تعلیمکالم

اکیسویں صدی اور سابقہ فاٹا میں تعلیم پہ مارا گیا شب خون

محمد سہیل مونس

ضم شدہ اضلاع کی پسماندگی اس اکیسویں صدی میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے، جو کل بھی تھی اور آج بھی ہے۔

ہم اگر سامراجی قوتوں کا رونا روئیں تو بجا ہے لیکن ایک آزاد ملک کے حصول اور پھر کشمیر کی آزادی کے لئے اوائل کے دور کی جنگوں میں جان کے نذرانے پیش کرنے والے قبائل کے ساتھ یہ بہت بڑی زیادتی تھی کہ انھیں ہر طرح سے اندھیرے میں رکھا گیا۔ ان کے پاس بنیادی انسانی ضرورتوں کی پہلے سے کمی تھی جبکہ آمدن کے ذرائع بھی کمیاب تھے، نہ حکومتوں نے کبھی بروقت ان کی مدد کی اور نہ ان کو کبھی دل سے اپنا جانا۔ خیر پچھلی صدی کے اواخر میں یہاں کے انفراسٹرکچر پہ تھوڑی بہت توجہ دی گئی کچھ صحت اور حصول علم کے مواقع ہاتھ آئے ہی تھے کہ دہشتگردی نے دروازے پہ دستک دی۔

اگرچہ پرائی لڑائیاں سر لینا ہمارا پسندیدہ مشعلہ تھا لہذا اس بار وار آن ٹیرر کے نام پر ہم دوسروں کے مفادات کی جنگ میں کود پڑے اور خود کو فرنٹ لائن اسٹیٹ قرار دے کر ضم شدہ علاقوں کو تباہ و برباد کر ڈالا۔ ان علاقوں کی تباہی تو ایک طرف اہل علاقہ اپنے ہی ملک میں ہجرت کرنے پہ مجبور ہوئے، ان لوگوں نے بڑی سختیاں دیکھیں، بڑے مصائب اٹھائے، یہ تک وزیرستان کے دوستوں سے کہتے سنا کہ ہمارے گھر اور حجروں کی اینٹیں، سریاء ہم نے ڈیرہ اسماعیل خان اور گھر کے استعمال کی چیزیں جیسے فریج، کولر، ایئر کنڈیشنرز ، قالین وغیرہ ہم نے پنڈی کے ٹن چ باٹا مارکیٹ میں فروخت ہوتے دیکھے۔

اس تباہی کے بعد عالمی ڈونرز اور جو اسلامی ممالک اس فساد کو قبائل کی دہلیز تک لانے میں پیش پیش تھے انھوں نے قبائل کی آباد کاری اور دیگر شعبوں میں مدد کے لئے اربوں روپے کی امداد دی، اس میں سے کتنی رقم قبائل کی آباد کاری پہ صرف ہوئی اور کتنی غائب کر دی گئی یہ علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔

ہم اگر تمام آلام اور مصائب کو ایک جانب رکھ کر صرف تعلیم پہ حرف آنے کی بات کریں تو بات صرف اتنی سامنے آتی ہے کہ یہ قبائل کے ساتھ سراسر ناانصافی تھی کہ ان کی تعلیم پہ شب خون مارا گیا۔ سال دو ہزار گیارہ کے ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹس کے مطابق ان علاقوں میں کم و بیش چھ سو پچاس تک کے سکولوں کو مسمار کیا گیا جس کی واضح وجہ قبائل کو تعلیم جیسی روشنی سے محروم کر کے جہالت کی طرف انہیں دھکیلنا تھا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ پختونوں سے عموماً اور قبائل سے خصوصاً اللہ واسطے کا بیر رکھنا عالمی طاقتوں اور ان کے دم چلوں کا وطیرہ رہا ہے، یہ سب نہیں چاہتے کہ یہاں کے لوگ اوپر آئیں، اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد ملک کے بڑے اداروں کی بڑی بڑی نشستوں پہ براجمان نہ ہو جائیں۔ ایک بہت بڑی وجہ قبائل کو قومی دھارے سے دور رکھنے اور پھر انھیں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کی یہی تھی کہ ان کو تعلیم جیسی نعمت سے محروم رکھا جائے۔ ان وجوہات کی بنا پر سابقہ فاٹا میں دہشتگردوں کے ذریعے بے شمار درسگاہوں کو بارود کی نذر کر دیا گیا جس کے دو فائدے ہوئے: ایک جانب قبائل کی نسلیں اس اکیسویں صدی میں بھی علم کے حصول سے دور رہیں جبکہ ڈونرز اور دوست ممالک نے پیسہ دیا تو اس میں بھی مال بنانے کا موقع ہاتھ آیا۔

