سیاست

بلوچستان کے مرد خواتین سیاست دانوں کو ووٹ دینے کے لیے کیوں تیار نہیں؟

 

عزیز الرحمن سباؤن

کوئٹہ کے رہائیشی اقبال بلوچ کہتے ہیں کہ وہ اپنی پارٹی کی خاتون کنڈیڈیٹ کی بنسبت مرد کینڈیڈیٹ کو ووٹ دینا بہتر سمجھتے ہیں۔ “اگر خاتون کامیاب ہوتی ہے تو یہاں کے رسم و رواج کے مطابق ہم اپنے مسائل کے حل کے لئے بار بار ان سے ملنے نہیں جاسکتے۔ اس کی مثال ہمارے سامنے ہے پچھلی اسمبلی کی خاتون رکن سیاسی کام زیادہ تر اپنے گھر کے مردوں سے ہی کرواتی تھی” اقبال کے مطابق اسی لئے انہوں نے ابھی تک نہ خاتون امیدوار کو ووٹ دیا ہے اور نہ آگے دینے کا ارادہ ہے۔

2002 میں جب ملک میں پرویز مشرف کے دور حکومت میں الیکشن ہوئے تو پہلی بار الیکشن ایکٹ 2002 کے تحت پارلیمنٹ میں خواتین کے لئے مخصوص نشستوں کا کوٹہ 17 فیصد رکھا گیا تاکہ پارلیمنٹ میں خواتین کو نمائندگی کا موقع مل سکے اور بعدازاں الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 206 کے تحت سیاسی جماعتوں کو جنرل نشستوں پر خواتین کو 5 فیصد ٹکٹ دینے کا پابند کیا گیا۔ اس قانون سازی سے کسی حد تک خواتین کو پارلیمنٹ میں جانے کا موقع میسر آیا۔

الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 206 کی منظوری کے بعد گذشتہ الیکشن میں جنرل نشستوں پر ماضی کے مقابلے میں خواتین کو بڑی تعداد کو پارٹی ٹکٹ دیے گئے۔ اور 2018ء کے عام انتخابات میں بلوچستان کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے 37 خواتین نے جنرل نشستوں پر الیکشن لڑا تھا جن میں سے 24 سیاسی جماعتوں کی نامزد اور دیگر آزاد امیدوار تھیں۔ اس الیکشن میں صرف ایک خاتون امیدوار کامیاب ہوئیں۔

بلوچستان میں قومی اسمبلی کی 16 نشستوں پر چھ خواتین امیدوار سامنے آئیں جنہوں ںے کل 52 ہزار 666 ووٹ لیے۔ ان میں زبیدہ جلال کے 33ہزار 462 ووٹ تھے صرف یہی الیکشن جیت سکیں۔ خواتین امیدواروں کا ڈالے گئے ووٹوں (18 لاکھ 42 ہزار 844 ) میں سے حصہ 2.8 تھا۔ صوبائی اسمبلی میں جنرل نشستوں پر لڑنے والی خواتین کے نتائج اس سے بدتر تھے۔ بلوچستان اسمبلی کے لیے 31 خواتین میدان میں اتری تھیں جنہوں نے کل ملا کر 31 ہزار 439 ووٹ حاصل کیے جو ٹوٹل ڈالے گئے ووٹوں ( 17 لاکھ 90 ہزار 754) کا محض 1.76 فیصد بنتا ہے۔
پچھلے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں پر چناؤ میں ملک بھر سے 183 خواتین امیدواروں نے حصہ لیا تھا مگر صرف آٹھ ہی پارلیمان تک پہنچ سکی تھیں۔

کوئٹہ میں پچھلے دس سالوں سے سیاست میں فعال ثناء درانی ضلع کے ان چند خواتین سیاست دانوں میں سے ہیں جو اپنے سیاسی سرگرمیوں کیلئے وقتا فوقتا سفر کرکے اپنی سیاسی کمپئین چلاتی ہیں۔ ثناء درانی واحد سیاسی خاتون ہے جو بلوچستان میں اپنی سیاسی سرگرمیاں آزادانہ طور پر کرتی آرہی ہے۔

ثنا درانی جو پاکستان پیپلز پارٹی کے طرف سے سیاسی سرگرمیوں کا حصہ رہی ہے مگر ابھی تک اسمبلی کا حصہ نہیں بن پائی ہے۔ ان کو امید ہے کہ انہیں اس بار اپنی پارٹی کے طرف سے ٹکٹ ملنے کے بعد عام انتخابات میں مرد کینڈیڈیٹ کے شانہ بشانہ مقابلہ کریگی۔

