لائف سٹائلکھیل

مرد سے نہیں معاشرے کے غلط رسوم و رواج سے لڑیں!

حمیرا علیم

چند دن پہلے خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں گرلز سائیکلنگ ریلی کا اہتمام کیا گیا۔ بین الاقوامی خاتون سائیکلسٹ ثمر خان نئے ضم شدہ اضلاع میں پہلی مرتبہ اس قسم کے ایونٹ کے انعقاد کی روح رواں تھیں۔ انہوں نے ریلی کے شرکاء کو ایک روزہ تربیت دی کیونکہ انہوں نے سائیکلنگ سیکھنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ تمام حصہ لینے والی لڑکیوں کے والدین کی پیشگی اجازت حاصل کی گئی تھی اور ان میں سے کچھ کی ماؤں نے بھی پورا دن اپنی بیٹیوں کو سائیکلنگ کا فن سیکھتے ہوئے دیکھا۔ ریلی تاتارا اسپورٹس گراؤنڈ میں منعقد کی گئی جہاں کچھ محدود تعداد میں خواتین تماشائیوں نے بھی شرکت کی۔

ثمر خان کے مطابق قبائلی علاقوں کا ماحول اس سے بالکل مختلف ہے جو انہوں نے اپنے دورے سے پہلے سنا تھا۔ قبائلی لوگ بہت تعاون کرنے والے اور اپنی بیٹیوں کو ایسی صحت مندانہ اور پیداواری سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت دینے کے خواہشمند ہیں۔ قبائلی لڑکیوں میں بڑی صلاحیت ہے اور انہیں کھیلوں کی بنیادی اور جدید سہولیات فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

ان کے اس بیان کو پڑھنے اور مختلف جماعتوں کے اس ریلی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو دیکھنے کے بعد میں سوچ رہی ہوں کہ کیا سائیکلنگ کر کے یا عورت مارچ کا حصہ بن کر ہی ہم وومن امپاورمنٹ کر سکتے ہیں؟ کیا اسلام نے ہمیں ہر کام کرنے کی مکمل آزادی نہیں دی؟ کیا کبھی کسی ایسی خاتون نے جو ان ریلیز یا مارچز کا حصہ ہے یا آرگنائزر نے یہ سوچا ہے کہ فیمینزم کی کیا تعریف ہے؟ کیا کبھی کوئی عورت مرد کی طرح ہو سکتی ہے؟ یا مرد عورت کے برابر ہو سکتا ہے؟ اگر تو آپ عورت ہونے پر فخر کرتی ہیں تو یہ فیمنیزم ہے۔ عورتوں کا مرد بننے کی کوشش کرنا فیمینیزم نہیں ہو سکتا۔

اگر کوئی عورت اپنے مرد کولیگ کے برابر پے مانگے تو یہ اس کا رائٹ ہے کیونکہ وہ اپنی پوری کوشش اور مہارت کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ لیکن اگر عورتیں مرد بننے کی کوشش کریں، ان جیسے کام کرنے کی آزادی چاہتی ہیں تو اس کا مطلب ہے وہ اپنے عورت ہونے پر شرمندہ ہیں۔ اگر کوئی عورت گھر کے کام کر رہی ہے، کھانا بنا رہی ہے، اسے گرم کر کے گھر والوں کو کھلا رہی ہے تو اس سے اس کی قدر کم نہیں ہو رہی کیونکہ وہ اپنے خاندان والوں کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔ اگر اسے بمطابق حدیث اس نیت سے کیا جائے کہ ہم کسی بھوکے کو کھانا کھلا رہے ہیں یا اپنے رشتے داروں کے حقوق ادا کر رہے ہیں تو یہ باعث ثواب بھی ہو گا۔

فیمنیسٹس اگر گھر کے کاموں کو اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتیں اور اسے ظلم سمجھتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ہم کھانا گرم نہیں کر سکتیں، تمہارے گندے موزے نہیں دھو سکتیں، تمہاری جسمانی ضروریات پوری نہیں کر سکتیں تو ذرا تصور کیجئے اگر آپ کے والد، بھائی، ماموں، چچا، شوہر اور بیٹا کہہ دے کہ ہم آپ کو مالی طور پر سپورٹ نہیں کر سکتے، آپ کے لیے گھر نہیں بنا سکتے، اسے فرنش نہیں کر سکتے، آپ کی ضروریات اور خواہشات پوری نہیں کر سکتے، جاب یا بزنس نہیں کر سکتے کیونکہ یہ ہم مردوں پر ظلم ہے، ہم کما کر آپ پر اور آپ کے بچوں اور گھر پر کیوں خرچ کریں، اس کا دسواں حصہ بھی ہم اپنی ذات پر لگائیں تو بھی زندگی بڑے آرام سے گزر جائے گی تو ان عورتوں کو کیسا محسوس ہو گا؟

