افغانستان کرکٹ ٹیم کو پاکستان کے پہلے دورے کی باقاعدہ دعوت دے دی گئی

پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) نے پہلی مرتبہ افغانستان کی قومی ٹیم کو مکمل دورے کی دعوت دی ہے۔ افغان کرکٹ ٹیم کو پاکستان کے دورے کی دعوت وزیراعظم عمران خان کے افغانستان دورے کے فوری بعد دے دی گئی ہے۔

پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے کہا کہ ہم کوشش کریں گے اور اگر 2021 نہیں تو ہم 2022 کے سیزن میں سیریز کی منصوبہ بندی کرنے کی ضرور کوشش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین کرکٹ سیریز دونوں ممالک کے درمیان امن و محبت کا راستہ ثابت ہوسکتی ہے۔

مئی 2011 میں ایک افغان قومی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا تھا حالانکہ انہوں نے پاکستان کی دوسرے درجے کی ٹیم سے میچ کھیلے تھے اور ان میچوں کو فرسٹ کلاس کا درجہ نہیں دیا گیا تھا۔

وزیر اعظم جمعرات کو افغانستان تشریف لے گئے تھے جہاں انہوں نے تشدد میں کمی اور طالبان اور افغان افواج کے مابین جنگ بندی پر زور دیا تھا۔

افغانستان کی ٹیم عموماً دوسرے درجے ٹیموں جیسے آئر لینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ہانگ کانگ وغیرہ کو ہراتی رہی ہے لیکن گزشتہ کچھ سالوں میں ان کی کرکٹ میں واضح بہتری آئی اور کئی مواقعوں پر انہوں نے حریفوں کے چھکے چھڑا دیے۔

ایسا ہی کچھ گزشتہ سال انگلینڈ میں ہونے والے ورلڈ کپ سے قبل ایک دوستانہ مقابلے ہواتھا جب افغان ٹیم نے پاکستان کو شکست دی تھی جس کے بعد افغانستان بھر میں جشن منا گیا تھا اور مشین گنوں کے ذریعے کی گئی ہوائی فائرنگ کے خوف سے غیر ملکی سفارتخانوں میں سیکیورٹی لاک ڈاؤن لگا دیا گیا تھا۔

زیادہ تر افغانی اس کھیل سے 1980 کی دہائی میں اس وقت واقف ہوئے جب لاکھوں افراد اپنے آبائی ملک میں جنگ کے سبب اپنی سرحد سے محض 50 کلومیٹر دور پشاور ہجرت کر کے آئے۔

دونوں ملکوں کے درمیان اب تک بہت بین الاقوامی میچز کھیلے گئے ہیں تاہم دونوں ملکوں کے کرکٹ بورڈز کے مابین تعلقات مضبوط ہیں۔

وسیم خان نے کہا کہ ایک مضبوط افغانستان کا مطلب ایک مضبوط ایشین بلاک ہے لہٰذا پاکستان اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور افغان کرکٹ کی مدد کرے گا۔

افغانستان ورلڈ کپ 2023 کی سپر لیگ کے سلسلے میں تین ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کے لیے پاکستان کی میزبانی کرے گا جہاں ممکنہ طور پر یہ سیریز متحدہ عرب امارات میں منعقد ہونے کا امکان ہے۔

 

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button