سیاستکالم

نومبر گو کہ قریب ہے پر ہنوز دور است

ماخام خٹک

سیاسی پنڈت اور سیاسی جغادری اس وقت مختلف رائے اور الگ الگ نقطہ نظر کے خانوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ایک فریق اس بات پر رطب اللسان ہیں کہ عمران خان نومبر سے پہلے پہلے دوبارہ الیکشن کروا کر وزیراعظم کی سیٹ پر بڑی یا واضح اکثریت سے براجمان ہوں گے جبکہ دوسرے فریق کا خیال ہے کہ وہ نومبر تک تو کیا آنے والے الیکشن میں بھی اپنی کامیابی کو بھول جائیں۔

ویسے اگر دیکھا جائے تو الیکشن کمیشن بھی پہلے سے یہ کلیئر کرا چکا ہے کہ آنے والے چار مہینوں میں الیکشن کا متحمل نہیں ہو سکتا لیکن جس وقت الیکشن کمیشن نے یہ کہا تھا تو اس کا بھی مہینہ قریباً ہونے والا ہے اور اس حساب سے اگست تک کا وقت بنتا ہے باقی نومبر تک دو مہینے اور نومبر کے ساتھ تین مہینے کا وقت بچتا ہے۔ لیکن کیا اپوزیشن واقعی الیکشن کے لئے نومبر سے پہلے پہلے تیار ہیں یا تیار ہو جائیں گے؟ حکومت اور اپوزیشن کے لئے نومبر بنیادی طور پر کیوں ضروری ہے، ایسی کون سی تبدیلی وقوع پذیر ہونے والی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے لئے اتنا اہمیت کا حامل ہے؟

بات دراصل یہ ہے کہ فوج کی بار بار یقین دہانی کے باوجود کہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق یا سروکار نہیں لیکن سیاسی حلقوں، عوام اور خواص کے مشاہدے اور تجربے نے کئی بار اس یقین دہانی کو تہہ تیغ ہوتے دیکھا، متعدد بار دھاندلی، پنکچر، سلیکٹڈ جیسے القابات اور خطابات کی گونج اپنے گناہگار کانوں سے سنی۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر ایک کام بظاہر نہ سہی لیکن درپردہ ہوا ہی کسی خاص مقصد کے لئے ہو تو پھر اس مقصد کو پورا نہ کرنے کی بے وقوفی کون کر سکتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو موجودہ اپوزیشن کے لئے نومبر سے پہلے پہل حکومت کا حصول ان کے سیاسی وارے میں ہے جبکہ حکومت کے لئے نومبر کے بعد کا عرصہ اور صورت حال سوٹ کرتا ہے۔ نومبر سے پہلے اگر موجودہ اپوزیشن حکومت میں آتی ہے، دور دور تک جس کے آثار دکھائی نہیں دیتے لیکن فرض کر لیتے ہیں کہ اگر اپوزیشن کامیاب ہوتی ہے تو پھر موجودہ حکومت کے لئے سب کچھ تلپٹ ہو جائے گا اور فوج میں بھی جو تبدیلی آنے والی ہے وہ، وہ نہیں ہو گی جو اِس وقت قیاس کی جا رہی ہے اور موجودہ حکومت بڑی مشکلات میں گر سکتی ہے بلکہ من جملہ پی ڈی ایم ملیامیٹ ہو جائے گی۔

لیکن اگر نومبر میں الیکشن نہیں ہوتے تو موجودہ اپوزیشن کے لئے کڑا امتحان ہے شاید پھر اپنا وجود بھی برقرار نہ رکھ سکے اور کئی حصوں یا کئی دھڑوں میں اس کے تقسیم ہونے کا اندیشہ ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پھر شاید موجودہ اپوزیشن اپنی شناخت یا پاپولر سیاسی پہچان ہی سرے سے کھو بیٹھے اور پھر اٹھ ہی نہ سکے۔

