتاب کا غیراہل کتاب سے جنگ یا جہاد کا نعرہ مستانہ بلند کرنے کی ضرورت پیش آتی تھی اور ہم ہوتے کہ پھولے نہیں سماتے تھے کہ جب اللہ چاہے تو کافر بھی جہاد پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور اس کو کسی غیبی معجزے اور امداد سے کم کے درجے پر فائز کرنے کے روادار بالکل نہ تھے۔ اور دوسری طرف ہماری اہمیت ساری دنیاؤں میں عموماً اور اس خطے میں خصوصاً مسلمہ اور تسلیمہ تھی۔ پھر وقت اور حالات تیزی سے بدلے، دنیائیں یک لخت بدل گئیں، پرانے دوست دشمن اور دیرینہ دوست غنیم کے لبادے میں سامنے آئے، دینا تو درکنار لینے کے دینے پڑ گئے؛ پریسلر ترمیم، پابندیاں، ایف سولہ پر چپ سادھ لی گئی اور ہماری سیاسی قیادت کی سیاسی کمزوری یا سیاسی مصلحت جاری و ساری رہی۔ حکومتیں بھی بدلتی رہیں اور سیاسی حکمت عملیاں بھی بدلتی رہیں۔

ہمیں پھر کالز آنی شروع ہو گئیں اور چھ سالہ طالبانی سرحد پار مہم جوئی میں ہماری اہمیت پھر جلوہ گر ہوئی لیکن اس بار اس کی قیمت ہمیں گزشتہ چالیس سالہ افغان جہاد کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ چکانی پڑی۔ ہماری اہمیت ایک بار پھر خطے میں بڑھی نہیں بلکہ مہا مہا کے بڑھی لیکن ہم اس کا اندازہ نہیں کر سکے یا پھر ہم نے انجانے یا جانے میں اتنا فشار لیا کہ ہم سنبھل ہی نہ سکے اور اس بار جو کال جنرل مشرف کو صدر بش نے کروسیڈ کے اعلان کے بعد کی جس میں کھلی ڈھلی دھمکی تھی واپس جانا ہے یا آگے بڑھنا ہے، پتھر کے زمانے میں جانا ہے یا پھر اینٹ کے زمانے میں رہنا ہے؟

مشرف جو سیاہ اور سفید کا واحد مالک تھا، اس نے سب سیاہ اور سفید امریکہ کے سپرد کیا، لوجسٹک سپورٹ کی آڑ میں امریکن، بلیک واٹر اور دیگر ملک کے چپے چپے میں گھمتے رہے۔ ائیر بیس، زمین، ڈرون اور ڈان سب ہمارے آقاؤں کی مانند ہم پر سوار رہے۔ ریمنڈ ڈیوس جو دن دیہاڑے قاتل کا روپ دھارتے ہیں اور یکایک عدالت پروسیڈنگ کے زریعے راضی نامے کے بعد چھوڑ دیئے جاتے ہیں، فون کالز تو اس دوران بھی ہوئی ہوں گی لیکن امریکن صدر کے نہیں، یہ نیچے لیول کے بہی خواہوں کی ہوں گی۔

شاید ایک بار پھر ہم تجربہ کر رہے تھے، بدلتے حالات میں ہم بھی سیاسی قبلہ و کعبہ بدل رہے تھے لیکن سیاسی امام کو آگے تو کر دیا، صف بندی بھی دکھائی لیکن اقامت اور مقتدی بننے کے لئے کوئی نہیں تھا۔ جب امام نے سلام پھیرا تو پیچھے صف میں کوئی نہیں تھا۔ اور سیاسی امام اکیلے اس سیاسی تبدیلی کے مرتکب قرار پائے، گو کہ وہ کہتے رہے کہ میں اس مہم جوئی میں اکیلے نہیں تھا پر اب دیر ہو چکی تھی۔ گلہ اور وضاحت بھی نہیں کر سکتے تھے کیونکہ فون کالز کا سلسلہ پہلے سے منقطع تھا، سب کچھ راتوں رات بدل گیا۔  وجوہات تو بہت ساری تھیں لیکن اس وجہ کو فوری وجہ گردان کر پھر سے سیاست شروع ہوئی لیکن اس بار فون کالز کے بجائے عوامی کالز پر اکتفا کیا گیا۔

دوسری جانب نیا سیاسی سٹ اپ بنا اور وہ ایک بار پھر فون کالز کے انتظار کے لئے قدم رنجہ فرمانے لگے۔ اور اس بات کی دہائی اگر کھلم کھلا نہیں دے سکتے تو کسی صحافی حضرت کے پوچھنے پر پہنچائی گئی۔ لیکن "بیگر کانٹ بی چوزر” صابر شاکر ہیں، خدا مست ہیں، قلندر ہیں، مجذوب، قطب ہیں، ابدال ہیں لیکن بغیر کسی سیاسی اذن کے ہر حال میں خوش رہتے ہیں کوئی کال کرے تو تب بھی اور اگر کوئی کال نہ کرے تب بھی!

اقبال شاہ ایڈووکیٹ پیشے کے لحاظ سے وکیل اور سندھ ہائی کورٹ میں پریکٹس کرتے ہیں۔ شعر و ادب سے بھی علاقہ ہے اور ماخام خٹک کے قلمی نام سے شاعری کے علاوہ مختلف اخبارات و رسائل کے لئے بھی لکھتے ہیں۔
Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button