لائف سٹائلکھیل

میں نے چپ کر تائیکوانڈو کی کلاسز لیں، گلگت بلتستان کی پہلی تائیکوانڈو بلیک بیلٹ پلیئر ثوبیہ رحمان

بشریٰ محسود

‘ 2012 سے جب میں بارہویں کلاس میں تھی تو ہراسمنٹ پر کام شروع کیا اور پھر آہستہ آہستہ مجھے سیلف ڈیفینس کا پتہ چلا کہ کیسے خواتین سیلف ڈیفنس کے ذریعے خود کو ہراسمنٹ سے بچا سکتی ہے اور اسی دوران مجھے تائیکوانڈو کا بھی پتہ لگا’ یہ کہنا ہے ثوبیہ رحمان کا جو گلگت بلتستان دینور سے تعلق رکھتی ہے۔

ٹی این این کے ساتھ بات چیت کے دوران ثوبیہ رحمان نے کہا کہ ایک عورت کے لیے یہ سب سیکھنا بہت ضروری ہے خاص طور پر اگر وہ گھر سے باہر کام کرتی ہو یا پڑھتی ہو۔

‘مجھے شوق ہوا کہ میں خود بھی تائیکوانڈو سیکھو اس پر گھر والوں نے مختلف ردعمل کا اظہار کیا یہ سب سیکھنے کی کیا ضرورت ہے اس لیے میں نے چپ کر تائیکوانڈو کی کلاسز لیں اور یہ کلاسز میں نے اپنے ایک جونیئر حسن علی جو کہ گلگت بلتستان کا ہے اس سے لی، 2018 میں تائیکوانڈو پلیئر کے طور پر سامنے آئی بہت سے نیشنل گیمز میں حصہ لیا گلگت بلتستان کی پہلی تائیکوانڈو بلیک بیلٹ پلیئر ہوں اور گلگت بلتستان تائیکوانڈو ایسوسی ایشن کی رکن ہوں اور مارچ 2021 میں فیمل ونگ کی پریزیڈنٹ بنی۔

تائیکوانڈو سیکھنے کا میرا مقصد ہی یہی تھا کہ پہلے میں خود سیکھوں اور پھر علاقے کے بچوں کو سکھاؤں کیونکہ بہت زیادہ بچے اور خواتین ہراسمنٹ کا شکار ہوتے ہیں اور بچے زیادتی کا شکار ہو رہے ہیں اغوا ہوتے ہیں اس لئے سیلف ڈیفنس اور تائیکوانڈو سیکھنا بہت ضروری ہے۔

 

اب میرا اپنا تائیکوانڈو کلب ہے شروع شروع میں لوگ اس کو اچھا نہیں سمجھتے تھے لیکن جب ہم لوگوں نے مقابلے جیتے گلگت بلتستان کا نام روشن کیا پھر لوگوں نے ہم کو قبول کیا اور اب تو لوگ خوداپنے بچوں کو ہمارے کلب لے کے آتے ہیں اور اب ہماری بچیاں ملک کی سطح پر کھیل رہی ہے دسمبر 2021 میں وزیرستان میں ہمارے مقابلے ہوئے اس میں ہماری بہت اچھی پوزیشن رہی۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار پاکستان میں COAS pakistan open intrernational taekwondo championship ہوا اسلام آباد میں جس میں 36 ممالک شامل تھے اس میں گلگت بلتستان کے بچوں نے سلور اور برونز میڈلز لیے اور پورے پاکستان اور گلگت بلتستان کا نام روشن کیا۔

دوسری جانب اسسٹنٹ ڈائریکٹر گلگت بلتستان اسپورٹس شاہ محمد کا کہنا ہے یہ جو ایونٹ ہوا نیشنل لیول پر اس میں ڈپارٹمنٹ نے اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے ان بچوں کو سپورٹ کیا اور انہوں نے گلگت بلتستان کا نام روشن کیا اور پورے پاکستان کا سر فخر سے بلند کردیا۔
انہوں نے کہا کہ انشاءاللہ گلگت بلتستان گورنمنٹ کی ترجیحات ہے کہ ان بچوں کو بہت زیادہ مواقعے فراہم کئے جائیں گے تاکہ نیشنل اور انٹرنیشنل لیول پر جی بی اور پاکستان کا نام روشن کر سکے۔

ثوبیہ رحمان نے مزید بتایا جب انسان کے پاس کچھ نہ ہو کرنے کا تو ڈپریشن منفی خیالات اور فرسٹریشن کا شکار ہو جاتا ہے اس لیے خود کو مصروف رکھنا بہت ضروری ہے اور جب انسان کھیل میں خود کو مصروف رکھتا ہے تو وہ ذہنی اور جسمانی دونوں سطح پر مضبوط رہتا ہے۔


خاص طور پر گلگت بلتستان میں خواتین بہت زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار ہے اور اکثر بچیاں اپنا وقت ضائع کرتی ہے لہٰذا ان کو چاہئے کہ وہ سیلف ڈیفنس اور غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لے تاکی ایک صحت مند شہری بن سکے۔
میں ایک سافٹ ویئر کمپنی چلاتی ہوں ( Mind software soulation) کے نام سے جس میں خاص طور پر معذور بچے، نشے کے عادی بچے ان کو ہم کام سکھاتے ہیں اور پھر ان کو دفتر میں کام بھی دیتے ہیں۔
بہت ساری خواتین کو کاروبار میں ہم مدد فراہم کرتے ہیں ان کو ٹرین کرتے ہیں کیونکہ بہت ساری خواتین ایسی ہیں جن کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہم کہاں پر بہترین اور کامیاب کاروبار کر سکتے ہیں بلتستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے یہاں کی خواتین باقی علاقوں کی نسبت بہت ہی مضبوط ہیں کیوں کہ ہمارا علاقہ پہاڑی ہے اور یہاں کا موسم بہت سخت ہوتا ہے۔
ثوبیہ رحمان نے کہا کہ کہ اگر تائیکوانڈو پر تھوڑی توجہ دی جائے تو یہ اولمپکس میں کھیلے جانے والا گیم ہے اس کھیل کے ذریعے ہمارے لوگ بہت آگے جا سکتے ہیں۔
اب حالات بدل رہے ہیں پہلے یہاں پر سہولیات کی کمی تھی اور بہت ہی کم لوگ کھیل کے میدان میں تھے اب ماشاء اللہ بہت ساری بچیاں کھیل کے میدان میں آ رہی ہے ۔یہاں پر سیاحت کو بھی کھیل کے ذریعے فروغ دیا جا رہا ہے جو کہ بہت خوش آئند بات ہے۔
ثوبیہ رحمان کا ماننا ہے کہ مشکلات کو پار کرکے ہی کامیابی ملتی ہے اس لئے میں کھلاڑیوں اور حکومت کے درمیان فاصلہ کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہی ہوں یہاں پر حکومت کو بتانے والے لوگ ہی نہیں ہیں کہ ان کو بتا سکے کہ ہماری مشکلات کیا ہے اور ہمیں کن چیزوں کی ضرورت ہے ۔اگر حکومت توجہ دے تو ہمارے لوگ بہت آگے جا سکتے ہیں اور گلگت بلتستان کا اور پاکستان کا نام روشن کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ مستقبل میں بھی خواتین کے حقوق کے لیے کام کرتی رہیں گی۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button