فیمینسٹس کا کہنا ہے کہ مرد اس لیے کام کرتے ہیں کہ وہ اپنی عورتوں کو باہر نکل کر کام نہیں کرنے دینا چاہتے، انہیں انڈیپنڈنٹ نہیں ہونے دیتے تو بھئی آپ ان عورتوں کے بارے میں کیا کہیں گے جو ورکنگ وومن ہیں اور گھر کی کوئی ذمہ داری بھی نہیں اٹھاتیں اس کے باوجود ان کے گھر کے مرد ان کی ساری ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہیں۔ یقین مانیے عورتوں پر جو مظالم ہو رہے ہیں ان کی ساری ذمہ داری بھی عورتوں پر ہی ہے۔ اگر کہیں بیوی/بہو پر ظلم ہو رہا ہے تو وجہ شوہر یا سسر نہیں بلکہ ساس نندیں ہی ہوتی ہیں۔ اگر ہم مائیں اپنے بیٹوں کو عورت کی عزت کرنا، اس کے حقوق ادا کرنا سکھائیں تو کیا عورتوں پر ظلم ہو، ان کا ریپ ہو، انہیں جلایا جائے؟

ہماری مردوں سے کوئی لڑائی نہیں ہے کیونکہ وہ ہر رشتے میں ہمارے کفیل اور محافظ ہیں۔ ہماری لڑائی تو معاشرے کے ان غلط رسوم و رواج کے خلاف ہونی چاہیے جن کی وجہ سے ہمیں وہ حقوق حاصل نہیں جو اللہ تعالٰی نے ہمیں عطا فرمائے ہیں، جن کی وجہ سے مرد کو مرد سے زیادہ خدا بنا دیا جاتا ہے، جنہوں نے اس کے لیے ہر حرام کو جائز قرار دے دیا ہے۔

لیکن جو کچھ ہمارے ہاں ہو رہا ہے وہ نہ تو فیمینزم ہے نہ ہی مردوں کے خلاف احتجاج بلکہ یہ سیدھا سیدھا اللہ تعالٰی کے احکام کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ جب آپ گھر پہ رہنے، پردہ کرنے، گھر کے کاموں، شادی اور حقوق زوجیت ادا کرنے، بچے پیدا کرنے اور انہیں پالنے کو ظلم سمجھتی ہیں تو یاد رکھیے یہ سب کچھ اللہ تعالٰی نے آپ کے لیے مقرر کیا ہے نہ کہ کسی مرد نے۔

کیا آپ پریگننسی کے نویں مہینے میں محاذ جنگ پر دوبدو لڑائی کر سکتی ہیں، سیکورٹی گارڈ بن سکتی ہیں، کیا آپ شادی کے بغیر بچے پیدا کر کے باعزت کہلا سکتی ہیں، کیا آپ اپنے میل فیملی ممبران کے بغیر سروائیو کر سکتی ہیں،  اگر گھر میں کاکروچ، سانپ، چوہا یا چھپکلی نکل آئے تو خود مار سکتی ہیں، کیا مرد مزدوروں، ورکرز کے بغیر فیکٹری چلا سکتی ہیں، عمارات بنا سکتی ہیں، کراچی سے ڈرائیو کر کے ایک دن میں اسلام آباد جا سکتی ہیں؟ جنازہ اٹھا کر قبرستان لے جا کر قبر کھود سکتی ہیں؟

یقین مانیے ان چند کاموں کے کرنے سے ہی آپ قاصر ہیں تو باقی مردانہ ذمہ داریاں کیسے پوری کریں گی؟ اس لیے اپنے عورت ہونے کو سیلبریٹ کریں، خوش ہوں کہ اللہ تعالٰی نے ہمیں اتنی آسان اور آرام دہ زندگی سے نوازا ہے۔ لیکن اگر آپ اس زندگی سے تنگ ہیں اور مرد کو ظالم سمجھنے پر مصر ہیں اور اس سسٹم میں تبدیلی چاہتی ہیں تو گھر سے شروع کیجئے؛ اپنے بھائیوں اور بیٹوں کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جیسا مرد بنائیے تاکہ دوسری عورتوں کو آپ جیسی “ناانصافی” کا سامنا نہ کرنا پڑے، خدیجہ، عائشہ، سودہ رضی اللہ عنہما جیسی خواتین بنیے تاکہ آپ آئندہ آنے والی خواتین کے یے رول ماڈل بن جائیں۔ اگر یہ دونوں کام نہیں کر سکتیں تو فضول قسم کی ریلیز، مارچز اور نعرے لگانے سے بھی پرہیز کیجئے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button