سیاست

خواجہ سراؤں کیلئے مخصوص نشستوں کا معاملہ؛ پشاور ہائی کورٹ کا الیکشن کمیشن کو نوٹس

رفاقت اللہ رزڑوال

پشاور ہائی کورٹ نے خواجہ سراؤں کو صوبائی اسمبلی میں مخصوص نشستیں دینے کیلئے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرکے 10 جنوری کو اگلی سماعت کیلئے طلب کر لیا۔ رٹ میں استدعا کی گئی ہے کہ دیگر اقلیتوں، مرد و خواتین کی طرح خواجہ سراؤں کو بھی الیکشن میں حصہ دینے کی احکامات جاری کئے جائیں۔

ہائی کورٹ کی وکیل بتول رفاقت نے بتایا کہ ان کے موکل خواجہ سرا صوبیا خان سے ریٹرننگ افسر 8 فروری کے جنرل الیکشن میں حصہ لینے کیلئے کاغذات نامزدگی مرد کی حیثیت سے وصول کرچکے ہیں مگر ووٹ کے حق کے باوجود بھی ان کے لیے ٹرانسجینڈر کے طور پر مخصوص سیٹ مختص نہیں کی گئی ہے۔

بتول رفاقت نے ٹی این این کو اپنی استدعا کے بارے میں بتایا ” یہ چونکہ خواجہ سرا ہے اور جنرل الیکشن میں مرد یا خواتین حصہ لیتے ہیں تو اس لحاظ سے ان کے لیے اسمبلی سیٹ ٹرانس جینڈر کے نام پر مخصوص کیا جائے”
انہوں نے بتایا "عدالت ان کے ساتھ اس بات پر راضی ہوا ہے کہ ٹھیک ہے آئین میں خواجہ سراؤں کیلئے کوئی مخصوص سیٹیں مقرر نہیں کئے مگر یہ انکا حق ہے کیونکہ یہ ووٹ استعمال کرنے کا حق رکھتے ہیں تو اس حساب سے اسمبلی سیٹ پر الیکشن بھی لڑ سکتے ہیں”۔
بتول رفاقت نے عدالت کو دلائل دیتے ہوئے اپنی رٹ میں ٹرانسجینڈر ایکٹ 2018 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواجہ سراؤں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خود کو مرد، عورت یا خواجہ سرا ظاہر کرے لیکن اب تک صوبیہ کو چار دفعہ اپلائی کرنے کے باوجود بھی xشناختی کارڈ فراہم نہیں کیا گیا ہے۔

انکے مطابق آئین کے آرٹیکل 3 کے مطابق ہر شہری کو الیکشن لڑنے کا حق حاصل ہے بالکل ایسا ہی ٹرانسجینڈر پروٹیکشن ایکٹ کے تحت خواجہ سرا بھی مخصوص نشستوں سے الیکشن لڑ سکتے ہیں۔
وکیل بتول کے مطابق یہ کیس جسٹس وقار احمد کی عدالت میں سماعت کیلئے منظور ہوئی ہے جنہوں نے اپنے نوٹس میں الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرکے دس جنوری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
تعلیم کے اعتبار سے صوبیہ خان بی اے پاس اور خیبرپختونخوا کے خبر رساں ادارے ٹرائبل نیوز نیٹ کیلئے بطور میزبان اپنے فرائض بھی سرانجام دے رہی ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صوبیا خان کی پشاور سے صوبائی اسمبلی کے پی کے 81 پر منظور کئے ہیں۔
صوبیہ خان نے ٹی این این کو بتایا کہ ان کے کاغذات جنرل سیٹ پر وصول کئے گئے ہیں مگر اب تشویشناک بات یہ ہے کہ اگر انہوں نے الیکشن جیت لیا تو وہ کس طرف بیٹھے گا، مردوں کی سیٹوں پر یا خواتین؟ تو اس لئے میں نے ہائی کورٹ میں درخواست دے کر معاملے کو واضح کرنے کی استدعا کی ہے۔

پاکستان میں 8 فروری کو انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ انتخابات کا وقت ہونے کے ساتھ سیاسی گہما گہمی اور ہلچل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ہر سیاسی پارٹی اپنا منشور پیش کرنے کی کوشش کررہی ہے مگر صوبیا خان نے بتایا کہ وہ خواجہ سراؤں کے حقوق، انکو شناخت، تحفظ اور بنائے گئے قوانین پر عمل درآمد کیلئے جدوجہد کرے گی۔
انتخابات کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیم فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ کے ممبر ڈاکٹر نصراللہ خان نے ٹی این این کو بتایا کہ خواجہ سراؤں کا الیکشن میں حصہ لینا ایک قانونی عمل ہے مگر معاشرتی روئے ان کے سامنے مشکلات کھڑی کر دیتے ہیں۔
نصر اللہ کہتے ہیں "معاشرہ خواتین، مردوں، خواجہ سراؤں اور معذوروں کا ایک مجموعہ ہے اور پاکستان کے تمام معاملات میں حصہ لینا ان کا آئینی حق ہے۔ مجھے بہت خوشی ہوئی ہے کہ خواجہ سرا بھی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں مگر اداروں اور سیاستدانوں کو چاہئے کہ وہ معاشرے میں مثبت رویوں پر بھی کام کرے تاکہ یہ طبقہ بھی کھل کر اپنا آئینی حق استعمال کرے”۔
الیکشن کمیشن کے مطابق پاکستان میں خواتین اور اقلیتوں کی محصوص نشستوں کیلئے 28626 مرد اور خواتین کی تفصیلات جاری کئے ہیں مگر اس میں ٹرانس جینڈر امیدواروں کا ذکر شامل نہیں۔
2017 کے مردم شماری کے مطابق پاکستان میں 10 ہزار 418 خواجہ سرا رجسٹرڈ ہیں جن میں 1800 سے زائد افراد کی ووٹس رجسٹرڈ ہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button