ثنادرانی کے مطابق انکے علاقے میں ان سے پہلے نہ انکی پارٹی اور نہ ہی دوسری کسی سیاسی پارٹی نے خواتین کو جنرل نشست پر ٹکٹ جاری کیا ہے اور نہ ہی خواتین وٹرز کیلئے کوئی مخصوص کمپئین چلائی جاتی ہے۔
“خواتین ووٹرز مردوں کی بنسبت اگر میں کہوں زیادہ ہے تو غلط نہیں ہوگا مگر ہمارے یہاں ان کے لئے کوئی مخصوص طریقہ کار نہیں رکھا جاتا، پہلے پہل تو سیاسی پارٹیاں اپنی خواتین ورکز کو ٹکٹ نہیں دیتے اور دوسرا یہ کہ خواتین ووٹرز اپنا نظریہ اور سوچ کے برعکس اپنے گھر کے مردوں کے کہنے پر ہی ان پارٹیوں کو ووٹ دیتے ہیں جو مردوں کو پسند ہوتے ہیں میرے خیال سے خواتین میں شعور لانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ووٹ کاسٹ کرتے وقت اپنے مسائل کو مد نظر رکھ اپنے نظریے کے مطابق اپنے پسندیدہ کنڈیڈیٹ کو منتخب کرے”

ثنا درانی کے مطابق پارٹی کی طرف سے اگر چہ الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 206 کے تحت تمام سیاسی پارٹیاں خواتین ورکرز کو کم از کم پانچ فیصد ٹکٹ جاری کرنے کے پابند ہے مگر ان کو صرف انہی علاقوں سے ٹکٹ جاری کیا جاتا جہاں پر اس پارٹی کی ووٹر کی تعداد بالکل نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔

ثنادرانی کے مطابق پاکستان میں الیکشن لڑنے کیلئے لاکھوں فنڈز کی ضرورت ہوتی ہے جس وجہ سے زیادہ تر خواتین کنٹیڈیٹ مشکلات کا شکار ہوجاتی ہے۔ “کوئی بھی پارٹی جب بھی کسی کو ٹکٹ جاری کرتا ہے تو الیکشن لڑنے کے لئے کبھی بھی انہیں پارٹی کی طرف سے مالی معاونت نہیں دی جاتی۔ پہلے پہل تو ہمارے ہاں خواتین خود معاشی طور پر اس طرح خود مختار نہیں جیسے کہ مرد حضرات دوسرا اگر کوئی خاتون محنت کرکے الیکشن میں کھڑی ہوجاتی ہے تو دوسروں کے ساتھ ساتھ خود اپنی پارٹی کے مرد حضرات نہ صرف یہ پوچھتے ہے کہ آپ کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آئے اور کبھی کبھار تو وہ گھٹے پسے جملے بھی کس دیتے ہیں اور کبھی کبھار تو غیر اخلاقی الزامات بھی لگالیتے ہیں” ثنا درانی کہتی ہے کہ اسی لئے ان کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے دوسرے خواتین سیاست دان کوشش کرتی ہے کہ ان کی پارٹی کامیاب ہوکر وہ خواتین کے لئے مختص کی گئی سیٹوں کے تحت ہی اسمبلی جائے۔

2018 ء کے انتخابات میں قومی اسمبلی کی 272 اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کی 577 سمیت مجموعی طور 849 جنرل نشستیں تھیں۔ الیکشن کمیشن ریکارڈ کے مطابق پیپلز پارٹی نے قومی اور صوبائی حلقوں کےلیے کل 642 پارٹی ٹکٹ جاری کیے تھے جس نے خواتین امیدواروں کو سب سے زیادہ یعنی 43 ٹکٹ جاری کیے تھے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ویب سائٹ کے مطابق بلوچستان کے 34 اضلاع میں خواتین ووٹرز کی تعداد 21 لاکھ 86 ہزار کے قریب ہے اور بلوچستان کے 65 رکنی ایوان میں خواتین کے لئے 11 مخصوص نشستیں مختص ہیں۔ 2018 میں بلوچستان سمیت ملک بھر میں خواتین ووٹرز کا ٹرن آؤٹ کم رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق 2018 کے عام انتخابات میں بلوچستان کے 51 صوبائی حلقوں میں خواتین کا ٹرن آؤٹ 37.64 فیصد تھا۔

