”پشاور میں پی ایس ایل میچز کے انعقاد کی تیاریاں جاری ہیں”

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے انڈر۔16 گیمز میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے خیبر پختونخوا کے کھلاڑیوں کے لئے ماہانہ اعزازیہ کا اعلان کیا ہے جس کے تحت گولڈ میڈل حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کو ماہانہ دس ہزار روپے، سلور میڈل حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کو ماہانہ آٹھ ہزار روپے جبکہ برونز میڈل حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کو ماہانہ پانچ ہزار روپے دیے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ کی متعلقہ حکام کو اعزازیہ پانے والے کھلاڑیوں کے اکاؤنٹس جلد فعال بنانے اور مارچ تک اعزازیہ کی رقم ان کے اکاؤنٹس میں منتقلی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ صوبائی حکومت کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے، انہیں کھیلوں کی معیاری سہولیات کی فراہمی اور مالی معاونت پر خطیر وسائل خرچ کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لئے محکمہ کھیل کے بجٹ میں کئی گنا اضافہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ مذکورہ کھلاڑیوں کو آگے بڑھنے کے بھرپور مواقع دیے جائیں گے، ان کے لئے کوچنگ کیمپس لگائے جائیں گے اور آئندہ بھی کھلاڑیوں کی معاونت اور حوصلہ افزائی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر متعلقہ حکام کو کھلاڑیوں کے کوچز کی معاونت کے لئے بھی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔

وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں انڈر ۔16 گیمز کے ونر کھلاڑیوں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے۔

صوبائی وزیر شہرام خان ترکئی، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی کامران بنگش، سیکرٹری کھیل عابد مجید، ڈائریکٹر جنرل سپورٹس کے علاوہ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے انڈر۔16 گیمز میں میڈل حاصل کرنے والے میل اور فیمیل کھلاڑیوں نے تقریب میں شرکت کی۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ان میں مختلف قسم کے سپورٹس کٹس بھی تقسیم کیے۔

تقریب کے شرکاء کو کھیلوں کے مذکورہ مقابلوں میں خیبرپختونخوا کے کھلاڑیوں کی کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبے میں اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل کھلاڑیوں کے انتخاب کے لئے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام منعقد کیا گیا تھا جس میں صوبے کے 35 اضلاع سے 1500 کھلاڑیوں نے شرکت کی، جن میں سے 200 کھلاڑیوں کو نیشنل چیمپین کے لئے منتخب کیا گیا تھا جنہوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر کھیلوں کے مختلف مقابلوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور میڈلز حاصل کیے۔

شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا کے 161 کھلاڑیوں نے انڈر۔ 16 گیمز میں میڈل حاصل کیے، جن میں 59 گولڈ میڈلسٹ، 34 سلور میڈلسٹ اور دیگر شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ شروع دن سے محکمہ کھیل پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں جس کا مقصد وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق کھلاڑیوں کو کھیلوں کی بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ سہولیات کی فراہمی اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے، ”یہ ایک نہ رکنے والا ترقی کا سفر ہے جو آگے بھی مزید بہتر انداز میں جاری رہے گا۔”

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے دروازے کھلاڑیوں کے لئے کھلے رہیں گے اور ان کی معاونت جاری رکھیں گے، صوبے کے شعبہ کھیل میں ترقیاتی اقدامات، کھیلوں کے انعقاد اور کھلاڑیوں کی فلاح و معاونت کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کی فہرست طویل ہے ۔

محمود خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے محکمہ کھیل کا بجٹ چند کروڑ سے بڑھا کر 21 ارب تک کر دیا ہے، جو حکومت کی صوبے میں کھیلوں کے فروغ کے لئے غیر معمولی دلچسپی کا عکاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع میں کھیلوں کے انفراسٹرکچر کی تعمیر و بحالی کے لیے ساڑھے سات ارب روپے رکھے گئے ہیں، صوبے کے تمام اضلاع میں سپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کی منصوبے کے تحت آٹھ اضلاع میں سپورٹس کمپلیکس قائم کئے جا چکے ہیں، جبکہ رواں مالی سال چار مزید اضلاع چترال، لکی مروت، ٹانک اور کرک میں سپورٹس کمپلیکس کے قیام کی منظوری دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ تحصیل کی سطح پر گراؤنڈز کی تعمیر کا سلسلہ بھی جاری ہے، جبکہ ریگی ماڈل ٹاؤن پشاور میں صوبے کا پہلا سپورٹس سٹی قائم کیا جائے گا جس کے لئے کنسلٹنٹسی ایوارڈ کی جاچکی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ تقریباً ایک دہائی پر مشتمل طویل عرصے کے بعد صوبائی حکومت نے صوبے میں نیشنل گیمز کی میزبانی کی ہے جسے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کیطرف سے کامیاب ترین گیمز قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح صوبائی حکومت نے انڈر ۔21 گیمز کا کامیاب انعقاد کیا ہے جو شرکاء کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا کھیلوں کا مقابلہ تھا، جس میں صوبے کے 35 اضلاع سے تقریباً 25 ہزار کھلاڑیوں نے شرکت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے دیگر شعبوں کی طرح کھیلوں کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں، کورونا کی دوسری لہر میں کمی آئے تو کھیلوں کی سرگرمیاں دوبارہ بحال کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس دفعہ صوبے میں 16 مختلف گیمز پر مشتمل انڈر ۔21 گیمز کا انعقاد کیا جائے گا جبکہ پشاور میں پی ایس ایل میچز کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے بھی انتظامات اور تیاریوں کو بروقت مکمل کرنے پر کام جاری ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button