سال دو ہزار بارہ میں حکومتی اعداد و شمار کے مطابق چار سو سترہ سکول جن میں سے لڑکیوں کے ایک سو تینتیس سکولز نذر آتش ہوئے جن میں سے اٹہتر فوج اور باون ایجوکیشن کے محکمے نے دوبارہ تعمیر کرائے۔ اس کے بعد بھی آباد کاری ا ور تعمیر و ترقی کا کام جاری رہا لیکن اقتدار کی رسہ کشی کے کھیل نے ان مظلوموں کا جینا محال کئے رکھا۔ اس سیاسی بے چینی اور ماضی میں لئے گئے فیصلوں نے پوری دو نسلوں کو ذلیل و خوار کیا، یہ بات اپنی جگہ کہ ہم اگر افغان جنگ میں کسی کا ساتھ نہ دیتے تو تب بھی نزلہ ہم پہ گرتا اور اگر حصہ لے بھی لیا تو آج نتائج سب کے سامنے ہیں۔ جس طرح بھارت میں آزادی کے چند ہی برس کے اندر اندر تمام ریاستوں کو بھارت میں ضم کر دیا گیا وہی کچھ پاکستان میں ہوتا تو آج پاکستان کو یہ دن نا دیکھنا پڑتے۔

ہم نے اس طریقہ کار کو اڈاپٹ کرنے میں ستر برس لگا کر قبائل کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا۔ اگرچہ اس وقت کے حالات و واقعات کچھ اور تھے لیکن کم از کم ان علاقوں میں تعلیم اور شعوری آگاہی کے لئے بہت کچھ کیا جا سکتا تھا۔اگر ہم ماضی سے سیکھیں اور آئندہ کے لئے ایک ایسا لائحہ عمل تیار کر لیں جو بدنیتی اور فریب پر مبنی نہ ہو تو ہم پاکستان کو ایک روشن اور خوشحال پاکستان بنا سکتے ہیں۔

ہمیں سب سے اول یہ کرنا ہے کہ ان اضلاع کے قریہ قریہ میں علم کی روشنی پہنچا دیں، یہاں کے نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کریں، ان کو ان کے ہی علاقوں میں قیمتی پھتر، ماربل اور دیگر معدنیات کی کھوج کی تربیت دے کر تحقیق اور دریافت کے لئے تیار کیا جائے۔ ان کو بزنس اور مارکیٹنگ کے زریں اور جدید طریقے سکھا کر اس جوگہ بنایا جائے کہ یہ لوگ دنیا کے کونے کونے میں اپنی پراڈکٹس کے لئے مارکیٹ تلاش کریں اور وہاں سے اپنے ملک کے لئے زرمبادلہ کمانے کا سبب بن سکیں۔

سابقہ حکومت اگر چہ معاشی بحران کا شکار تھی لیکن ان علاقوں کی تعمیر و ترقی اور یہاں کے نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لئے اچھوتے منصوبے بھی شروع کئے جس میں سے قبائلی نوجوانوں کو آسان قرضوں کی دستیابی، مختلف قسم کے ہنر سکھانے کے لئے پراجیکٹس کا انعقاد اور اعلیٰ درسگاہوں میں ان کے لئے تعلیم کے حصول کا ممکن بنانا شامل تھا۔ اگر یہی سلسلہ موجودہ حکومت نے بھی جاری رکھا بلکہ اس سے زیادہ کے مراعات اور پراجیکٹس کا آغاز کیا گیا تو وہ دن دور نہیں کہ سابقہ فاٹا کے ہونہار نوجوان اپنی قابلیت کے بل بوتے پر اپنے نام کے ساتھ ساتھ ملک کا نام بھی روشن کریں گے۔

ہم ایک لحاظ سے وہ خوش قسمت قوم ہیں جن کے نوجوانوں کی آبادی پینسٹھ فیصد ہے، اگر کسی قوم کی آبادی کا کل پینسٹھ فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہو اور وہ بھیک مانگتی پھرے، قرضوں میں نتھنوں ڈوبی ہو اور آہ و فغاں کے علاوہ ان کو کوئی دوسرا کام نہ ہو تو ایسی قوم کے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ ہم نے مصمم ارادہ کر کے صرف اس قوم کے لئے ذرائع اور سمت کا بندوبست کرنا ہے، میرا ایمان ہے کہ پاکستان کی اس نسل کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کر کے جدید تحقیق کا دروازہ کھول دیا گیا تو آنے والے بیس سال میں ہم دیگر سیاروں پہ کمندیں ڈال رہے ہوں گے۔

monis
محمد مونس سہیل بنیادی طور پر ایک شاعر و ادیب ہیں، ڈرامہ و افسانہ نگاری کے علاوہ گزشتہ پچیس سال سے مختلف اخبارات میں سیاسی و سماجی مسائل پر کالم بھی لکھتے ہیں۔
Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button