الیکشن کمیشن کے 20 جون تک کے ڈیٹا کے مطابق ملک بھر میں ووٹرز کی تعداد 12 کروڑ 60 لاکھ 66 ہزار 874 ہو گئی جن میں مرد ووٹر کی تعداد 6 کروڑ 80 لاکھ 99 ہزار 615 جبکہ خواتین ووٹرذ کی تعداد 5 کروڑ 79 لاکھ 67 ہزار 259 ہے اور اس تناسب سے ملک میں مرد ووٹرز کی شرح 54.02 فیصد اور خواتین ووٹرز کی شرح 45.98 فیصد ہے۔

غیر سرکاری تنظیم ‘سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ’ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ‘فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک’ (فافن ) کے ایگزیکٹو کونسل کا کہنا ہے کہ ماضی میں خواتین کو مردوں کو برابر لانے کے لیے اقدامات کیے گئے لیکن انھیں عام نشستوں پر مقابلے کا موقع دینے سے خواتین کے مسائل کے حل، ان کی سیاسی عمل میں شرکت اور فیصلہ سازی کے حوالے سے بہت مثت نتائج آئیں گے۔

“ایک خاتون جب معاشرے میں جائے گی وہ مردوں سے ووٹ مانگے گی تو اس کی کردار کے حوالے سے قبولیت بڑھے گی۔ سیاسی عمل میں اس کی شرکت میں اضافہ ہوگا”۔ اگر خواتین عام نشستوں پر کامیاب ہوں گی تو مسائل کے حل اور قانون سازی میں ان کا کردار ہوگا جو مجموعی طور پر معاشرے کے استحکام کی جانب مثبت اقدام ہوگا۔

2018ء کے انتخابات میں قومی اسمبلی کی 272 اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کی 577 سمیت مجموعی طور 849 جنرل نشستیں تھیں۔ الیکشن کمیشن ریکارڈ کے مطابق پیپلز پارٹی نے قومی اور صوبائی حلقوں کے لیے کل 642 پارٹی ٹکٹ جاری کیے تھے جس نے خواتین امیدواروں کو سب سے زیادہ یعنی 43 ٹکٹ جاری کیے تھے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق پچھلے انتخابات میں قانون کے مطابق ان سیاسی پارٹیوں کو نوٹسز بھیجوائے گئے تھے جنہوں نے پندرہ فیصد سے کم سیٹیں خواتین کو دی تھی۔ الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق اگر کسی پولنگ سٹیشن پر خواتین ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 10 فیصد سے کم رہا تو پولنگ کو کالعدم قرار دے کر دوبارہ ووٹنگ کروائی جائے گی۔

عورت فاونڈیشن کے سربراہ علاوالدین خلجی کہتے ہیں کہ ‘سیاسی جماعتیں اب بھی خواتین پر اعتماد نہیں کرتی ہیں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جن خواتین کو ٹکٹ ملے ہیں یہ انہیں ثابت کرنا ہو گا کہ وہ بھی کسی بھی مرد امیدوار کی طرح سیاست کے میدان میں اپنا لوہا منوا سکتی ہیں’۔

عورت فاونڈیشن کے سربراہ علاوالدین خلجی کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے عام نشستوں پر انتخابات لڑنے کے لیے پانچ فیصد خواتین کے لیے ٹکٹ لازمی قرار دیے جانے کے بعد جماعتوں نے ٹکٹ تو فراہم کیے ہیں لیکن یہ تاثر بھی عام ہے کہ خواتین کو ان حلقوں میں ٹکٹ دیے گئے جہاں سے ان جماعتوں کی جیت کے امکانات انتہائی کم ہیں۔
اور شاید اسی وجہ سے بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے چار صوبائی اسمبلی میں پچھلے تین الیکشن میں کوئی خاتون کینڈیڈیٹ کامیاب نہیں ہو پائی ہے۔

پاکستان میں سیاسی اعتبار سے صنفی تفریق میں صوبہ بلوچستان کو سرفہرست بتایا جاتا ہے۔ الیکشن 2018ء پر ووٹر لسٹوں سے لے کر امیدواروں کی نامزدگی اور نتائج تک کے اعداد و شمار اس دعوے کی تصدیق کرتے ہیں۔

نوٹ۔ یہ سٹوری پاکستان پریس فاونڈیشن کی فیلوشپ کا حصہ ہے۔ 

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button