موجودہ اپوزیشن کو عدلیہ اور عسکری قیادت دونوں سے گلہ ہے کہ ان کی حکومت گرانے میں ان کا ہاتھ ہے یا اگر ہاتھ نہیں تو بچانے کے لئے بھی ان کی پشت پر ہاتھ نہیں رکھا اور گرنے کے وقت ان کو گرنے دیا بلکہ موجودہ حکومت کا ساتھ دیا۔ اب اگر اس سب صورت حال کا غیرجانب دار ہو کر تجزیہ کریں تو اپوزیشن اور حکومت دونوں ایک ہی پلیٹ فارم پر کھڑی نظر آ رہی ہیں اور دونوں ایک مخصوص تیزگام کے منتظر ہیں، ٹکٹ دونوں نے ریزرو کئے ہیں، منزل مقصود تک دونوں کو پہنچنا ہے اور دونوں اسی تیزگام کی بوگیوں میں بیٹھ کر پہنچنا چاہتے ہیں لیکن پھر بھی جب یہ سٹیشن پر پہنچتے ہیں تو ایک دوسرے کو تیزگام کے سفر یا تیزگام کے سہارے یا تیزگام کی بوگیوں یا کندھوں پر بیٹھ کر پہنچنے کے طعنے دیتے ہیں حالانکہ اس سفر میں فرق صرف بوگیوں کا ہوتا ہے۔

البتہ یہ بات ضرور ہے کہ تیزگام کے لئے متعدد پسنجر ٹکٹ کٹا کر کھڑے ہوتے ہیں لیکن تیزگام میں سیٹس نہ ہونے کی وجہ سے بہت سارے سیاسی پسنجر رہ جاتے ہیں وہ پھر اپنی مدت آپ کے تحت منزل مقصود تک پہنچنے کی تگ و دو کرتے ہیں وہ بھی دراصل تیز گام ہی کے پسنجر ہوتے ہیں لیکن اویٹڈ اور جب پہنچ جاتے ہیں تو ان کی بھی اتنی ہی اہمیت ہوتی ہے جتنی اوروں کی۔ اب اگر ذرہ سا اس علامتی سحر سے نکل کر واقعاتی حقیقت کی طرف آئیں تو اپوزیشن اور حکومت دونوں اس حمام میں ننگے نظر آ رہی ہیں یہ اور بات کہ ان کو دوسرا تو ننگا نظر آ رہا ہوتا ہے پر خود کو سات پردوں میں لپٹا اور سمٹا ہوا سمجھتے اور محسوس کرتے ہیں اس لئے جب یہ اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو حکومت کو منظور نظر یا سلیکٹڈ کہتے ہیں اور جب حکومت میں ہوتے ہیں تو خود کو ہر چیز سے ماورا گردانتے ہیں۔

نتیجہ یہ کہ اگر دونوں نومبر کی تبدیلی پر انحصار کر رہے ہیں تو پھر ایک دوسرے کو سلیکٹڈ اور منظور نظر ہونے کے طعنے کیا معنی رکھتےہیں بس پوزیشن بدلنے کا تفاوت ہے، امید دونوں رکھتے ہیں اور جو امید رکھتے ہیں تو وہ جن سے امید رکھتے ہیں ان کے امیدوار بھی ہو سکتے ہیں تو جو پہلے سے سلیکٹڈ ہوں وہ کیسے ایلیکٹڈ نہیں ہوں گے اور جو بعد میں ایلیکٹڈ ہوں وہ کیونکر سلیکٹڈ نہیں ہوں گے۔ بس اگر سچ ہے تو یہ کہ نومبر قریب تو ہے پر ہنوز دور است!

اقبال شاہ ایڈووکیٹ پیشے کے لحاظ سے وکیل اور سندھ ہائی کورٹ میں پریکٹس کرتے ہیں۔ شعر و ادب سے بھی علاقہ ہے اور ماخام خٹک کے قلمی نام سے شاعری کے علاوہ مختلف اخبارات و رسائل کے لئے بھی لکھتے ہیں۔
Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button